Monday, 3 April 2017

ذوالفقار علی بھٹو کو پی پی پی کا چیئرمین بننے کے بجائے پی پی پی سندھ کا صدر بننا چاھیئے تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو 1958ء میں صدر جنرل اسکندر مرزا کی کابینہ میں وزیر تجارت رھا۔ 1958ء تا 1960ء صدر جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزیر واٹر اینڈ پاور ' کیمنیوکیشن '  انڈسٹری رھا اور بھارت کے ساتھ سندھ طاس کا معاھدہ کرکے پنجاب کے دریا بھارت کو بیچ دیے۔

ذوالفقار علی بھٹو صدر جنرل ایوب خان کی کابینہ میں 1960ء تا 1962ء وزیر اقلیتی امور ' قومی تعمیر نو اور اطلاعات ' 1962ء تا 1965ء وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر رھا۔ جون 1963ء تا جون 1966ء وزیر خارجہ رھا۔

دسمبر 1967ء میں پنجابیوں نے لاھور میں پی پی پی کو بنا کر ذوالفقار علی بھٹو کو پارٹی کا چیئرمین بنا دیا اور 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے پنجاب سے کامیابی حاصل کی اور ذوالفقار علی بھٹو زندگی میں پہلی بار جمہوری سیاست کرتے ھوئے عوامی نمائدہ کے طور پر منتخب ھوا۔

دسمبر 1971ء میں جنرل یحیٰی خان نے پاکستان کی عنان حکومت ذوالفقار علی بھٹو کو سونپ دی۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کا پہلا سویلین چیف ماشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973 تک پاکستان کے صدر مملکت کے عہدے پر فائز رھا اور 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت پاکستان کے وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔

1977ء میں پیپلز پارٹی کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے سبب ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ھو گئی۔ 5 جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لاء نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ 18 مارچ 1978ء کو ھائی کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ھائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ 4 اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

1967 میں ون یونٹ کا زمانہ تھا۔ چونکہ 1958 سے پاکستان پر پٹھانوں کی ملٹری ڈکٹیٹر شپ تھی۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمٰن الگ ھونے کی موومنٹ چلا رھا تھا۔ سندھ میں جی۔ایم سید سندھی قوم پرستی کی باتیں کر رھا تھا۔ خیبر پختونخواہ میں غفار خان اور ولی خان پٹھان قوم پرستی کی بات کر رھے تھے۔ بلوچستان میں مری ' بگٹی ' مینگال ' بلوچ قوم پرستی کی بات کر رھے تھے۔ ایسے میں مغربی پاکستان کی سب سے بڑی قوم ' پنجابی نے پنجاب سے لیڈر شپ پیدا کرنے کے بجائے ایک سندھی کو پنجاب کا لیڈر بنا کر اس کا بھی بیڑا غرق کیا ' اپنا بھی اور سندھیوں کا بھی۔

جس طرح 1990 میں پنجابیوں نے پہلی بار پنجابی لیڈر اور پاکستان کا پرائم منسٹر بنایا ' ویسے ھی یہ کام اگر 1967 میں پنجابیوں نے کر لیا ھوتا تو نہ بھٹو مارا جاتا ' نہ پنجاب اور پنجابیوں کا نقصان ھوتا۔ جبکہ کسی سندھی کو پٹھانوں اور بلوچوں کی طرح پنجاب کا لیڈر اور پاکستان کا پرائم منسٹر بننے کا موقع بھی ' کبھی نہ ملتا۔

1958 سے پاکستان پر پٹھانوں کی ملٹری ڈکٹیٹر شپ سے تنگ پنجابیوں کو مغربی پاکستانی بھٹو اچھا لگا۔ پنجابیوں کو کیا پتہ تھا کہ جس بھٹو کو پنجابی مغربی پاکستانی سمجھ رھے ھیں ' اس نے سندھیوں اور پنجابیوں کو قریب کرنے کے بعد پٹھانوں اور بلوچوں کو بھی آپس میں قریب لا کر مغربی پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کو شیر و شکر کرنے کے بجائے الٹا خود بھی سندھی بنکے اور سندھیوں کو اپنی سیاسی طاقت بناکر خود کو چھوٹے صوبوں کا لیڈر بنانے کی کوشش کر کے سندھیوں ' پٹھانوں ' بلوچوں کو پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف محاذ آرا کرنے کی کوشش کرنی ھے ' تاکہ پنجابی قوم سیاسی قیادت سے محروم ھونے کی وجہ سے ھمیشہ کے لیے بھٹو کی غلام بنی رھے۔

سندھیوں کے چونکہ خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ خود لیڈر بننے کے بجائے ' مغربی پاکستان کی 60 % آبادی ھونے کے باوجود پنجابی قوم کسی سندھی کو پاکستان کا لیڈر اور پرائم منسٹر بھی بنا سکتی ھے ' اس لیے سندھی بھٹو کے پاکستان کا پرائم منسٹر بننے کے بعد سندھیوں نے نہ صرف پاکستان کی فیڈرل گورنمنٹ کا سندھی کے پاس ھونے کا بھرپور فائدہ اٹھایا بلکہ پنجاب اور پنجابیوں کو بھی رگڑا لگانا شروع کر دیا۔ پنجاب کو چور ' ڈاکو ' لٹیرا قرار دینا شروع کر دیا۔ پنجاب کو سامراج قرار دے دے کر پنجاب اور پنجابیوں پر وہ وہ الزامات لگانا شروع کر دیے ' جن کا ذمہ دار یا تو مہاجر تھا یا پھر پٹھان۔ بلکہ پنجاب اور پنجابیوں پر ایسے ایسے الزامات بھی لگانا شروع کر دیے ' جنکا خود پنجاب اور پنجابی نشانہ بنے ھوئے تھے ' تاکہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ھوجانے کی وجہ سے مغربی پاکستان کی سب سے بڑی قوم اور 60٪ آبادی ھونے کے باوجود بھی پنجاب اور پنجابی اپنے جائز حق سے محروم ھی رھیں اور اپنے جائز حق کی بات کرنے کے بجائے پنجاب اور پنجابیوں پر لگنے والے الزامات کی وضاحتیں ھی کرتے رھیں۔

پاکستان میں پہلی بار سندھی کے پاکستان کا پرائم منسٹر بننے نے عام سندھی کو بھی شاؤنسٹ بنا دیا۔ جسکی وجہ سے سندھی نہ کسی کام کا رھا نہ کاج کا۔ بلکہ ان سندھیوں نے پنجاب میں بننے والی پی پی پی کو بھی سندھ کی پارٹی بنا دیا ' بلکہ دیھی سندھ اور سندھیوں کی پارٹی بنا دیا۔

بھٹو میں اگر سیاسی شعور ھوتا تو مغربی پاکستان کی 60 % آبادی ' پنجابیوں کا مینڈیٹ ملنے کے بعد پنجاب اور پنجابیوں کے ٹرسٹ کو قائم رکھتا اور سندھیوں کے پنجابیوں کے ساتھ سیاسی اور سماجی رابطوں کو بہتر کرتا۔ جسکے بعد پٹھان اور بلوچ بھی پنجابیوں اور سندھیوں کے ساتھ گھل مل جاتے۔ اس طرح کا سماجی اور سیاسی ماحول بن جانے سے پاکستان کی اصل قوموں کے آپس میں باھمی تعاون کی وجہ سے پاکستان بھی ترقی کرتا اور پاکستان کی قومیں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ بھی ترقی کرتیں۔ بھٹو چونکہ پاکستان کی قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کے درمیان ایک رابطہ کار ' مصالحت کار اور رھنما کا کردار ادا کر رھا ھوتا ' اس لیے بھٹو بھی صرف سندھیوں کا ھی نہیں بلکہ پاکستان کی پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ قوموں کا لیڈر ھوتا۔ جبکہ پی پی پی بھی صرف دیھی سندھ کے سندھیوں کی پارٹی بن کر نہ رہ جاتی۔ بلکہ پاکستان کے سارے صوبوں اور پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کی پارٹی ھونے کی وجہ سے پاکستان لیول کی پولیٹیکل پارٹی ھوتی۔

کیا بہتر نہ ھوتا کہ 1967ء میں پنجابیوں کے لاھور میں پی پی پی کو بناتے وقت ذوالفقار علی بھٹو پی پی پی کا چیئرمین بننے کے بجائے پی پی پی سندھ کا صدر بن جاتا اور پی پی پی کا چیئرمین کسی پنجابی کو بنواتا؟