Sunday, 30 April 2017

بلوچوں کی کردستان سے بلوچستان ' پنجاب ' سندھ آمد کب اور کیسے ھوئی؟

لفظ بلوص کی وجہ تسمیہ نسبی اور سکنی اعتبار سے بھی کی جاسکتی ھے۔ نسبی اعتبار سے بلوص نمرود کا لقب ھے۔ نمرود بابلی سلطنت کا پہلا بادشاہ تھا اور اسے احتراماً بلوص یعنی سورج کا دیوتا پکار ا جاتا تھا۔ یہ وھی نمرود ھے ' جس نے حضرت ابراھیم کیلئے آگ کا الاؤ تیار کرایا تھا۔ سکنی اعتبار سے بھی بلوص وادی بلوص کے رھنے والے ھیں۔ یہ وادی شام میں حلب کے قریب ایران کی سر حد کے ساتھ واقع ھے۔ اس علاقے کو کردستان بھی کہا جاتا ھے۔ کردستانی بلوص قبائل گیارھوں عیسوی  میں کرمان کے پہاڑ وں اور لوط کے ریگستان میں رھتے تھے۔ یہ لوگ شہروں میں نہیں بستے تھے بلکہ قبائل کی شکل میں مختلف چراگاھوں میں نقل مکانی کرتے رھتے تھے۔ سرسبز و شاداب مرغزاروں میں چارے اور پانی کے وسیع ذخائر کی تلاش میں بادہ پیمائی کرتے رھتے۔ باھمی اعانت کے لیے اپنے منتخب سرداروں کی سرکردگی میں نیم منظم جماعتیں تشکیل دے لیتے۔ انہوں نے اپنے ایسے مراکز بھی بنائے ھوئے تھے جہاں وہ خطرے کے موقعوں پر اپنے مال مویشی سمیت جمع ھو سکیں۔

سلجوقیوں کے ھاتھوں ولیمی اور غزنوی طاقتوں کا خاتمہ ھوا تو بارھویں صدی میں میر جلال خان کی سر کرد گی میں کردستانی بلوص قبائل کے چوالیس مختلف قبیلے کرمان چھوڑ کر بولک قہرمان ' سیستان ' بندر عباس اور بمپور کے درمیانی علاقوں میں آکر آباد ھوگئے۔ بلوچوں کی مقبول عام روایات میر جلال خان کے عہد سے شروع ھوتی ھیں۔ اس کے چار بیٹے رند ' کورائ ' لاشار  ' ھوت تھے اور بیٹی جتوئی تھی۔ جب میر جلال خان کا انتقال ھوا تو ان کی چھوٹی اھلیہ عجوبہ بی بی نے اپنے کمسن بچے میر ھوت کو ملک کا وارث قرار دے دیا جبکہ میر جلال خان نے اپنی زندگی میں ھی اپنے بڑے بیٹے میر رند کو مسند کا وارث مقرر کیا تھا۔ جب میر رند دوسرے لوگوں کے ھمراہ میر جلال خان کو دفنانے قبرستان گیا ھوا تھا تو عجوبہ بی بی نے شہر کے دروازے بند کرا دیے۔ میر رند کی واپسی ھوئی تو اس نے شہر کے دروازے بند پائے تو سوتیلی والدہ اور چھوٹے بھائی سے جنگ کرنا مناسب نہ سمجھا اور اور شہر سے باھر ھی فاتحہ کی رسم ادا کی اور پھر ان کے کردستانی بلوص ساتھی پھیل کر ایران میں بمپور سے افغانستان میں قندھار تک پھیل گئے۔ میر جلال خان کی قبر کے مقام کا تعین آج تک نہیں ھو سکا۔ دو پشتوں کے بعد ان کی اولاد میں میر شیہک خان پیدا ھوا اور تمام کردستانی بلوص قبائل کا سردار بنا۔  کردستانی بلوص قبائل نے پندرھویں صدی عیسوی میں میر شیہک کی سر کردگی میں وادی سندھ کی تہذیب کے مھرگڑہ کے علاقے مکران میں قدم رکھا اور مکران کے حکمراں بدرالدین کے ساتھ جنگ کرکے علاقہ پر قبضہ کرلیا۔ اسکے بعد میر شیہک نے بلیدہ سے چل کر بروھیوں کے ساتھ جنگ کرکے 1486 میں قلات کو فتح کر لیا۔ جو بروھی ان کے مقابلے پر آئے یا تو وہ قتل کردئیے گئے یا انہوں نے اطاعت قبول کر لی۔

جام نندو کے زمانے میں سندھ کی سرحدیں سبی تک پھیلی ھوئی تھیں اور امیر بہادر جام نندو کا نائب مقرر تھا۔ جام نندو کے زمانہ میں ھرات سے سلطان حسین بایقرا کا حُکم چلتا تھا۔ 1487 میں سلطان حسین کی فوج نے سندھ کے سرحدی شہر سبی پر حملہ کیا جہاں ترک ارغونوں کے حملے میں سندھی فوج نے شکست کھائی اور سبی پر ھراتیوں کا قبضہ ھوگیا اور محمد ارغون (شاہ بیگ ارغون کا بھائی) عملدار کے طور پر مقرر ھوا۔ لہٰذا جام نندو نے ٹھٹھہ سے دریا خان کی سپہ سالاری میں لشکر کو سبی بھیجا۔ 1490 میں ارغونوں اور دریا خان کی فوجوں کے درمیاں جنگ ھوئی جس میں سلطان محمد ارغون مارا گیا اور سبی پر جام نندو کی حکمرانی پھر سے بحال ھوگئی تو میر شہک نے سبی فتح کرنے کے ارادے سے بولان خان رند کو اس سمت روانہ کیا کہ حملے کے لیئے مناسب راستوں کا کھوج لگائے۔ بولان خان رند کے نام پر ھی درہ بولان کا نام ھے جس کے وسط میں آج کا مچھ شہر آباد ھے۔ میر شہک نے 1488 ء میں سبی پہنچ کر سبی پر قبضہ کرلیا اور اسی سال میر شہک وفات پا گۓ اور وھیں ضلع کچھی میں ان کا مقبرہ بھی ھے۔

میر شہک سے 1468ء میں میر چاکر پیدا ھوا۔ سبی کی فتح کے وقت اس کی عمر 20 سال تھی۔ میر شہک کی وفات کے بعد کردستانی بلوص علاقوں کا حکمران سردار چاکر بنا۔ میر چاکر خان کی سرکردگی میں کردستانی بلوص قبائل مختلف راستوں سے ھوتے ھوئے بلوچستان کے ایک بڑے حصے میں پھیل گئے۔  سردار چاکر خان رند نے خضدار فتح کیا ، درۂ مولا پر قبضہ کیا۔ کچھی کے میدانوں کو فتح کیا۔ درۂ بولان پر قبضہ کیا اور ڈھاڈر پر قبضہ کرنے کے بعد سبّی کو اپنا مستقر بنا لیا۔ لاشاری قبیلہ نے میر گواھرام کی سرکردگی میں گنداوا کو مستقر بنا لیا۔ سردار چاکر خان رند کے عہد میں سارا بلوچستان کردستانی بلوص قبائل کے قبضے میں آگیا۔ سبی کردستانی بلوص قبائل کا مرکز بن گیا اور میر چاکر کو کردستانی بلوص وفاق کا سردار اعلیٰ تسلیم کر لیا گیا۔ دراوڑی زبان کا لفظ ھے " بر" جسکے معنی ھیں "آنا" اور دوسرا لفظ ھے "اوک" جو کہ اسم مفعول کی نشانی ھے. جسکے معنی "والا" ھے. "بر- اوک" کے لفظ کا مفہومی معنی "نیا آنے والا" یعنی " نو وارد ' اجنبی ' پرائے دیس والا " ھے. کردستانی بلوص قبائل جب پندھرویں صدی عیسوی میں براھوی کی زمین پر آنا شروع ھوئے تو بروھی انکو "بر- اوک" کہتے تھے۔ اس لیے کردستانی بلوص قبائل " بلوص " سے " بروک" پھر " بروچ" اور پھر "بلوچ" بن گئے۔

میر شہک نے اپنے دور میں باھم برسر پیکار بروچ یا بلوچ قبائل کو ایک قوم کی حیثیت سے متحد کرنے کی کوشش کی اور اس میں خاصا کامیاب بھی ھوا۔ میر چاکر نے اس ضمن میں مزید جدوجہد کی اور اسے نمایاں کامیابی ھوئی۔ اسے اس کے ھم مرتبہ سرداروں میں سرخیل ضرور سمجھا گیا لیکن بادشاہ کی حیثیت نہ دی گئی۔ یہ قومی اتحاد زیادہ عرصے تک نہ رہ سکا کیوں کہ میر چاکر اپنے کسی ھمسر کو برداشت نہ کر سکتا تھا اور میر گواھرام کسی کو اپنے سے بر تر تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا۔ اس لیے 1489ء میں رندوں اور لاشاریوں کی لڑائی کا سلسلہ شروع ھوا۔ آپس کی چھوٹی موٹی جھڑپیں بڑھ کر سنگین صورت اختیار کرکے جنگ کی شکل اختیار کر گئیں۔ جنگ میں لاشاریوں کو شکست ھوئی تو انہوں نے ملتان کے لنگاھوں سے مدد طلب کی۔ میر چاکر نے گواھرام اور لاشاریوں کو پوری طرح کچلنے کے لیے قندھار کے ترک ارغونوں سے معاھدہ کیا کہ اگر وہ ان کے ساتھ مل کر لڑیں گے اور فتح نصیب ھوئی تو وہ ترک ارغونوں کو مناسب معاوضہ دیں گے۔ اس لیے ترک ارغونوں نے میر چاکر کی مدد کرنے کے لیے اپنا لشکر سبی بھیج دیا۔

ادھر 1508 میں جام نظام عرف جام نندو کی وفات کے بعد ان کا بیٹا جام فیروز تخت پر بیٹھا تو عمر میں چھوٹا ھونے کی وجہ سے سلطنت کے سارے معاملات دریا خان نے سنبھالے۔ یہ بات جام فیروز کی ماں مدینہ کو ٹھیک نہیں لگی۔ جام نندو کی دریا خان سے شفقت دریا خان کے لیے ایک امتحان بن گئی۔ وہ نہ اس خاندان کو چھوڑنا چاھتا تھا ' نہ ان سے لڑنا چاھتا تھا اور نہ ھی دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاھتا تھا۔ جبکہ جام نندو کے خاندان میں غلط فہمیوں کی بنیاد پر شک و شبہات کی خاردار جھاڑیاں اُگنے لگیں کہ کل کلاں کو دریا خان نے تخت پر قبضہ کر لیا تو کیا ھوگا؟ جس کی وجہ سے دریا خان اجازت لے کر سیہون کے قریب اپنی جاگیر ’گاھو‘ میں آ کر رھنے لگا تو جام صلاح الدین نے سلطان مظفر گجراتی کی مدد سے ٹھٹھہ پر حملہ کرکے مارچ 1512 میں سندھ کے امیروں اور گجراتی لشکر کی مدد سے سندھ پر قبضہ کرلیا اور جام فیروز بغیر کسی مزاحمت کے تخت گاہ سے دستبردار ھو گیا تو ماں بیٹے دریا خان کے پاس گاھو پہنچے۔ دریا خان نے اپنے ظرف کا مظاھرہ کیا اور انکار نہ کر سکا۔ دریا خان نے ’بکھر‘ اور ’سیہون‘ سے لشکر اکٹھا کر کے ٹھٹھہ پر کامیاب حملہ کیا جس کے نتیجے میں جام فیروز 12 اکتوبر 1512 کو پھر تخت نشین ھوا۔ جبکہ جام صلاح الدین جو سمہ خاندان کے مشہور بادشاہ جام سنجر کا بیٹا تھا وہ فقط آٹھ ماہ ھی حکومت کر سکا لیکن دریا خان کے ساتھ پھر سے وھی پرانی روش اختیار کی گئی۔ جام فیروز کی والدہ اب ایک بار پھر سے دریا خان سے چھٹکارہ چاھتی تھی۔ اس لیے 1516 میں جام فیروز کی ماں قندھار جا کر شاہ بیگ ارغون کو سندھ پر حملہ کرنے کی دعوت دے آئی۔ ارغونوں کے لیے یہ ایک شاندار موقعہ تھا۔ اُن کے دل و دماغ میں سبی والے معرکے میں بہے خون کا رنگ ابھی سُرخ تھا۔ شاہ بیگ کے دل پر بھائی کے قتل کا زخم تازہ تھا۔ اس لیے انہوں نے میر چاکر کی مدد کرنے کے لیے سبی میں موجود اپنے لشکر کے ذریعے چھوٹے چھوٹے حملے  شروع کروا دیے اور 1518 کے جاڑوں کے ابتدائی دنوں میں سبی میں موجود اپنے لشکر میں سے ھی ھزار سوار تیار کر کے گاھو کے گاؤں باغبان محلے پر حملہ کر کے ایک ھزار اونٹ اپنے ساتھ لے گئے جو رات کو رھٹوں میں بندھے ھوئے باغات کو پانی پہنچا رھے تھے۔ ارغونوں کے حملوں کی وجہ سے سارے ملک میں ایک افراتفری سی پھیل گئی مگر جام فیروز ٹھٹھہ چھوڑ کر جنوب کی طرف پیر پٹھو چلا گیا۔

ترک ارغونوں نے میر چاکر کی مدد کرتے ھوئے 1519ء میں ایک خونریز جنگ میں لاشاریوں کو شکست دی اور وہ تتربتر ھو گر پنجاب ' سندھ اور بمبئی کے طرف نکل گئے۔ سبی فتح کے بعد ترک ارغونوں نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کر دیا اور سبی پر قبضہ کرلیا تو میر چاکر نے سبی اور میوند کے درمیان کے علاقے میں رھائش اختیار کرلی اور رند آپس میں دست و گریباں ھو گئے۔ جبکہ ترک ارغونوں نے سبی پر قبضہ کرنے بعد ٹھٹھہ پر بھرپور حملے شروع کردیے اور 22 دسمبر 1520 کو ساموئی (مکلی سے شمال کی طرف) ارغون اور دریا خان کے لشکروں میں جنگ ھوئی۔ ارغونوں کو فتح حاصل ھوئی۔ سبی کے علاوہ ٹھٹھ پر بھی ترک ارغونوں کا راج قائم ھوگیا۔ ٹھٹھہ کی فتح کے بعد شاہ بیگ ارغون نے قیدی سپہ سالار دریا خان کو اپنی تلوار سے خود قتل کیا۔ جام فیروز ' شاہ بیگ ارغون کے سامنے پیش ھوا اور سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ سیہون سے جنوب کی طرف کا حصہ جام فیروز کو دیا گیا اور سندھ کے شمالی حصے پر ارغونوں کا قبضہ ھوگیا تو رند قبائل نے سرسبز و شاداب مرغزار اور پانی کے وسیع ذخائر ھونے کی وجہ سے جنوبی پنجاب کی طرف نکل مکانی کرنا شروع کردی۔ بلآخر میر چاکر کو بھی دل برداشتہ اور مایوس ھوکر سیوی اور بلوچ مرکز کو چھوڑنا پڑا۔ اس نے سیوی کو خیرباد کہتے ھوئے گواھرام کو یہ بد دعا دی تھی کہ؛ نہ تجھے قبر میسر آئے اے گواھرام – نہ تیرا گنداوا تیرے پاس رھے۔ یہ الفاظ ایک دل شکستہ فرد ھی کے ھو سکتے تھے۔ گواھرام کے ھاتھوں سے گنداوا نکل گیا اور چاکر کے ھاتھوں سے سبی۔ دونوں اجنبی سرزمینوں میں ابدی نیند سو رھے ھیں۔ چاکر پنجاب چلا گیا اور وھیں دفن ھوا۔ گواھرام روپوش ھوگیا اور اس کی قبر کا تو پتہ تک نہیں۔

پنجاب پر 1526 سے مغلوں کے قبضے کے بعد مغل بادشاہ بابر کے خلاف بابا گرو نانک کی سربراہی میں پنجابیوں کی مزاحمتی جدوجہد کی وجہ سے مغل بادشاہ ھمایوں نے ایرانی بادشاہ سے تعاون لیکر اسلام شاہ سوری کو شکست دیکر 1555 میں دھلی کا تخت سمبھالنے کے بعد سردار چاکر خان رند کی سر کرد گی میں چالیس ھزار کردستانیوں کو پنجابیوں کی مزاھمت کا مقابلہ کرنے کے لیے وادی سندھ کی تہذیب کے ھڑپا کے میدانی علاقے میں آباد کیا ' جو پنجابی علاقہ تھا۔ ھمایوں نے میر چاکر کو اوکاڑہ کے قریب ست گھرہ نامی مقام پر زرعی زرخیز جاگیر عطا کی۔ میر چاکر نے اپنے لشکر کے ساتھ پنجاب میں سکونت اختیار کی اور مغل بادشاہ اکبر کے دور ' 1565 ء میں اس کا انتقال ھوا اور مزار ست گھرہ میں واقع ھے۔ اکبر کے خلاف دلا بھٹی کی سربراھی میں پنجابیوں کی مزاحمتی جدوجہد کی وجہ سے مزید بلوچوں کو بھی مغلوں کی سرپرستی ملنے لگی اور انہیں دلا بھٹی کے زیرِ اثر علاقوں کے نزدیک بڑی بڑی جاگیریں دی جانے لگیں تو بلوچوں کی جنوبی پنجاب میں آبادگاری میں مزید اضاٖفہ ھوتا گیا اور بلوچوں کا سب سے بڑا پڑاؤ جنوبی پنجاب بن گیا۔

نصیر خان نوری برو ھی کا شمار قلات بلوچستان کے ممتاز برو ھی سرداروں میں ھوتا ھے۔ وہ میر عبداللہ خان برو ھی کے تیسرے چھوٹے بیٹے تھے۔ ان کی ماں بی بی مریم التازئی قبیلے سے تعلق رکھتی تھی۔ نادر شاہ کے وفات کے بعد میر نصیر خان برو ھی ' احمد شاہ ابدالی کے ساتھ قندھار چلا گئے۔ جب افغانستان کے بادشاہ کے لیے احمد شاہ ابدالی کا انتخاب ھوا تو میر نصیر خان نے برو ھی قوم کی نما ئند گی کرتے ھوئے احمد شاہ ابدالی کے حق میں رائے دی ۔ کچھ دن بعد نصیر خان برو ھی کے بھائی محبت خان برو ھی نے لقمان خان کی بغاوت میں حصہ لے کر احمد شاہ ابدالی کا اعتماد کھو دیا۔ 1749ء میں احمد شاہ ابدالی کے حکم سے میر نصیر خان برو ھی اپنے بھائی کی جگہ قلات کا حکمراں بنا۔ نصیر خان برو ھی کا شمار احمد شاہ ابدالی کے منظور نظر سپہ سالاروں میں ھونے لگا۔  انکا دور حکومت 1751ء سے 1794ء تک رھا اور نصیر خان برو ھی کی چچازاد بہن کا نکاح احمد شاہ ابدالی کے بیٹے تیمور شاہ سے ھوا جو کہ 1758-1757 تک پنجاب کا حکمراں رھا لیکن تیمور شاہ کی حکمرانی کے ختم ھو جانے کی وجہ سے 1765 میں احمد شاہ ابدالی نے پنجاب پر حملہ کیا تو میر نصیر خان بارہ ھزار کا لشکر لے کر براستہ گندا وہ احمد شاہ ابدالی کی مدد کو پنجاب روانہ ھوا اور پنجاب کی فتح کے بعد احمد شاہ ابدالی نے اپنے بیٹے تیمور شاہ کو دوبارہ پنجاب کا حکمراں بنا دیا۔

اس صورتحال میں بلوچ قبائل کو ایک تو پنجاب سے مغلوں کی حکومت کا 1751 سے خاتمہ ھوجانے کی وجہ سے پنجاب میں مغل بادشاھوں کی 196 سالہ سرپرستی سے محروم ھونا پڑا۔ دوسرا 1751ء سے قلات کا حکمراں نصیر خان برو ھی بن گیا۔ تیسرا 1765ء سے نصیر خان بروھی کی چچازاد بہن کا شوھر ' احمد شاہ ابدالی کا بیٹا تیمور شاہ پنجاب کا حکمراں بن گیا۔ جسکی وجہ سے نہ ٖصرف قلات بلکہ پنجاب میں بھی بلوچ قبائل کی مشکلات میں اضافہ ھونا شروع ھوگیا لیکن سندھ میں چونکہ مغلوں کے نامز کردہ عربی نزاد عباسی کلھوڑا کی حکومت تھی۔ اس لیے نہ صرف بلوچستان بلکہ پنجاب سے بھی بلوچ قبائل نے موھنجو دڑو کے میدانی علاقے میں قدم رکھا ' جو سماٹ علاقہ تھا اور عباسی کلھوڑا کی فوج میں بھرتی ھونا شروع کردیا لیکن 1783 میں عباسی کلھوڑا کے ساتھ جنگ کرکے سندھ پر قبضہ کرلیا۔ تالپور بلوچ قبائل کے وادئ سندھ کی حکمرانی سمبھالنے کے بعد مری ' بگٹی ' کھوسہ ' بجارانی ' سندرانی ' مزاری ' لنڈ ' دریشک ' لغاری ' گورشانی ' قیصرانی ' بزدار ' کھیتران ' پژ ' رند ' گشکوری ' دشتی ' غلام بولک ' گوپانگ ' دودائی ' چانڈیئے ' ٹالپر اور بہت سے چھوٹے چھوٹے قبائل کے خاندانوں نے پنجاب اور بلوچستان سے سندھ کے علاقے میں آکر اپنی جاگیریں بنانا شروع کردیں اور اب تک سندھ کے سندھیوں سے ان کی ملکیت بلوچ نے چھین رکھی ھے۔

پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے 50 بڑے شہروں میں سے ان کردستانیوں کی کسی ایک شہر میں بھی اکثریت نہیں ھے کیونکہ کردستان سے یہ قبائل کی شکل میں آئے تھے اور بروھیوں ' سماٹ ' ڈیرہ والی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ملتانی پنجابیوں کے دیہی علاقوں میں قبائلی افرادی قوت کی بنا پر اپنا غلبہ کرنے کے بعد سے لیکر اب تک بروھیوں ' سماٹ ' ڈیرہ والی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ملتانی پنجابیوں کے علاقوں میں ھی اپنی بالادستی قائم کیے ھوئے ھیں۔ اگر ایران ' افغانستان اور پاکستان میں بکھرے ھوئے بلوچ قبائل کے طرز زندگی اور ان ممالک میں ان کی سیاسی حیثیت کا تجزیہ کیا جائے تو صاف ظاھر ھوتا ھے کہ صرف پاکستان ھی وہ جائے امان ھے جہاں پر تمام کمیوں اور کوتاھیوں کے باوجود اب بھی بلوچوں کا قومی تشخص قائم و دائم اور شاد باد ھے۔ ورنہ ایران میں شاہ ایران اور بعد میں مذھبی انقلابی حکومت نے بلوچ قومیت کے بت پر کاری ضرب لگائی ھے اور آج ایران میں بلوچ قبائل اپنا تشخص کھو رھے ھیں۔ افغانستان میں تو حالات اس سے بھی بدتر ھیں۔