Sunday, 9 April 2017

پاکستان سے زمین کا ایک انچ بھی اب الگ نہیں ھو سکتا۔

پنجابی صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں بلکہ خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھے۔ جبکہ پاکستان میں قوم بھی صرف پنجابی ھی ھے اور پنجابی قوم کی آبادی پاکستان کی کل آبادی کا 60٪ ھے۔

خیبرپختونخواھ کا علاقہ افغان قوم اور پنجابی قوم کے درمیان بفر زون ھے۔ جس میں مختلف قبائل رھائش پذیر ھیں۔ ان قبائل کو قوم نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ ھندکو قبائل کے افراد خیبرپختونخواھ کے اصل باشندے ھیں۔

بلوچستان کا علاقہ ایرانی قوم اور پنجابی قوم کے درمیان بفر زون ھے۔ جس میں مختلف قبائل رھائش پذیر ھیں۔ ان قبائل کو قوم نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ براھوی قبائل کے افراد بلوچستان کے اصل باشندے ھیں۔

سندھ کا علاقہ ایک ایسی کالونی ھے۔ جس میں سماٹ سندھیوں کے علاوھ بلوچ' سید ' پنجابی ' پٹھان ' راجستھانی ' گجراتی ' یوپی والے ' سی پی والے ' بہاری ' گلگتی ' کشمیری ' سواتی وغیرھ بے شمار برادریاں آباد ھیں۔ اس لیے ان برادریوں کو قوم نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ سماٹ قبائل کے افراد سندھ کے اصل باشندے ھیں۔

1947 میں 20 لاکھ پنجابی مروا کر ' 2 کروڑ پنجابی بے گھر کروا کر ' پنجاب کو تقسیم کروا کر ' مسلمانوں کے لیے جو پاکستان بنایا گیا تھا۔ وہ 1971 میں مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ختم ھو گیا۔ یہ مغربی پاکستان ھے۔ جسکا نام پاکستان رکھ دیا گیا۔ حالانکہ 60 % پنجابی اکثریت کی وجہ سے مغربی پاکستان کا نام پاکستان نہیں بلکہ پنجابستان رکھنا چاھئے تھا۔ 1973 کے آئین میں مغربی پاکستان کا نام خاہ مخواہ پاکستان رکھ کر کنفیوژن پیدا کیا گیا۔ ویسے 1971 کے بعد وجود میں آنے والے اس موجودہ پنجابستان کے لئے پاکستان کا نام بھی مناسب ھے کیونکہ لفظ پاکستان بھی ایک پنجابی چوھدری رحمت علی نے تخلیق کیا تھا اور تجویز بھی ان علاقوں کے لیے کیا تھا جو اس وقت پاکستان میں ھیں۔ سوائے کشمیر کے اور مشرقی پنجاب کے ' جن پر بھارت نے قبضہ کیا ھوا ھے۔

چوھدری رحمت علی کے تجویز کردہ پاکستان میں پنجاب (بغیر تقسیم کے) ' افغانیہ (فاٹا کے علاقے) ' کشمیر ' سندھ ' بلوچستان کے علاقے تھے۔ بنگال کے لیے بنگستان کے نام سے الگ ملک اور بھارت کے مسلمانوں کے لیے عثمانستان کے نام سے ایک الگ ملک کی تجویز تھی۔ بحرحال ' اب کسی پریشانی کی ضرورت نہیں۔ یہ پنجابستان یا پاکستان کہیں نہیں جاتا۔ اس نے ایسے ھی رھنا ھے۔ پنجابی اپنی زمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑا کرتا۔ اس لیے اس پنجابستان یا پاکستان سے زمین کا ایک انچ بھی اب الگ نہیں ھو سکتا۔ بلکہ چوھدری رحمت علی کے تجویز کردہ پاکستان کو مکمل کرنے کے لیے کشمیر اور مشرقی پنجاب کو بھی پاکستان کے موجودہ علاقے کے ساتھ شامل کرکے چوھدری رحمت علی کے تجویز کردہ پاکستان کو مکمل کیا جائے گا۔