Sunday, 30 April 2017

پاکستان میں مارشل لاء لگوانے کے لیے کون اور کیوں سرگرم ھیں؟

کراچی میں اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے میں عربی نزاد اشرافیہ ‘ سندھ کے دیہی علاقے ' پنجاب کے جنوبی علاقے اور بلوچستان کے بلوچ علاقے میں بلوچ اشرافیہ ‘ بلوچستان کے پشتون علاقے ' خیبر پختونخواہ ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں پٹھان اشرافیہ ‘  مقامی سطح پر اپنی سماجی اور معاشی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ سماٹ ' بروھی اور ھندکو قوموں پر اپنا سیاسی اور انتظامی راج قائم رکھنا چاھتی ھے۔ اس اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات سے اتنی زیادہ غرض ھے کہ پاکستان کے اجتماعی مفادات کو بھی یہ نہ صرف نظر انداز کر تی رھتی ھے بلکہ پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون لینے اور ان کے لیے پَراکْسی پولیٹکس کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتی۔ اس اشرافیہ کی عادت بن چکی ھے کہ ایک تو سماٹ ' بروھی اور ھندکو پر اپنا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی تسلط برقرار رکھا جائے۔ دوسرا کراچی ' دیہی سندھ ‘ خیبرپختونخواہ ' بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں رھنے والے پنجابی پر ظلم اور زیادتی کی جائے۔ تیسرا پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ چوتھا یہ کہ پاکستان کے سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔

پکستان کے قیام کے بعد سے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں ' دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابیوں اور بلوچوں ' سینٹرل اور شمالی پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور پٹھانوں ' خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں ' بلوچستان کے پٹھانوں اور بلوچوں کی اشرافیہ نے پاکستان کے اقتدار و اختیار پر قبضہ کیے رکھا۔ پاکستان کی سیاست و صحافت پر قبضہ کیے رکھا۔ جبکہ مختلف سیاسی چالوں اور حربوں کے ذریعے پنجاب کے پنجابی ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابی ' بلوچستان کے بروھی اور پنجابی ' سندھ کے سماٹ اور پنجابی ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر اپنا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم کیے رکھا۔ بلکہ پنجاب کے خلاف سازشیں اور شرارتیں کرنے میں بھی لگی رھی۔ جھوٹے قصے ' کہانیاں تراش کر پنجاب پر الزام تراشیاں کرتی رھی۔ گالیاں دیتی رھی۔ اپنے علاقوں میں پنجابیوں پر ظلم اور زیادتیاں کرتی رھی۔ اپنے علاقوں میں کاروبار کرنے والے پنجابیوں کو واپس پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتی رھی بلکہ پنجابیوں کی لاشیں تک پنجاب بھجواتی رھی۔ پنجاب کو بلیک میل کرنے کے لیے سندھ کی عربی نزاد سندھی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سندھودیش 'جنوبی پنجاب کی عربی نزاد پنجابی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سرائیکستان ' کراچی کی مھاجراشرافیہ جناح پور ' بلوچستان کی بلوچ اشرافیہ آزاد بلوچستان ' خیبر پختونخواہ کی پٹھان اشرافیہ پختونستان کی سازشیں اور شرارتیں بھی کرتی رھی۔ پاکستان میں فوجی آمریت کے ادوار نے اس اشرافیہ کو پھلنے پھولنے کا خاص موقعہ فراھم کیا۔ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دے دے کر آمر ' غاصب ' سامراج اور جمہوریت دشمن قرار دے دے کر اور جمہوریت کی بحالی کی آڑ لیکر اپنا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم کیے رکھا۔

پاکستان کے قائم ھوتے کے بعد سے پٹھانوں کو پٹھان غفار خان ' بلوچوں کو بلوچ خیر بخش مری ' 1972 سے بلوچ سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کو عربی نزاد جی - ایم سید ' 1986 سے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو مھاجر الطاف حسین نے “Proxy of Foreign Sponsored Intellectual Terrorism”  کا کھیل ' کھیل کر اپنی “Intellectual Corruption” کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ کردیا تھا۔ اس لیے کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے پاکستان دشمنی کے اقدامات کرنے میں آسانی رھتی ھے اور اس نے اپنا وطیرہ بنائے رکھا کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دی جائیں۔ الزام تراشیاں کی جائیں اور اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی جائے۔ لیکن پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج اب تک انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کا سیاسی طور پر تدارک میں ناکام رھی ھے۔ جبکہ انتظامی اقدامات سے انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روکا تو جاتا رھا لیکن ختم نہیں کیا جاسکا۔

کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ نے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی سیاسی پارٹیاں ' سیاسی اغراض و مقاصد کے بجائے چونکہ لسانی جذبات اور برادریوں کے مفادات کی بنیاد پر تشکیل دی ھوئی ھیں۔ اس لیے اس وقت صورتحال یہ ھے کہ؛ کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کی جناح پور کی سازش اور مھاجر لسانی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی پارٹی متحدہ قومی موومنٹ ھے۔ دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں کی اشرافیہ کی سندھودیش کی سازش اور سندھی لسانی جذبات کو فروغ دینے ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابیوں اور بلوچوں کی اشرافیہ کی سرائیکستان کی سازش اور سرائیکی لسانی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابیوں اور بلوچوں کی سیاسی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی ھے۔ خیبر پختونخواہ ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کی پختونستان کی سازش اور پختون لسانی جذبات کو فروغ دینے ' سینٹرل اور شمالی پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کے پنجاب اور پنجابی مخالف مزاج کی وجہ سے خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھانوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی پارٹی پاکستان تحریکِ انصاف ھے۔

چونکہ جنوبی پنجاب کے پنجابی ' جنوبی پنجاب کی عربی نزاد پنجابی اور بلوچ اشرافیہ کی سرائیکستان کی سازش اور سرائیکی لسانی جذبات کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابیوں اور بلوچوں سے متنفر ھیں۔ شمالی اور سینٹرل پنجاب کے پنجابی ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کی پختونستان کی سازش اور پختون لسانی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے شمالی اور سینٹرل پنجاب  کے پٹھانوں سے متنفر ھیں جبکہ سینٹرل اور شمالی پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کے پنجاب اور پنجابی مخالف مزاج کی وجہ سے سینٹرل اور شمالی پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں سے متنفر ھیں۔ خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابی ' خیبر پختونخواہ کی پٹھان اشرافیہ کی پختونستان کی سازش اور پختون لسانی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں سے متنفر ھیں۔ بلوچستان کے بروھی اور پنجابی ' بلوچستان کی بلوچ اشرافیہ کی آزاد بلوچستان کی سازش اور بلوچ لسانی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے بلوچستان کے بلوچوں سے متنفر ھیں۔ سندھ کے سماٹ اور پنجابی ' دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں کی اشرافیہ کی سندھودیش کی سازش اور سندھی لسانی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں سے متنفر ھیں۔ کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کی جناح پور کی سازش اور مھاجر لسانی جذبات کو فروغ دینے کی وجہ سے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں سے متنفر ھیں۔ اس لیے متحدہ قومی موومنٹ ' پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف کو پسند نہیں کرتے بلکہ اپنے سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی مفادات کا مخالف سمجھتے ھیں۔ اس لیے حبِ علی کے بجائے بغضِ معاویہ میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حمایت کرتے ھیں تاکہ پاکستان مسلم لیگ ن مظبوط ھوکر متحدہ قومی موومنٹ ' پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف کا مقابلہ کر سکے۔ جسکی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی کی سیاسی پارٹی ھے۔

پنجاب سے پنجابیوں کے ووٹ ' خیبر پختونخواہ سے ھندکو اور پنجابیوں کے ووٹ ' بلوچستان سے بروھیوں اور پنجابیوں کے ووٹ ' کراچی سے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ووٹ لیکر حکومت بنانے والی سیاسی پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن 2013 سے پاکستان پر حکومت کر رھی ھے۔ اس لیے پنجاب کے پنجابی ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابی  ' بلوچستان کے بروھی اور پنجابی ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی تو اطمینان اور سکون میں ھیں لیکن پاکستان تحریکِ انصاف کو ووٹ دینے والے خیبر پختونخواہ سے پٹھان ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے والے جنوبی پنجاب سے عربی نزاد پنجابی اور بلوچ ' دیہی سندھ سے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' متحدہ قومی موومنٹ کو ووٹ دینے والے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کو چونکہ پاکستان کے قیام کے بعد پہلی بار پاکستان کی وفاقی حکومت میں شمولیت سے مکمل محرومی کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے۔ جسکی وجہ سے انکے قائم کیے ھوئے سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط کو دھچکا پہنچ رھا ھے۔ اس لیے یہ اشرافیہ 2013 سے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف پرپیگنڈہ میں مصروف رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ناکام حکومت قرار دیتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت پر الزامات لگاتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف سازشیں کرتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کی کوششیں کرتی رھتی ھے۔ بلکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کے لیے پاگل ھوتے جا رھی ھے۔ لہذا خیبر پختونخواہ کے پٹھان ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابی اور بلوچ ' دیہی سندھ کے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدان ' سیاسی کارکن ' سماجی کارکن ' دانشور ' تجزیہ نگار ' اینکر  اور صحافی ھر وقت بے چین اور پریشان رھتے ھیں کہ وہ نہ اپنی اپنی اشرافیہ کے سیاسی اور انتظامی تسلط کو بحال کروا پا رھے ھیں۔ نہ اپنا اور اپنی اپنی اشرافیہ کے سماجی اور معاشی مفادات کا تحفظ کر پا رھے ھیں۔

پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی کی حمایت کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کو نہ صرف قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ھے بلکہ پاکستان تحریکِ انصاف ' پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ اگر متحد ھوکر بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو قومی اسمبلی میں عدمِ اعتماد یا عوام میں عوامی دباؤ کے ذریعے ھٹانا چاھیں تو ممکن نہیں ھے۔ عدالت کے ذریعے کسی طرح سے پاکستان کے وزیرِ اعظم کو نا اھل قرار دلوا بھی دے تو بھی پاکستان مسلم لیگ ن میں سے ھی دوسرا وزیرِ اعظم بن جانا ھے جو اس اشرافیہ کے خلاف شدید اور سخت ترین حکومتی اقدامات بھی کر سکتا ھے۔ اس لیے کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کے پاس اب واحد راستہ یہ ھی بچا ھے کہ فوجی مداخلت کرواکر پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ختم کروایا جائے۔ کیونکہ پاکستان میں فوجی آمریت کے ھونے کی صورت میں اس اشرافیہ کو توقع ھے کہ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دے دے کر آمر ' غاصب ' سامراج اور جمہوریت دشمن قرار دے دے کر ' بلیک میلنگ کے بعد اقتدار و اختیار میں حصہ لینے کے بعد ' ایک بار پھر سے پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر اپنا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم کر سکتی ھے۔

پاکستان کے فوجی آمروں کی طرف سے اقتدار و اختیار میں شرکت نہ دینے کی صورت میں پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون حاصل کرکے ' جمہوریت کی بحالی کا نعرہ لگا کر ' فوجی آمروں کی طرف سے قوموں کے حقوق غصب کرنے کا شور مچا کر ' سندھ کی عربی نزاد سندھی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سندھودیش 'جنوبی پنجاب کی عربی نزاد پنجابی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سرائیکستان ' کراچی کی مھاجراشرافیہ جناح پور ' بلوچستان کی بلوچ اشرافیہ آزاد بلوچستان ' خیبر پختونخواہ کی پٹھان اشرافیہ پختونستان کی سازشیں کرکے پاکستان میں سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی عدمِ استحکام پیدا کرسکتی ھے۔ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج چونکہ ماضی میں بھی انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کا سیاسی طور پر تدارک کرنے میں ناکام رھی تھی۔ اس لیے انتظامی اقدامات سے انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روک تو لے گی لیکن ختم نہیں کرسکے گی۔ لہٰذا پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کو ایک بار پھر سے پاکستان کا اقتدار کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کے سپرد کرنا پڑے گا اور ایک بار پھر سے پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر انکا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم ھوجائے گا۔