Sunday, 30 April 2017

پنجاب یونیورسٹی میں ایک پنجابی کی روداد (1) تحریر ابو بکر صدیق

دو سال قبل جب ایم فل فلسفہ میں داخلہ لیا تو پنجاب یونیورسٹی کی زندگی سے براہ راست تعلق پیدا ہوا۔ اس سے پہلے میں یہاں بس کبھی کبھار ہی آیا تھا اور ادھر کے ہنگاموں کو یہاں کے چند دوستوں کی روایات اور اخباروں کے ذریعے ہی جانتا تھا۔ ان دوستوں میں سے بیشتر نے یہاں اپنا وقت اس دور میں گزارا تھا جب عمران خان کے ساتھ بد سلوکی کے واقعے بعد عام طلبا اور این ایس ایف نے مل کر جمیعت کے خلاف یونیورسٹی اسٹوڈنٹس فیڈریشن بنائی تھی۔ انہی دوستوں سے این ایس ایف کے اجتماعات میں بھی ملنا ہوتا رہا جہاں طلبہ سیاست کے حوالے سے پنجاب یونیورسٹی میں ان کے تجربات جاننے کو ملتے۔ خیر داخلہ ملنے کے کچھ ایک ماہ بعد مجھے یونیورسٹی ہاسٹل نمبر 1 میں کمرہ الاٹ ہوا ۔ یہ ہاسٹل ایک عرصے سے جمیعت کا گڑھ تھا اور یہاں میں اور جاسم بلوچ روم میٹ تھے۔ جاسم میرا ہم جماعت بھی تھا اور بلوچ کونسل کے مرکزی عہدیداروں میں شامل تھا۔ ہم دونوں شعبہ فلسفہ سے تھے لہذا کمرے کا ماحول خودبخود ایک خاص انداز سے تشکیل پاتا گیا اور دن رات کے مباحثے اور بیٹھک گرم رہنے لگی۔ ڈاکٹر مجاہد کامران کے عہد وائس چانسلری کے آخری مہینے تھے۔ جمیعت پر بظاہر میدان کافی تنگ کر دیا گیا تھا اور وہ پرانے دوست جب کبھی ہمارے یہاں آتے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ ہمارے کمرے کے باہر بہت سے چپل دھرے ہیں اور اندر کئی لوگ تمباکو کے دھویں میں لپٹی مباحثوں کی شمع روشن کیے بیٹھے ہیں لیکن کوئی ‘رفیق’ نہ تو چپل شماری کرنے آتا ہے نہ ہی دروازہ بجا کر صورت حال کی وضاحت طلب کرتا ہے۔ چند ستم شناسا ان حالات میں بھی نصیحت سے باز نہ آتے اور مشورہ دیتے کہ بچ بچا کے رہا کرو، حالات بہت سنگین بھی ہو سکتے ہیں۔ ہمیں جمیعت کہیں نظر نہ آتی تھی ہم بات ہنسی میں ٹالتے اور اگلا سگریٹ سلگا کر کوئی نیا موضوع تازہ کرتے۔

نئے سال کے اوائل میں ہی پہلے تو ایک پوسٹر جس پر کسی تنظیم کا نام نہ تھا بلکہ عبارت کے مطابق وہ طلبا کی آواز تھی ہاسٹلز اور کینٹین وغیرہ میں چسپاں پایا گیا۔ اس پوسٹر میں چند متفرق اور بے ضرر مطالبات تھے جنہیں پڑھ کر کسی خاص تنظیم کا شبہ نہ ہوتا تھا۔ جیسے ہی ڈاکٹر مجاہد کامران کی معیاد ختم ہونے کو آئی تو آہستہ آہستہ ہنگامے شروع ہونے لگے اور ساتھ ہی جمیعت بھی دھیرے دھیرے نمودار ہونا شروع ہوئی ۔ ہنگاموں کی شدت اس وقت اور بھی بڑھ گئی جب ڈاکٹر صاحب کو عبوری توسیع دی گئی۔ وہ معمول کی ایک شام تھی جب اچانک ہمارے ہاسٹل کے باہر اجتماع اور نعروں کی گونج آنا شروع ہوئی۔ تھوڑی ہی دیر میں جاسم کو میسج موصول ہوا کہ احتیاطی تدابیر اپنا لو جمیعت کے کارکن تم لوگوں کے ہاسٹل کے باہر جمع ہیں اور دھاوا بول سکتے ہیں۔ اسی دوران ہاسٹل کا بند گیٹ توڑ دیا گیا اور سب سے نچلی منزل پر توڑ پھوڑ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ کمرے میں جاسم اور فاروق بلوچ موجود تھے جو دونوں ہائی ویلیو ٹارگٹ تھے کیونکہ بلوچ طلبا کی مدد سے مجاہد کامران جمیعت کا زور توڑنا چاہتے تھے جس کی وجہ سے جمیعت اور بلوچ نیز پشتون طلبا میں ٹھن گئی تھی۔ کمرے میں واحد پنجابی میں تھا چنانچہ فیصلہ ہوا اور میں کمرے کو باہر سے تالا لگا کر جمیعت کے ریلے کے درمیان سے چپ چاپ گزرتا ہاسٹل سے باہر کھیل کے میدان میں آ گیا۔ اس دوران جبکہ نچلی منزل پر کافی توڑ پھوڑ ہو رہی تھی کسی کو مجھ سے کوئی خاص سروکار نہ تھا لیکن اگر جاسم یا فاروق میرے ساتھ ہوتے تو یقیناً ہم اجتماعی طور پر مار کھاتے۔

اس لڑائی کے بعد ایک سلسلہ شروع ہو گیا جو معمولی وقفوں کے بعد ابھی تک جاری ہے۔ اسی دوران ہاسٹل کی زندگی بھی بدلتی گئی۔ کئی دفعہ سینکڑوں پولیس والے ہوسٹل کا محاصرہ کیے رکھتے۔ جمیعت کے ریلے کے بعد بلوچ اور پشتونوں کی باری آتی اور اسی طرح سلسلہ جاری رہتا۔ اس کے ساتھ ہی ہاسٹل کی زندگی کی نوعیت تک تبدیل ہونا شروع ہوئی اور یہ محسوس ہونے لگا کہ ایک طرف جمیعت ہے اور دوسری طرف بلوچ و پشتون کونسلز۔ جیسے جیسے ہنگامے بڑھنے لگے میرے سمیت ان گنت طلبا کے لیے یہ سوال اہم ہوتا گیا کہ آخر وہ کس سے تعلق رکھتے ہیں؟ مجھے یہ احساس بھی ہوتا کہ پہلے میں یہاں کے لوگو ں سے محض ساتھی طالب علم کی حیثیت سے ملتا تھا اور تعلق کی نوعیت علمی تھی لیکن اب کئی لوگوں سے تعلق کی نوعیت اس سیاسی و تنظیمی رعایت سے بننا شروع ہوئی کہ یہ فلاں فلاں گروہ کے فلاں عہدیدار ہیں۔ برسات کی بارشوں کی طرح گروہی تعصبات ایک دم سے بوچھاڑ کی طرح جاری ہو گئے۔ ہم جمیعت کے حامی تو نہیں تھے لیکن نسلی اور لسانی اعتبار سے بلوچ یا پشتون بھی نہ تھے لہذا جمیعت کی مخالفت میں ان کے ہمدرد ہونے کے باوجود بہرحال ان میں سے نہیں تھے۔

پنجاب یونیورسٹی ایک بڑا ادارہ ہے جہاں اقامت گاہوں میں ہزاروں طلبا رہتے ہیں۔ اگرچہ طلبا میں باہمی اختلاط ناپید نہ ہوا تھا تاہم بلوچ ہوں یا پشتون لسانی و علاقائی بنیادوں پر گروہ بندی میں ان کے اپنی کونسلز تھیں جہاں ہر تنظیم کی طرح مفاد عامہ کے ساتھ ساتھ خصوصی گروہی مفادات کو بھی مدنظر رکھا جانا تنظیمی مجبوری تھی۔ ان حالات میں ایک پنجابی ہونے کی حیثیت سے میں نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ طوہاً و کرہاً میری شناخت ایک پنجابی ہونا ہے جو امن پسند اور صلح کل کا قائل تو ہے تاہم ہنگاموں کے گرم موسم میں اسے کسی ایک طرف شمولیت بہرحال اختیار کرنا تھی ورنہ وہ بالکل بے آسرا تھا۔ میری طرح ایسے ان گنت پنجابی طلبا جو نہ تو جمیعت کے رکن تھے نہ ہی ہمدرد ان کے لیے بھی یہ سوال اہم ہوتا جا رہا تھا۔ کیونکہ گروہی و تنظیمی اعتبار سے وہ کسی بھی طرف نہ تھے سو جب بھی ہنگامہ ہوتا یا تو کمرے کو تالا لگا کر غائب ہوجاتے یا ہرگروہ کو اپنی غیر جانبداری کا یقین دلاتے۔ ایک اور مصیبت یہ تھی کہ ایسے ان گنت طلبا لڑائیوں کے دوران براہ راست زد میں بھی رہتے مگر نہ تو انہیں کسی تنظیمی عہدیدار جیسا پروٹوکول ملتا نہ ہی وہ انتظامیہ یا طلبا کے کسی قسم کے مذاکرات یا فیصلہ سازی کا حصہ ہوتے۔ گویا لاتعلقی کے ساتھ بے طاقتی اور بے نامی کا احساس علیحدہ موجود تھا۔ ان حالات میں یہ سوال مزید نمایاں ہوتا گیا کہ آخر پنجاب کے دارالحکومت کی سب سے بڑی جامعہ یعنی پنجاب یونیورسٹی کے اندر ایک پنجابی کی شناخت کیا ہے اور اس شناخت کا تنظیمی اظہار کہاں واقع ہے؟

جو حضرات یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں سب کی شناخت محض طالب علم ہوا کرتی ہے میں انہیں واقعیت پسند نہیں سمجھتا۔ ایک ایسی جگہ جہاں مختلف علاقوں سے آئے کئی بولیاں بولتے ہزاروں طلبا ہمہ وقت اکٹھے موجود ہوں وہاں گروہی شناخت کا پیدا ہونے لازمی امر ہے۔ یہ شناخت محض پہچان سے بھی پیدا ہو سکتی ہے تاہم ‘پہچان ‘ کوئی مجرد تصور نہیں ہے بلکہ اس کے مفہوم میں لازمی طور پر وہ حدود بھی شامل ہوتی ہیں جو کسی ایک پہچان کو دوسری پہچان یا شناخت سے ممتاز کرتی ہیں۔ گویا پہچان کے سامنے آتے ہی امتیاز کا پیدا ہونا لازم ہے۔ تاہم  ایسی صورتحال میں جہاں کئی انواع کی ‘شناخت ‘ موجود ہو ان لازمی امتیازات کا بندوبست ایک اور معاملہ ہے۔ جہاں امن ممکن ہے وہیں تناؤ اور تشدد کے امکانات بھی موجود رہتے ہیں۔

یہاں دو مختلف واقعات یاد آرہے ہیں جو ہمارے موضوع کے اعتبار سے ایک ہی رخ میں واقع ہیں۔

ایم فل کے پہلے سمسٹر کی بات ہے کہ ایک دن جاسم اور میں شعبہ فلسفہ کے لان میں بنچ پر بیٹھے دھوپ سینکتے ہوئے گپ لگا رہے تھے کہ ایک صاحب ہمارے ساتھ آ کر بیٹھ گئے اور کچھ دیر ہماری باتیں سنتے رہے پھر پوچھنے لگے کہ یہ فلسفہ ڈیپارٹمنٹ میں کیا پڑھایا جاتا ہے اور اس کے سبجیکٹس کا بزنس سے کیا تعلق ہے؟ ہم ان کا سوال سمجھ نہ پائے اور اپنے عجز کے اظہار میں انہیں فلسفے اور کاروبار میں فرق سمجھانے لگے تو وہ اچانک میری بات کاٹ کر مجھ سے یوں گویا ہوا کہ آپ پنجابی لگتے ہیں اور میں خود اوکاڑہ سے ہوں۔ ہم لوگ دیہاتوں سے یہاں آتے ہیں۔ ہمیں گروپ بنا کر رہنا چائیے تاکہ ‘ پاور’ مل سکے۔ ساتھ ہی فوراً جمیعت میں شامل ہونے کا مشورہ بھی دیا۔ جاسم نے یہ سنا تو بھنا کر بولا کہ میں بلوچ ہوں اور یہ میرا دوست ہے جو کبھی جمیعت میں نہیں جا سکتا۔ وہ صاحب کامل بے نیازی سے بولے کہ آپ بلوچ ہیں آپ بے شک نہ آئیں۔ یہ پنجابی ہیں میں ان سے بات کر رہا ہوں۔ خیر ان سے کیا بات ہوتی ہم وہاں سے اٹھ گئے۔

اس قصے پر چند ماہ گزر گئے۔ ہاسٹلز میں ہنگاموں کا آغاز ہو چکا تھا۔ جمیعت کے حملوں کے بعد ہر ہوسٹل میں بلوچ اور پشتون کونسلز نے جوابی کارروائی کی تاکہ جمیعت زور نہ پکڑنے پائے۔ ایک شام میں سٹوڈنٹ ٹیچر سنٹر چائے کے تناظر میں چند دوستوں کا انتظار کر رہا تھا۔ میرے یہ دوست لاء اور تاریخ کے شعبہ جات سے تھے۔ ان میں بھائی عاصم فراز سمیت میرے آبائی ضلع سرگودھا کے کئی دوست اور ایف سی کالج میں میرے ہم جماعت بھائی مظہر حسین جیسے قصور اور دیگر علاقوں کے پنجابی دوست شامل تھے۔ یہ احباب روایتی وضع دار پنجابی تھے جو شلوار قمیض پہنتے ، پنجابی بولتے اور اپنے حلیے سے پہچانے جانے والے لوگ تھے جو گذشتہ چار سالوں سے یہاں مقیم تھے۔ جب وہ ذرا دیر سے آئے تو بتانے لگے کہ ہمارے ہاسٹل کے سامنے پشتون و بلوچ طلبا کا ایک گروپ موجود تھا جو گیٹ سے باہر جاتے ہر غیر پشتون ، غیر بلوچ کا کارڈ چیک کرنے کے بعد تسلی کر رہے تھے کہ کہیں یہ جمیعت کے رکن تو نہیں۔ یہ دوست جمیعت سے کسی بھی طرح منسلک نہ تھے تاہم یوں کارڈ چیک کرانا اپنی ہتک سمجھ رہے تھے۔ انہوں نے کارڈ تو چیک نہ کرائے تاہم معاملہ کسی طرح رفع دفع گیا۔

ان دو واقعات کو آپس میں جوڑا تو بھیانک تصویر بننے لگی۔ کیا پنجابی ‘ پاور ‘ یا کسی قدر عزت کے لیے جمیعت میں ہی جائے گا ؟ اگر جمیعت میں نہ جائے تو کس تنظیم کے رکن کی شناخت پائے یا اپنی شناخت کا تنظیمی اظہار کیسے کرے جس سے اس کے جائز مفادات کی نگہبانی ہو؟ (جاری ہے)