Tuesday, 16 February 2016

علامہ اقبال مسلم امہ اور پنجابی قوم کا محسن تھا یا دشمن؟

انسان کے شخصی کردار کے تین پہلو ہوتے ہیں۔
ایک ذاتی پہلو۔
دوسرا دینی پہلو۔
تیسرا قومی پہلو۔

انسان کا ذاتی کردار ہر انسان کا اپنا اور اسکے خاندان کا مسئلہ ہوتا ہے اس لیے انسان کے ذاتی کردار کی خوبیوں یا خامیوں سے عوام کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا لیکن انسان کے دینی اور قومی معاملات میں انجام دیے جانے والے اچھے یا برے کردار کا اثر چونکہ عوام پر پڑتا ھے اس لیے عوام کو حق حاصل ہے کہ کسی شخص کے دینی اور قومی معاملات میں انجام دیے جانے والے کردار کا جائزہ لیں تا کہ مثبت کردار ادا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاسکے اور اسکے ساتھ تعاون بھی کیا جائے جبکہ منفی کردار ادا کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو اس شخص کے منفی کردار کے اثرات سے بچانے کے اقدامات کیے جا سکیں۔

9 نومبر کو شاعر مشرق "علامہ اقبال ڈے" قرار دیا جاتا ہے۔ علامہ اقبال دینی لحاظ سے مسلمان تھا اور قوم کے لحاظ سے پنجابی تھا۔ علامہ اقبال کے عوامی کردار پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ؛

1۔ علامہ اقبال نے پنجابی قوم کو اسلام کی تبلیغ کرنے کے نام پر اردو کا زھر پلا کر پنجابیوں کو "دولے شاہ کے چوھے" کیوں بنایا؟

2۔ پنجابی مسلمان ' مسلم امہ کی تیسری بڑی آبادی تھے۔ علامہ اقبال خود بھی پنجابی تھے۔ پھر علامہ اقبال نے پنجابی قوم کو پنجابیوں کی زبان پنجابی کی طرف کرنے کے بجائے اترپردیش کے تھوڑے سے مسلمانوں کی زبان اردو کے پیچھے لگا کر مسلم امہ کی تیسری بڑی آبادی کے تشخص کو پامال کرکے پنجابی قوم کو سماجی اور سیاسی ظور پر تباہ و برباد کرکے مسلم امہ کو کمزور کیوں کیا؟

علامہ اقبال نے پنجابی ھو کر پنجابی قوم کو جس طرح اجنبی زبان کے پیچھے لگایا ' اس کا نقصان پنجابی قوم کی کئی نسلوں اور مسلم امہ نے بھگتا ھے۔ یہ تو بابا فرید ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' غلام فرید ' میاں محمد بخش جیسے بزرگوں کی محنت تھی جو پنجابی قوم اور مسلم امہ کی تیسری بڑی آبادی کو علامہ اقبال کی اردو والی پلائی گئی زھر سے بچا لیا۔

علامہ اقبال اگر پنجابی قوم اور مسلم امہ کا محسن ھوتا تو پھر اس نے پنجابی قوم کو اسلام کی تبلیغ اردو میں نہیں کرنی تھی بلکہ بابا فرید ' شاہ حسین ' سلطان باھو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' غلام فرید ' میاں محمد بخش جیسے بزرگوں نے جس طرح پنجابیوں کی مادری زبان پنجابی میں کی تھی ' ویسے ھی پنجابی زبان میں کرنی تھی۔

حضرت محمد ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی الله تعالیٰ نے بھیجے انہیں کسی مخصوص قوم کی طرف بھیجا گیا لیکن حضرت محمد ﷺ کو الله تعالیٰ نے نہ صرف آخری نبی بنا کر بھیجا بلکہ سارے عالمین کے لیے بھیجا۔

(اے محمدﷺ) ہم نے تجھے تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے (107-21) ہم نے تم سے پہلے (بہت سے) رسول بھیجے۔ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دیئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کئے۔ (78-40) اور ہم نے ہررسول کو اس کی قوم کی زبان میں پیغام دے کر بھیجا تاکہ انہیں (احکام الله) کھول کھول کر بتا دے۔ (4-14)

الله تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو نہ صرف آخری نبی بنا کر بھیجا بلکہ سارے عالمین کے لیے بھیجا۔ اس لیے جتنی بھی قومیں تھہیں یا ہیں ' حضرت محمد ﷺ سب کے نبی تھے ' نبی ہیں اور قیامت تک نبی رہیں گے۔ اس لیے قیامت تک کے لیے حضرت محمد ﷺ ہی نبی ہیں۔ قرآنِ پاک آخری کتاب ہے۔ ہم حضرت محمد ﷺ کے امتی اور آخری امت ہیں۔

حضرت محمد ﷺ کی زبان عربی تھی۔ اس لیے الله تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کی زبان میں ہی حضرت محمد ﷺ کو کتاب دی۔ قوم اور زبان کی اہمیت کے بارے قرآنِ پاک میں الله تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور الله کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ (13-49)

ہم نے ہررسول کو اس کی قوم کی زبان میں پیغام دے کر بھیجا تاکہ انہیں (احکام الله) کھول کھول کر بتا دے۔ (4-14) اور اسی طرح ہم نے وحی کیا ہے تمہارے پاس قرآن عربی تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکّے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو رستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ۔ (7-42) اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔ (37-13) اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت۔ اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے۔ اور نیکوکاروں کو خوشخبری سنائے۔ (12-46)

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔ (2-12) اور یہ قرآن (خدائے) رب العالمین کا اُتارا ہوا ہے۔ (192-26) اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہے۔ (193-26) (یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو۔ (194-26) اور (القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)۔ (195-26) اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں۔ کیا (خوب کہ قرآن تو) عجمی اور (مخاطب) عربی۔ (44-41) اسی لیے ہم نے یہ قرآن عربی نازل کیا ہے۔ (113-20) کہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو۔ (3-43) (ایسی) کتاب جس کی آیتیں واضح (المعانی) ہیں (یعنی) قرآن عربی ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔ (3-41)  

الله تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو نہ صرف آخری نبی بنا کر بھیجا بلکہ سارے عالمین کے لیے بھیجا۔ اس لیے جتنی بھی قومیں تھیں یا ہیں ' حضرت محمد ﷺ عربی قوم کے علاوہ ان تمام قوموں کے بھی نبی تھے ' نبی ہیں اور قیامت تک نبی رہیں گے۔ اس لیے الله تعالیٰ کے ولیوں کا کام ہے کہ الله تعالیٰ کی طرف سے حضرت محمد ﷺ کو دیے جانے والے پیغام کو ' جو کہ قرآنِ پاک میں موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا ' اس پیغام کو الله تعالیٰ کے ولی ھر قوم کو اس قوم کی زبان میں سمجھائیں۔

حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں یہ کام صحابہء کرام انجام دیتے رہے۔ صحابہء کرام کے بعد تابعین اور تابع تابعین انجام دیتے رہے۔ اس کے بعد الله تعالیٰ کے ولیوں ' درویشوں ' صوفیوں نے انجام دینا شروع کیا اور تا قیامت ہوتا رھنا ھے۔

الله تعالیٰ کے ولیوں ' درویشوں ' صوفیوں کی پہچان یہ ہے کہ انکی باتیں سن کر یا کلام پڑہ کر قرآنِ پاک کو پڑھا جائے تو انکی باتوں کی تصدیق قرآنِ پاک کی آیات کریں تو وہ الله تعالیٰ کے ولی ' درویش ' صوفی ہیں۔ جو اپنی باتوں اور کلام کے ذریعے نوعِ انسانی کو ' انہیں کی زبان میں وہ پیغام پہنچا رہے ہوتے ہیں جو قرآنِ پاک کی صورت میں ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کو الله تعالیٰ نے آخری نبی کے طور پر دیا۔ اس لیے ہی الله تعالیٰ کے ولی ' درویش ' صوفی چاہے کسی بھی قوم کے ہوں یا کسی بھی علاقے کے ہوں ' انکی باتیں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں' صرف زبان یا طرزِ بیان مختلف ہوتا ہے۔