Monday, 8 February 2016

پنجابی قوم پرست قیادت تیار کرکے نواز شریف سے نجات حاصل کی جائے۔

پاکستان سے 1971 میں بنگال کے الگ ھونے تک پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ مہاجر لیاقت علی خان سے لیکر ' مہاجر مودودی و مہاجر نورانی' بنگالی حسین شہید سہروردی ' بنگالی مجیب و بنگالی بھاشانی ' سندھی بھٹو و سندھی جی۔ایم سید ' پٹھان ولی خان ' پٹھان قیوم خان و پٹھان  نصراللہ خان ' بلوچ خیر بخش مری' بلوچ اکبر بگٹی' بلوچ عطا اللہ مینگل کے پاس رھی. ایک بھی قومی سطح کا پنجابی سیاسی لیڈر نہیں تھا. ملٹری لیڈرشپ پٹھان ایوب خان ' پٹھان یحیٰ خان'  بلوچستان کے ھزارھ موسی خان کے ھاتھ میں رھی. ایک بھی پنجابی فوج کا سربراہ نہیں بنا تھا.

بنگال کے پاکستان سے الگ ھونے کے بعد ' 1975 میں ضیاؑ الحق کو پاکستان کی فوج کا پہلا پنجابی آرمی چیف بنایا گیا اور 1988 میں پنجاب سے باھر کے سیاستدانوں سے پنجاب کو نجات دلوانے کے لیے پنجابی قوم نے نواز شریف کو پنجاب  کا حکمراں بنوایا۔ جبکہ پاکستان کی وفاقی حکومت سندھی بے نظیر بھٹو کے پاس تھی لیکن پنجاب میں نواز شریف کی حکومت ھونے کی وجہ سے پنجاب کو  سندھی بے نظیر بھٹو کی پارٹی پی پی پی کی لوٹ مار سے تحفظ حاصل رھا۔

سندھی بے نظیر بھٹو کی حکومت کے 1990 میں خاتمے کے بعد پنجابی قوم نے پنجاب کے ساتھ ساتھ پاکستان کی وفاقی حکومت بنانے کا موقع بھی پنجابی نواز شریف کو دلوایا۔ نواز شریف کے پاکستان کا حکمراں بننے سے پہلے تک پنجابی سیاستدان ' پنجاب اور پنجابی قوم کے دشمن لیڈروں لیاقت علی خان مہاجر سے لیکر ' مہاجر مودودی و مہاجر نورانی' ایوب خان پٹھان ' ذالفقار علی بھٹو سندھی ' محمد خان جونیجو سندھی ' بے نظیر بھٹو سندھی کی جوتیاں اٹھاتے پھرتے تھے اور پنجاب و پنجابی قوم کے مفادات کا ذاتی مفادات کے لیے سودا کرنے کے لیے سرگرمِ عمل رھتے تھے۔ جبکہ غیر پنجابی لیڈر اپنے لوگوں کو تو مہاجر ' پٹھان ' سندھی بننے کے درس دیا کرتے تھے اور پنجابیوں کو پنجابی نہیں بلکہ صرف پاکستانی بننے پر مجبور کیا کرتے تھے۔

پنجابی قوم نے 1997 میں پھر سے نواز شریف کو پنجاب کے ساتھ ساتھ پاکستان کی وفاقی حکومت بنانے کا موقع دلوایا لیکن نواز شریف ایک مہاجر کو پاکستان کی فوج کا آرمی چیف بنا کر اپنا اقتدار گنوا بیٹھا۔ 2008 کے انتخابات میں مہاجر پرویز مشرف کی آمریت کے ھوتے ھوئے بھی پنجابی قوم نے نواز شریف کو پنجاب کی حکومت بنانے کا موقع دلوایا۔ 2013 کے انتخابات میں تو  پنجابی قوم نے نواز شریف کو پنجاب کے ساتھ ساتھ صرف پنجاب کے ووٹوں سے ھی پاکستان کی وفاقی حکومت بنانے کا موقع دلوایا کیونکہ سندھ ' خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے تو نواز شریف کو برائے نام نشستیں مل پائیں۔

پنجابی قوم نے نواز شریف کو پاکستان کا حکمراں بنوا کر پنجاب اور پنجابیوں کو غیر پنجابی لیڈروں کی محتاجی اور غلامی سے نجات دلوائی۔ جو پنجاب ' پنجابیوں اور پاکستان پر حکومت بھی کرتے تھے اور مہاجروں ' پٹھانوں ' سندھیوں اور بلوچوں سے پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں بھی دلواتے تھے۔ بلکہ پاکستان کی تعمیر و ترقی اور سلامتی تک کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے داؤ پر لگاتے رھتے تھے اور پاکستان سے علیحدگی کی تحریکوں کی درپردہ حوصلہ افزائی تک کرتے تھے۔

اس وقت صورتحال یہ ھے کہ بلوچوں کے پاس تو ایسا لیڈر ھے نہیں جو بلوچوں کی قومی سطح پر ترجمانی کر سکے۔ مہاجروں کے پاس مشرف ' سندھیوں کے پاس زرداری اور پٹھانوں کے پاس عمران خان ' لیڈر کی شکل میں موجود ھیں۔ جن سے پنجاب کو کوئی خطرہ نہیں ھے۔ کیونکہ مہاجروں کے لیڈر مشرف اور پٹھانوں کے لیڈر عمران خان کو تو پنجابی قوم نے پنجاب پر قابض ھونے نہیں دینا جبکہ سندھیوں کےلیڈر زرداری کو بھی اب پنجابی قوم نے پنجاب پر قابض ھونے نہیں دینا۔ اس طرح اب پنجاب میں اگر پنجابی قوم پرست لیڈرشپ نہیں بھی ھے تو کم از کم پنجاب اس وقت پنجاب سے باھر کے سیاستدانوں کی غلامی سے بھی نجات حاصل کرچکا ھے ۔ اس طرح پنجاب اور پنجابی قوم کا آدھا مسئلہ حل ھوچکا ھے۔

پنجابی قوم نے نواز شریف کو پنجاب کے ساتھ ساتھ ' بار بار  پاکستان کا حکمراں بھی بنوایا لیکن نواز شریف حکمراں ھی رھا ' پنجابی قوم کا رھنما نہ بن سکا۔ پنجاب کی معاشی و اقتصادی ترقی ' پنجابی قوم کی سیاسی ' سماجی اور ثقافتی  ترقی اور سندھیوں ' مھاجروں ' پٹھانوں ' بلوچوں کی پنجاب کو بلیک میل کرنے ' پاکستان اور پنجابی قوم کے خلاف سازشیں کرتے رھنے کی عادت کو ختم کروانے کے فرائض نبھانے کے بجائے ' پنجاب اور پاکستان کی حکمرانی کا فائدہ اٹھاتے ھوئے اپنے ذاتی کاروبار اور اپنے خاندان کے مفادات کے تحفظ میں لگا رھا۔ اس لیے ھی نواز شریف اب قوم پرست پنجابیوں کے معیار پر پورا نہیں اتر پارھا۔ 

سیاست کے میدان میں اگرچہ پنجابی مقدار کے لحاظ سے بڑی تعداد میں موجود ھیں لیکن پنجابیوں کی سیاست سماجی کاموں ' ذاتی اثر و رسوخ اور مالی وسائل کی بنیاد پر ھے ' نہ کہ سیاست سے وابسطہ شعبوں میں مہارت اور استحکام کی بنیاد پر۔ جسطرح پنجاب کے نام نہاد چوھدری برادران چوھدری شجاعت اور چوھدری پرویز الٰہی پہلے مھاجر ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے جوتے پالش کرتے رھے ' پھر سندھی بلوچ زرداری کے اقتدار میں آنے کے بعد زرداری کی پیٹھ دھوتے رھے اور اب پٹھان عمران خان کی سیوا کرنے کے ساتھ ساتھ مھاجر پرویز مشرف اور سندھی بلوچ زرداری کے پھر سے پنجاب پر قابض ھوجانے کے راستےبنانے میں لگے رھتے ھیں۔ اس لیے سیاست سے وابسطہ شعبوں پر پنجابی قوم کو بھرپورتوجہ دینی ھوگی۔ تاکہ سیاست کے تمام شعبوں میں پنجابی قوم مہارت اور استحکام حاصل کرسکے۔

پنجابی قوم پرست کارکنوں کے پاس اب کرنے کے دو کام ھیں: ایک تو جیسے کہ69  سال کی جدوجہد کے بعد کہیں جاکر ' پنجاب کو ' پنجاب سے باھر کی غیر پنجابی لیڈرشپ کے چنگل سے نکالا جاسکا ھے ' اسلیے اس کو برقرار رکھا جائے اور دوسرا یہ کہ پنجابی قوم پرست قیادت تیار کرکے نواز شریف اور نام نہاد چوھدری برادران چوھدری شجاعت اور چوھدری پرویز الٰہی جیسے سیاستدانوں سے نجات حاصل کی جائے جو اب تک ذاتی اثر و رسوخ اور مالی وسائل کی بنیاد پر سیاست کرتے رھے لیکن پنجاب اور پنجابی قوم کے رھنما نہیں بن پائے اور نہ مستقبل میں بھی بننے کے امکانات نظر آتے ھیں۔