Monday, 10 April 2017

سرائیکی صوبے نے پی پی کا الیکشن ڈبو دیا تھا۔ وصی بابا 10-04-2017

سرائیکی صوبہ وہ لڈو تھا جو پی پی نے ووٹر کو دے کر پچھلا الیکشن جیتنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہی لڈو پھر گلے میں ایسے پھنسا کے پی پی کا پنجاب میں دم ہی نکل گیا۔ منصوبہ ہرگز برا نہیں تھا بلکہ سیدھا سادہ سا تھا۔ حالات کے مطابق تھا، کپتان بظاہر تب مسلم لیگ نون کو آگے لگاتا دکھائی دینے لگا تھا۔ پی پی کا خیال یہی تھا کہ کپتان سنٹرل پنجاب میں مسلم لیگ نون کا ووٹ لے اڑا ہے۔ سرائیکی بیلٹ میں سرائیکی ووٹر اپنے صوبے کا خواب دیکھ کر مدہوش ہو جائے گا۔ پی پی میدان مار لے گی دوبارہ حکومت بن جائے گی۔

جب الیکشن جیتنے کی یہ گیم پلان کی گئی تھی تب صدر وزیراعظم دونوں کا تعلق پی پی سے تھا۔ دونوں ہی سرائیکی تھے۔ گیلانی صاحب تو معلوم سرائیکی ہیں کہ صدیوں سے ملتانی ہیں۔ سندھ میں آباد زرداری قبیلہ بھی زیادہ تر سرائیکی ہی بولتا ہے۔ دو بااختیار سرائیکی اپنی سیاست کو پنج ست چاند تو لگا ہی لیتے اگر سرائیکی صوبہ گھڑنے میں کامیاب ہو جاتے۔ دونوں نے جی جان سے کوشش بھی کی کہ وہ سرائیکی صوبے کو الیکشن ایشو بنا ہی لیں کسی طرح۔

بھولپن کو مسلم لیگ نون کی قیادت کا ٹریڈ مارک اس کے مخالفین تو سمجھتے ہی ہیں ۔ اس کے اپنے حامی بھی اپنی قیادت کو بھولو ہی سمجھتے ہیں۔ یہ بھولو تاثر مسلم لیگی قیادت اپنی مرضی سے حسب ضرورت بہت بروقت، بڑے طریقے سے اپنے حق میں استعمال کرتی ہے۔ سرائیکی صوبہ کا ایشو جب زور پکڑنے لگا تو مسلم لیگ نون نے باقاعدہ کوشش کر کے یہ تاثر دیا کہ اسی ڈر گئے آں یعنی ہم ڈر گئے ہیں۔ سرائیکی صوبہ ہمیں ڈبونے لگا ہے۔ ایک افراتفری سی مچی ہوئی تب مسلم لیگ نون میں صاف دکھائی دیتی تھی۔

مسلم لیگیوں کے یہ حالات دیکھ کر پی پی والے مزید شیر ہو گئے۔ انہوں پھٹے بھن مہم چلا دی۔ مسلم لیگ ق نے سرائیکی صوبے کی کھلی اور بھرپور حمایت شروع کر دی۔ چوھدریوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ جٹ پنجاب اور پنجابی کو ایک ہی سمجھا جاتا ہے۔ چوھدریوں کی کھلی حمایت نے ان کی اپنی سیاست تو ڈبو ہی دی کہ ان کی اپنی جاٹ برادری نے اس مہم کا کوئی اچھا اثر ہر گز نہیں لیا تھا۔ اس مہم جوئی کا بالکل الٹا اثر ہوا کہ پنجابی ووٹر ایک بلاک کی صورت میں اکٹھا ہونا شروع ہو گیا تھا۔

ویسے تو مبالغے کرنے میں پاکستان کا کوئی باشندہ بھی کسی سے گھٹ نہیں ہے۔ لیکن سرائیکی بھائیوں کی اس حوالے سے بھی شان و شوکت ہی الگ ہے۔ فقیر حال پھٹے کپڑوں میں کوئی ملنے آ جائے تو اسے بھی دعا دیں گے کہ جا پتر بادشاہ ہوویں، شالا نظر نہ لگے۔ حالانکہ اس غریب کو نہ نظر لگنے کا کوئی امکان ہوتا اور نہ دنیا کے اتنے بیڑے غرق ہوئے ہوتے ہیں کہ وہ بادشاہ ہی بن جائے۔

سرائیکی صوبے کی حد بندی کہاں تک کرنی ہے یہ ایک اہم سوال تھا۔ اصولا تو لکیر کلکتہ سے ماسکو کے آس پاس کہیں لگانی چاہئے تھی۔ پر کاغذ پر اتنی لمبی لکیر لگاتے تھکاوٹ کا اندیشہ تھا اس لیے اس سے گریز کیا گیا۔ کسی دریا طبعیت سیانے نے دریا سندھ کے دوسرے نام اباسین کو بھی سرائیکی میں ابا سئیں بتا کر تبت کی جانب دھیان ڈلوانے کی بھی کوشش کی۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے سندھ کو ابا سئیں بول کر دریاؤں کا ابا بتایا جا رہا تھا، سرائیکی دانشور نے دریا کے اپنا ابا ہونے کا دعوی ہر گز نہیں کیا۔ تبت کی قسمت اچھی تھی وہ بچ گیا۔ گلگت بلتستان بچ گیا، ہزارہ کو بھی چھوڑ کر مہربانی کی گئی۔ ڈیرہ اسماعیل خان ٹانک کے سرائیکی بھی دل بڑا کر کے قربان کر دیے گئے۔

بارکھان بلوچستان میں بھی سرائیکی بولی جاتی ہے۔ وہاں سجی بھی اچھی بنتی ہے۔ بلوچ مزید ناراض ہو کر کسی دانشور کی سجی ہی نہ بنا دیں شاید یہ سوچ کر بارکھان پر بھی کوئی دعوی نہیں کیا گیا۔ سندھ کو بھی معاف کر دیا گیا کہ خیر ہے سرائیکی بھی ہو تو سندھی ہی رہو سندھی ہی بولی جاؤ۔ اس ساری ذہنی فکری مشق کے بعد یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ جو کرنا ہے پنجاب میں ہی کرنا ہے۔ مسلم لیگی قیادت پہلے ہی ڈر ڈر کے دکھا رہی تھی۔ تو اب ضروری تھا کہ سرائیکی صوبے کے خدو خال واضح کر لیے جائیں۔

پی پی ایک جمہوری پارٹی ہے عوام کی نبض پر اس کا ہاتھ ہوتا ہے۔ کچھ گمراہ لوگ یہ ہاتھ جیب پر بھی بتاتے ہیں پر لوگوں کا کیا ہے کچھ بھی بول دیتے ہیں۔ پی پی قیادت نے مختلف اضلاع میں مقامی بااثر لوگوں سے سرائیکی صوبے میں شمولیت کے لیے آرا مانگی، اس کے لیے رابطے کیے وہاں دورے کیے۔ یہ رابطے، یہ دورے اتنے موثر رہے اور ووٹر کے کان ایسے کھڑے کیے گئے کہ مسلم لیگ نون کو خود کچھ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئی۔

ہمارا ایک بے وثوق ذریعہ ذات کا وٹو بھی ہے۔ اس جھوٹے کا کہنا ہے کہ ملاقات ہوئی تھی۔ وہ خود بھی موجود تھا جب بہت پیار سے سائیں نے وٹو بزرگوں سے پوچھا کہ آپ سب سرائیکی وٹو یہ سن کر خوش ہوں گے کہ اوکاڑہ بھی ملتان میں شامل ہو سکتا ہے۔ وٹو بزرگوں نے اپنے وٹو صاحب سے کہا کہ تخت لاہور ہم سے اتنا قریب ہے کہ ہم یہاں سے غلیل سے بھی نشانہ لگا سکتے ہیں۔ ہم پر یہ ملتان والی مہربانی کیوں کر رہے ہیں۔ وٹو صاحب نے بڑا سمجھایا جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔ وٹو صاحب اپنی پکی سیٹ ہار گئے۔

ان ساری گپی باتاں کے بعد عرض ہے کہ نئے صوبے ضرورت ہیں۔ سرائیکی صوبہ بننے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ہلکے پھلکے سیاسی فائدے سے ہٹ کر پی پی کا منصوبہ ہر گز برا نہیں تھا۔ لیکن پی پی کے اس سیاسی گیم پلان پر مسلم لیگ نون نے پی پی کو اچھی طرح باندھ کر مارا اور سیاسی شکست دی۔ مسلم لیگ نون نے اس ایشو پر پی پی کو پیش قدمی کرنے دی۔ اس وقت تک کرنے دی جب تک پی پی نے اچھل اچھل کر صوبے کے سارے پنجابی ووٹر کو ایک بلاک میں نہیں ڈھال دیا۔ پنجابی ووٹر کا یہی بلاک ووٹ ہر جگہ پی پی کے خلاف استعمال ہوا۔ سرائیکی بیلٹ میں بھی اسی بلاک ووٹ نے پی پی کو شکست دلوائی۔

پی پی نے اپنی ساری منصوبہ بندی میں سارا فوکس سرائیکی ووٹر پر ہی رکھا۔ نہ چوھدریوں نے سوچا نہ پی پی والوں نے کوئی اندازہ لگایا کہ پنجابی ووٹر کیا کرے گا۔ سرائیکی وسیب میں آباد پنجابی ووٹر کتنا ہے وہ کس کو ووٹ دے گا۔ مسلم لیگ نون نے صورت حال کا درست اندازہ لگا پنجابی ووٹر کے بلاک کو استعمال کرتے ہوئے سرائیکی امیدواروں کو ٹکٹ دیے۔ سرائیکی بیلٹ میں بھی خاصی سیٹیں جیت لیں۔


بہاولپور سے طارق بشیر چیمہ الگ صوبے کی حمایت کر کے بھی جیت گئے۔ لیکن اس کی وجہ دوسری تھی ان کے پاس اپنا پکا پنجابی ووٹ تھا انہیں الگ صوبے کے حمایتی سرائیکی ووٹر نے جتوایا۔ مسلم لیگ نون اپنی پالیسی بڑے ووٹ بنک کو سامنے رکھ کر بناتی ہے۔ پی پی سے غلطی یہ ہو جاتی ہے کہ وہ ووٹروں کے بلاک میں بیلنس نہیں کر پاتی۔ یہ بیلنس طارق چیمہ اپنے حلقے میں کر گئے اور جیت گئے۔ پی پی نے پنجاب میں نہیں کیا اور ہار گئی۔