Wednesday, 26 April 2017

اللہ نے نواز شریف کو پاکستان کی بادشاھی تو دی لیکن عزت کیوں نہیں دی؟

خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں ' پنجاب میں رھنے والے پٹھانوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں ' دیہی سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں ' پنجاب میں رھنے والے بلوچوں اور عربی نزاد پنجابیوں ' کراچی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے پاکستان کے قیام سے لیکر مختلف سیاسی چالوں اور حربوں کے ذریعے پنجاب کے پنجابی ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو ' فاٹا کے قبائلی ' بلوچستان کے بروھی ' سندھ کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر اپنا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم کیے رکھا لیکن اب پنجاب سے پنجابیوں کے ووٹ ' خیبر پختونخواہ سے ھندکو کے ووٹ ' فاٹا سے قبائلیوں کے ووٹ ' بلوچستان سے بروھیوں کے ووٹ ' کراچی سے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ووٹ لیکر حکومت بنانے والی سیاسی پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن کا صدر نواز شریف 2013 سے وزیرِ اعظم بن کر پاکستان پر حکومت کر رھا ھے۔ 

پاکستان تحریکِ انصاف کو ووٹ دینے والے خیبر پختونخواہ  سے پٹھان ' پنجاب سے پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے والے دیہی سندھ سے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' پنجاب سے پنجاب میں رھنے والے بلوچ اور عربی نزاد پنجابی ' متحدہ قومی موومنٹ کو ووٹ دینے والے کراچی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو چونکہ پاکستان کے قیام کے بعد پہلی بار پاکستان کی وفاقی حکومت میں شمولیت سے مکمل محرومی کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے۔ جسکی وجہ سے انکے قائم کیے ھوئے سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط کو دھچکا پہنچ رھا ھے۔ اس لیے 2013 سے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف پرپیگنڈہ میں مصروف رھتے ھیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ناکام حکومت قرار دیتے رھتے ھیں۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف پر الزامات لگاتے رھتے ھیں۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف سازشیں کرتے رھتے ھیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کی کوششیں کرتے رھتے ھیں۔ بلکہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کو ھٹانے کے لیے پاگل ھوتے جا رھے ھیں۔

کہو کہ اے الله بادشاھی کے مالک تو جس کو چاھے بادشاھی بخشے اور جس سے چاھے بادشاھی چھین لے اور جس کو چاھے عزت دے اور جسے چاھے ذلیل کرے ھر طرح کی بھلائی تیرے ھی ھاتھ ھے اور بے شک تو ھر چیز پر قادر ھے۔ (26-3)

سوچنے کی بات یہ ھے کہ اللہ نے نواز شریف کو پاکستان کی بادشاھی تو دی ھے لیکن عزت کیوں نہیں دی؟

دراصل پاکستان کا سیاسی ماحول لسانی ھے۔ اس لیے پنجابی ' سندھ کے بلوچوں اور عربی نزاد سندھیوں ' پنجاب میں رھنے والے بلوچوں اور عربی نزاد پنجابیوں کی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی ' خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں ' پنجاب میں رھنے والے پٹھانوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی پاکستان تحریکِ انصاف ' کراچی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی پارٹی متحدہ قومی موومنٹ کو تو مینڈیٹ دیتے نہیں۔ لہذا پنجابیوں کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن کو مینڈیٹ دے دیتے ھیں۔ پنجاب سے قومی اسمبلی کی 150 نشستیں ھیں۔ پاکستان کی وفاقی حکومت بنانے کے لیے 137 نشستوں کی ضرورت ھوتی ھے۔ جو پنجاب سے ھی مل جاتی ھیں۔ اس لیے نواز شریف کو پاکستان کا وزیرِ اعظم بننا نصیب ھوجاتا ھے۔ لیکن عزت اس لیے نہیں مل رھی کہ؛ پنجابی قوم نے نواز شریف کو پنجاب کے ساتھ ساتھ ' بار بار پاکستان کا حکمراں بھی بنوایا لیکن نواز شریف نے نہ تو رھنما بن کر پاکستان بھر کے پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی سیاسی تربیت کرکے پاکستان کے عوام کو سیاسی سوچ ' سمجھ اور شعور دیا ' نہ پنجابی قوم کی سماجی ' ثقافتی اور سیاسی ترقی کے لیے اقدامات کیے ' نہ پٹھانوں ' بلوچوں ' مھاجروں کی پنجاب کو بلیک میل کرنے ' پاکستان اور پنجابی قوم کے خلاف سازشیں کرتے کی عادت کو ختم کروانے کے لیے سیاسی اقدامات کیے ' نہ حکمرانی کے فرائض انجام دیتے ھوئے پاکستان کے حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر کرکے پاکستان کو مظبوط اور مستحکم ملک بنایا ' نہ معاشی و اقتصادی ترقی دے کر پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بنایا ' بلکہ پنجاب اور پاکستان کی حکمرانی کا فائدہ اٹھاتے ھوئے اپنے ذاتی کاروبار اور اپنے خاندان کے مفادات کے تحفظ میں لگا رھا۔

اس سے بھی زیادہ اھم معاملہ یہ ھے کہ؛

نواز شریف 1985 سے لیکر ' 32 سال کے عرصے سے پنجاب پر راج کر رھا ھے۔ بلکہ حقیقت یہ ھے کہ پنجابی 32 سال کے عرصے سے نواز شریف کو پنجاب پر راج کروا رھے ھیں۔ جبکہ پنجابیوں کے مینڈیٹ سے ھی نوا شریف کو پاکستان پر بھی 3 بار راج کرنے کا موقع ملا۔ لیکن؛

نواز شریف نے انگریزوں کے دور سے پنجاب پر مسلط کی گئی اردو زبان کو پنجاب سے ختم کرکے پنجابیوں کو انکی زبان تک نہ دی۔ تاکہ پنجابی اپنے بچوں کو اپنی ماں بولی میں تعلیم دلوا سکتے اور دفتری معاملات کو اپنی ماں بولی میں انجام دے سکتے۔ بلکہ پنجاب کی تعلیمی اور دفتری زبان پنجابی ھو جانے سے پنجابی تہذیب ' ثقافت اور رسم و رواج نے بھی فروغ پانا تھا جبکہ پنجابی قوم نے بھی پنجابی زبان کے لہجوں اور پنجابی برادریوں کے تنازعات سے نکل کر سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مظبوط ' مستحکم اور خوشحال قوم بن جانا تھا اور پاکستان کی دوسری قوموں کے ساتھ سیاسی ' سماجی ' معاشی اختلافات بھی سلجھا لینے تھے۔