Tuesday, 11 April 2017

پنجابی قوم جب چاھے سندھ میں 4 صوبے بنوا سکتی ھے۔

پنجاب میں آباد ھونے والے بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیرداروں نے 1962 میں سرائیکی کا لفظ وجود میں لاکر "سرائیکی" کے نام پر سازش کرکے ملتانی پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں اور ریاستی پنجابیوں کی شناخت ختم کرکے ان کو اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی غلام بنایا ھوا ھے۔ دراصل جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں پر جنوبی پنجاب میں مقیم بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیردار اپنی سماجی ' سیاسی ' معاشی بالادستی قائم کر تے چلے آرھے تھے۔ جس کا پنجابی قوم نے بروقت تدارک نہ کیا۔ جس کا نتیجا یہ نکلا کہ سماجی ' سیاسی ' معاشی بالادستی کو قائم کرنے کے بعد اب یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیردار اپنی سماجی ' سیاسی ' معاشی بالادستی کو مستقل شکل دینا چاھتے ھیں۔ اسکے لئے پنجاب کو "سرائیکی" یا "جنوبی پنجاب" کے نام پر تقسیم کرنے اور پنجابی قوم کو سیاسی ' سماجی' معاشی اور انتظامی مشکلات میں مبتلا کرنے میں مصروف ھیں۔

جنوبی پنجاب میں رھنے والے سارے ھی بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی "سرائیکی سازش" کا حصہ نہیں ھیں۔ کیونکہ پنجاب میں آباد عام بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی پنجابی بولتا ھے ' پنجابی رسم و رواج اختیار کیے ھوئے ھے اور خود کو پنجابی کہلواتا ھے۔ بلکہ پنجابی ھونے پر فخر کرتا ھے۔ لیکن بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیردار پنجاب میں "سرائیکی سازش" میں مصروف ھیں تاکہ پنجاب میں ملتانی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں اور عام بلوچ ‘ پٹھان ' مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ' قریشی آبادگاروں کو آپس میں پنجابی اور سرائیکی کی بنیاد پر لڑوا کر جنوبی پنجاب پر اپنا قبضہ برقرار اور اپنی جاگیروں کو محفوظ رکھ سکیں۔ اس لیے جنوبی پنجاب میں رھنے والے بلوچ ‘ پٹھان ' مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ' قریشی جاگیردار پنجاب اور پنجابی قوم کو تقسیم کرنے کے لیے سرائیکی کے نام سے ایک نئی قوم کو وجود میں لانے اور جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی سازش کر رھے ھیں۔

بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیردار پنجاب کے اندر "سرائیکی سازش"میں اسلیے بھی مصروف ھیں تاکہ برٹش گورنمنٹ سے ملنے والی جاگیروں کو مستقل طور پر محفوظ  کرنے ' پنجاب کے دریاؤں کے کچے کے علاقوں پر کیے گئے قبضوں کو مستقل کرنے اور ملتانی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں پر اپنا سماجی ' سیاسی ' معاشی تسلط برقرار رکھنے کے لیے "سرائیکی" یا " جنوبی پنجاب" کے نام سے صوبہ بنوا کر اس کی حکومت یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیردار خود سنبھال لیں تاکہ مقامی اور صوبائی معاملات میں ان بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیرداروں کے ظلم اور زیادتیوں کو صوبائی حکومت کے انہی بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیرداروں کے پاس ھونے کی وجہ سے انکو تحفظ بھی مل سکے اور یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیردار پنجاب ' پنجابیوں اور وفاقی حکومت کو مزید بلیک میل بھی کرسکیں۔

دوسری طرف ھندوستان عرصہ دراز سے افغانستان اور سینٹرل ایشن ممالک تک پنہچنے کے درینہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان کے جنوبی علاقے سے راستہ بنانے میں مصروف رھا ھے اور پنجاب مخالف ھر عمل میں بڑہ چڑہ کر حصہ لیتا رھا ھے- جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیرداروں کے جنوبی پنجاب پر قبضہ کرنے کی خواھش کی وجہ سے ھندوستان کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے میں آسانی میسرآئی۔ اس لیے "سرائیکی سازش" کرنے والوں کو پسِ پردہ ھندوستان کا بھرپور تعاون حاصل رھتا ھے۔ جبکہ سندھیوں کی سیاسی پارٹی ' پیپلز پارٹی نے بھی پنجاب میں اپنے لیے نظریاتی کے بجائے نسلی اور علاقائی سیاست کو فروغ دینے کے آسان طریقے کو اختیار کرکے اور "سرائیکی سازش" کی سرپرستی  کرکے بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیرداروں اور ھندوستان کے عزائم کو بھرپور سھارا دیا۔

پنجاب میں ھونے والی سرائیکی سازش کو سندھی سیاستدان اور صحافی بہت بڑہ چڑہ کر سپورٹ کرتے ھیں بلکہ محسوس تو یہ ھو رھا ھے کہ جنوبی پنجاب میں رھنے والے بلوچ ‘ پٹھان ' مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ' قریشی جاگیرداروں سے زیادہ سندھی سیاستدانوں اور صحافیوں کو پنجاب میں ایک نئی قوم کو وجود میں لانے کی خواھش اور پنجاب کو تقسیم کرنے کی فکر ھے۔ سندھی سیاستدان اور صحافی اگر پنجاب کے خلاف سرائیکی سازش سے باز نہ آئے اور پنجاب میں  سرائیکی سازش کرنے کی پنجابی قوم سے معافی نہ مانگی تو پنجاب کی صحت پر تو فرق پڑنا نہیں لیکن سندھ میں 4 صوبے ضرور بن جانے ھیں۔ جو کہ درج ذیل ھونگے؛

1۔ شمالی سندھ میں سرائیکیوں اور پنجابیوں کے لیے سرائیکی صوبہ جہاں صوبائی زبان سرائیکی اور پنجابی ھوگی۔

2۔ وسطی سندھ میں سندھیوں اور پنجابیوں کے لیے مھران صوبہ جہاں صوبائی زبان سندھی اور پنجابی ھوگی۔

3۔ مشرقی سندھ میں تھریوں اور پنجابیوں کے لیے تھرپارکر صوبہ جہاں صوبائی زبان تھری اور پنجابی ھوگی۔

4۔ جنوبی سندھ میں پنجابیوں ' پٹھانوں ' گجراتیوں ' راجستھانیوں ' بہاریوں اور یوپی ' سی پی والوں کے لیے کراچی صوبہ جہاں صوبائی زبان اردو اور پنجابی ھوگی۔

قومی اسمبلی میں 272 میں سے 150 نشستیں پنجاب سے ھونے کی وجہ سے دو تہائی کی اکثریت کے ذریعہ آئین میں ترمیم کرنا پنجابی قوم کے لیے کوئی مسئلہ نہیں  ھے۔ اس لیے سندھیوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاھیئے کہ "شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہیں مارا کرتے ۔"