Wednesday, 28 October 2015

اردو پاکستان کی اصل قوموں یعنی پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کی زبان نہیں ھے۔

14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا- 22 اگست 1947 کو جناح صاحب نے سرحد کی متخب حکومت کوبرخاست کردی- 26 اپریل 1948 کو جناح صاحب کی ہدایت کی روشنی میں گو رنر ھدایت اللہ نے سندھ میں ایوب کھوڑو کی متخب حکومت کو برطرف کر دیا اور اسی روایت کو برقرار رکھتے ھوئے لیاقت علی خان نے 25جنوری 1949 کو پنجاب اسمبلی کو تحلیل کر دیا- یعنی ملک کے وجود میں آنے کے ڈیڑھ سال کے اندر اندر جمہوری اداروں کا دھڑن تختہ کر دیا گیا۔
12 مارچ 1948 کو قرارداد مقاصد منظور کی گئی اور 21 مارچ 1948کو رمنا ریس کورس ڈھاکہ میں جناح صاحب نے انگریزی زبان میں اکثریتی زبان بولنے والے بنگالیوں سے کھ دیا کہ سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ھو گی اور اس بات کی مخالفت کرنے والے ملک دشمن تصور ھونگے۔ اس دوران نہ تو  زرعی اور صنعتی شعبے میں اصلاحات کی گئیں اور نہ ہی آئین سازی پر دھیان دیا گیا۔
پاکستان بننے کے بعد ھمارے پلے یہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر پناھگیر پڑے ' جنہوں نے پاکستان بنتے ھی پاکستان کی اصل قوموں بنگالی, پنجابی, سندھی, پٹھان, بلوچ کی زمین پر قبضہ کرکے ان پر حکومت کرنا شروع کردی. ایک مھاجر پناھگیر کو وزیراعظم بنایا دوسرے مھاجر پناھگیر کو حکومتی پارٹی کا صدر بنایا ' جھوٹے کلیموں پر ھندوستان سے مھاجر پناھگیروں کو بلا بلا کرجائیدادیں ان میں بانٹیں ' خاص کوٹہ برائے مھاجرین مخصوص کرکے جعلی ڈگریوں کے ذریعے بڑی بڑی سرکاری نوکریوں پر مھاجر پناھگیر بھرتی کیے ' بنگالی' پنجابی' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کی زبانوں کو قومی زبان بنانے کے بجائے اپنی زبان اردو کو مسلمانوں کی زبان ھونے کا ڈھنڈھورا پیٹ پیٹ کر اور رابطے کی زبان قرار دے دے کر قومی زبان بنا کر بنگالی ' پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کو اردو بولنے پر مجبور کیا جس کو ماننے سے انکار کرکے ' بڑی قوم ھونے اور ان مھاجر پناھگیروں کے مرکز کراچی سے دور ھونے کی وجہ سے بنگالی قوم نے آزادی حاصل کرلی لیکن پنجابی' سندھی ' پٹھان ' بلوچ اب تک ان میں پھسے ھوئے ھیں۔
پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ پاکستان کی اصل قومیں اور پاکستان کے اصل مالک ھیں. پنجابی کے ھندوستانی مھاجر پناھگیروں اور ھندوستانی مھاجر پناھگیروں کی زبان اردو کو غیر ضروری سپورٹ کرنے کی وجہ بنگالی الگ ھوگئے. سندھی ' پٹھان ' بلوچ ناراض ھیں کیونکہ پاکستان کے قیام سے لیکر پنجابی نے پاکستان کی دیگر قوموں یا افراد پر اپنی زبان پنجابی کو مسلط کرنے کی کوشش تو نہیں کی ' لیکن پکستان کی قومی زبان اردو ھوجانے کی وجہ سے ' اردو زبان کو ھی حقیقت میں عملی طور پر قومی زبان بنانے کے لیے ' اردو کو اس قدر اھمیت دینا شروع کردی کہ اپنی زبان پنجابی کے بھی وجود تک کو خطرے میں ڈال کر پنجابی قوم کو سماجی عدم استحکام کی طرف دھکیلنا شروع کردیا۔
پاکستان اپنے قیام کے وقت تو یوپی کے اردو بولنے والے مھاجر سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے چنگل میں پھنسا ھوا تھا لیکن 1950 سے پنجابی بیوروکریٹس نے مھاجر بیوروکریٹس کو رگڑا لگانا شروع کردیا۔ مھاجر بیوروکریٹس کو اردو زبان ' مھاجر سیاستدانوں اور اردو میڈیا کی سہولت دستیاب تھی جو کہ پنجابی بیوروکریٹس کے پاس نہیں تھی اس لیے مھاجر بیوروکریٹس نے اس کا خوب فائدہ اٹھایا اور نہ صرف بنگالی بلکہ سندھی ' پٹھان اور بلوچ کو بھی پنجابی کے پیچھے لگا دیا۔
پنجابی بیوروکریٹس مھاجر بیوروکریٹس کو تو رگڑا لگانے میں کامیاب ھوگئے لیکن سیاسی اور صحافتی محاذ پر کمزور ھونے کی وجہ سے بنگالی ' سندھی ' پٹھان اور بلوچ کو مھاجر اور پنجابی بیوروکریٹس کی محاذآرائی کے حقائق سے آگاہ کرکے اعتماد میں لینے کے بجائے ان کے نزدیک ھر برائی کے ذمہ دار قرار پاگئے۔
اگر پنجابی بیوروکریٹس صرف اردو زبان سے جان چھڑا کر پاکستان کی اصل قوموں کی زبانوں بنگالی ' پنجابی ' سندھی ' پشتو اور بلوچی کو پاکستان کی قومی زبانیں بنوا دیتے تو مھاجر بیوروکریٹس نے اردو زبان کے نہ ھونے سے ھی اردو میڈیا پر اپنا اثر ختم کروا بیٹھنا تھا جس سے ان کو بنگالی ' سندھی ' پٹھان اور بلوچ قوموں کو ورغلانے میں کامیابی نہیں ھونی تھی۔
اردو پاکستان کی اصل قوموں یعنی پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کی زبان نہیں بلکہ پاکستان پر ' اسلام کے نام پر قابض ھوجانے والے مھاجر پناھگیروں کی زبان ھے. پاکستان کا قیام چونکہ دوسری جنگ عظیم کے اثرات کی وجہ سے برطانیہ نے جلد بازی میں اور برصغیر کے باشندوں کے مفادات کے بجائے اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا ' اس لیے پاکستان کے قیام کے بعد وقت گذرنے کے ساتھ اسلام کے نام پر قابض ھوجانے والے ان مھاجر پناھگیروں کے متعلق معلوم ھوا کہ یہ اسلام کے نام پر لوٹ مار کرنے والا فسادیوں کا ٹولہ ھے جو پاکستان میں غیر قانونی طور پر رھائش پذیر ھے۔ اسلے پاکستان کی قومی زبان یا زبانوں کا درجہ تو پاکستان کے اصل باشندوں یعنی بنگالی ' پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کی زبانوں کو ملنا چاھیئے تھا۔
انگریزی کے ساتھ ساتھ پنجاب کی تعلیمی اور دفتری زبان پنجابی ' سندھ کی سندھی' پختونخواہ کی پشتو اور بلوچستان کی بلوچی ھونی چاھیئے. اصل حقیقت یہ ھے کہ اردو کے ساتھ لاھور ' کراچی اور پنجاب و سندھ کے دیگر بڑے بڑے شہروں پر قابض مھاجر پناھگیروں یا ان کے زیر اثر کچھ پنجابیوں کے علاوھ کسی کو دلچسپی نہیں. عام پنجابی' سندھی' پٹھان' بلوچ خوشی سے نہیں بلکہ دفتری اور تعلیمی زبان ھونے کی وجہ سے مجبورا اردو بولتے ھیں. پاکستان کی اصل قوموں کی زبانوں کو تعلیمی اور دفتری زبان بنانے سے پنجابی' سندھی' پٹھان' بلوچ میں رابطہ مزید بہتر ھوجائے گا. پیار محبت بھی بڑھے گا اور ھم آھنگی بھی پیدا ھوگی۔