Friday, 28 April 2017

پاکستان کی غیر پنجابی اشرافیہ اور اسکے گماشتے پریشان کیوں ھے؟

پکستان کے قیام کے بعد سے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں ' دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابیوں اور بلوچوں ' سینٹرل اور شمالی پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں ' خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں ' بلوچستان کے پٹھانوں اور بلوچوں کی اشرافیہ نے پاکستان کے اقتدار و اختیار پر قبضہ کیے رکھا۔ پاکستان کی سیاست و صحافت پر قبضہ کیے رکھا۔ جبکہ مختلف سیاسی چالوں اور حربوں کے ذریعے پنجاب کے پنجابی ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابی ' بلوچستان کے بروھی اور پنجابی ' سندھ کے سماٹ اور پنجابی ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر اپنا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم کیے رکھا۔ بلکہ پنجاب کے خلاف سازشیں اور شرارتیں کرنے میں بھی لگی رھی۔ جھوٹے قصے ' کہانیاں تراش کر پنجاب پر الزام تراشیاں کرتی رھی۔ گالیاں دیتی رھی۔ اپنے علاقوں میں پنجابیوں پر ظلم اور زیادتیاں کرتی رھی۔ اپنے علاقوں میں کاروبار کرنے والے پنجابیوں کو واپس پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتی رھی بلکہ پنجابیوں کی لاشیں تک پنجاب بھجواتی رھی۔ پنجاب کو بلیک میل کرنے کے لیے سندھ کی عربی نزاد سندھی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سندھودیش ' جنوبی پنجاب کی عربی نزاد پنجابی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سرائیکستان ' کراچی کی مھاجر اشرافیہ جناح پور ' بلوچستان کی بلوچ اشرافیہ آزاد بلوچستان ' خیبر پختونخواہ کی پٹھان اشرافیہ پختونستان کی سازشیں اور شرارتیں بھی کرتی رھی۔

بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے میں بلوچ اشرافیہ ‘سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے میں عربی نزاد اشرافیہ ‘ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' سینٹرل اور شمالی پنجاب میں پٹھان اشرافیہ ‘ کراچی میں اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ‘ مقامی سطح پر اپنی سماجی اور معاشی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ ھندکو ' بروھی اورسماٹ قوموں پر اپنا سیاسی اور انتظامی راج قائم رکھنا چاھتی ھے۔ اس اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات سے اتنی زیادہ غرض ھے کہ پاکستان کے اجتماعی مفادات کو بھی یہ نہ صرف نظر انداز کر رھی ھے بلکہ پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون لینے اور ان کے لیے پَراکْسی پولیٹکس کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتی۔ اس اشرافیہ کی عادت بن چکی ھے کہ ایک تو بروھی ' سماٹ اور ھندکو پر اپنا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی تسلط برقرار رکھا جائے۔ دوسرا کراچی ' دیہی سندھ ‘ خیبرپختونخواہ ' بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں رھنے والے پنجابی پر ظلم اور زیادتی کی جائے۔ تیسرا پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ چوتھا یہ کہ پاکستان کے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔

پاکستان کے قائم ھوتے کے بعد سے پٹھانوں کو پٹھان غفار خان ' بلوچوں کو بلوچ خیر بخش مری ' 1972 سے بلوچ سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کو عربی نزاد جی - ایم سید ' 1986 سے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو مھاجر الطاف حسین نے “Proxy of Foreign Sponsored Intellectual Terrorism”  کا کھیل ' کھیل کر اپنی “Intellectual Corruption” کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ کردیا تھا۔ اس لیے بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' سینٹرل اور شمالی پنجاب کی پٹھان اشرافیہ ‘ کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے پاکستان دشمنی کے اقدامات کرنے میں آسانی رھی اور اس نے اپنا وطیرہ بنائے رکھا کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دی جائیں۔ الزام تراشیاں کی جائیں اور اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی جائے۔

اب چونکہ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں سیاسی اغراض و مقاصد کے بجائے لسانی جذبات اور برادریوں کے مفادات کی بنیاد پر تشکیل پاچکی ھیں۔ اس لیے اس وقت صورتحال یہ ھے کہ؛

پاکستان مسلم لیگ ن پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ھے۔
پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی کی سیاسی پارٹی ھے۔

پاکستان تحریکِ انصاف پاکستان کی دوسری سب سے بڑی سیاسی پارٹی ھے۔
پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھانوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی پارٹی ھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کی تیسری سب سے بڑی سیاسی پارٹی ھے۔
پاکستان پیپلز پارٹی دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابیوں اور بلوچوں کی سیاسی پارٹی ھے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی چوتھی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ھے۔
متحدہ قومی موومنٹ کراچی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی پارٹی ھے۔

اس لیے پنجاب سے پنجابیوں کے ووٹ ' خیبر پختونخواہ سے ھندکو اور پنجابیوں کے ووٹ ' بلوچستان سے بروھیوں اور پنجابیوں کے ووٹ ' کراچی سے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ووٹ لیکر حکومت بنانے والی سیاسی پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن 2013 سے پاکستان پر حکومت کر رھی ھے۔ اس لیے پنجاب کے پنجابی ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابی  ' بلوچستان کے بروھی اور پنجابی ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی تو اطمینان اور سکون میں ھیں لیکن پاکستان تحریکِ انصاف کو ووٹ دینے والے خیبر پختونخواہ سے پٹھان ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے والے جنوبی پنجاب سے عربی نزاد پنجابی اور بلوچ ' دیہی سندھ سے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' متحدہ قومی موومنٹ کو ووٹ دینے والے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کو چونکہ پاکستان کے قیام کے بعد پہلی بار پاکستان کی وفاقی حکومت میں شمولیت سے مکمل محرومی کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے۔ جسکی وجہ سے انکے قائم کیے ھوئے سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط کو دھچکا پہنچ رھا ھے۔ اس لیے یہ اشرافیہ 2013 سے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف پرپیگنڈہ میں مصروف رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ناکام حکومت قرار دیتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت پر الزامات لگاتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف سازشیں کرتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کی کوششیں کرتی رھتی ھے۔ بلکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کے لیے پاگل ھوتے جا رھی ھے۔ لہذا خیبر پختونخواہ کے پٹھان ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابی اور بلوچ ' دیہی سندھ کے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدان ' سیاسی کارکن ' سماجی کارکن ' دانشور ' تجزیہ نگار ' اینکر  اور صحافی ھر وقت بے چین اور پریشان رھتے ھیں کہ وہ نہ اپنی اپنی اشرافیہ کے سیاسی اور انتظامی تسلط کو بحال کروا پا رھے ھیں۔ نہ اپنا اور اپنی اپنی اشرافیہ کے سماجی اور معاشی مفادات کا تحفظ کر پا رھے ھیں۔