Monday, 8 February 2016

کیا پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں دینا فیشن بن چکا ھے؟؟؟

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سندھی ' مھاجر ' پٹھان ' بلوچ  کی طرف سے پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں دینا ' تذلیل کرنا ' توھین کرنا ھے۔ اس مسئلہ کو حل کیے بغیر پاکستان میں سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتطامی استحکام نہیں ھونا کہ؛ سندھی ' مھاجر ' پٹھان ' بلوچ کی طرف سے پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں دینا ' تذلیل کرنا ' توھین کرنا ' سندھی ' مھاجر ' پٹھان ' بلوچ کے ساتھ پنجاب اور پنجابیوں کے ظلم اور زیادتیوں کی وجہ سے ھے یا سندھی ' مھاجر ' پٹھان ' بلوچ کی طرف سے پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں دینا ' تذلیل کرنا ' توھین کرنا پنجاب اور پنجابیوں کو لوٹنے اور بلیک میل کرنے کے لیے ھے؟

پاکستان میں سندھیوں ' مہاجروں ' پٹھانوں اور بلوچوں کی طرف سے پنجاب اور پنجابیوں پر بغیر کسی ثبوت اور واضح دلائل کے من گھڑت الزام تراشیاں کرنے اور گالیاں دینے کا رحجان طویل عرصے سے چلا آرھا تھا جو اب اپنی انتہا کو پہنچ کر روز مرہ کا معمول بن چکا ھے۔

اس کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ھے کہ کراچی ' سندھ ' کے پی کے اور بلوچستان میں جو شخص بھی پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف گھما پھرا کر باتیں کرتا ھے ' زیادہ الزام تراشیاں کرتا اور گالیاں دیتا ھے وہ زیادہ بڑا لیڈر یا صحافی کہلواتا ھے۔

سندھی ' مہاجر ' پٹھان اور بلوچ سیاستدانوں اور صحافیوں کے پنجاب اور پنجابیوں پر بغیر کسی ثبوت اور واضح دلائل کے من گھڑت الزام تراشیاں کرنے اور گالیاں دینے کا نتیجا یہ نکلا کہ کراچی کے مہاجروں ' سندھ کے سندھیوں ' کے پی کے کے پٹھانوں اور بلوچستان کے بلوچوں کے ذھن میں پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف نفرت پائی جاتی ھے ' جس نے وھاں کے رھنے والے پنجابیوں کو مستقل ذھنی خوف و حراس میں مبتلا کرکے رکھا ھوا ھے 'جس کی وجہ سے وھاں رھنے والے پنجابیوں کی سماجی اور کاروباری زندگی میں بے شمار پیچیدگیاں پیدا ھوچکی ھیں۔ بلکہ اب تو وہ اپنے آپ کو یرغمال محسوس کرتے ھیں۔ لاکھوں کی تعداد میں پنجانی نقل مکانی کرکے پنجاب واپس آچکے ھیں جبکہ ھزاروں پنجابیوں کو قتل کیا جاچکا ھے۔

جب عام سندھیوں ' مہاجروں ' پٹھانوں اور بلوچوں سے پوچھا جاتا ھے کہ کراچی کے مہاجر ' سندھ کے سندھی ' کے پی کے کے پٹھان اور بلوچستان کے بلوچ پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف کیوں ھیں تو جواب ملتا ھے کہ نہیں سندھی ' مہاجر ' پٹھان اور بلوچ ' پنجاب اور پنجابیوں کے نہیں اسٹیبلشمنٹ اور وفاق کے خلاف ھیں جو ان کے حقوق غصب کر رھے ھیں۔

جب عام سندھیوں ' مہاجروں ' پٹھانوں اور بلوچوں سے کہا جاتا ھے کہ اسٹیبلشمنٹ اور وفاق اگر ان کے حقوق غصب کر رھے ھیں تو اس کا پنجابیوں اور پنجاب سے کیا تعلق؟ تو جواب ملتا ھے کہ اسٹیبلشمنٹ پنجابی ھے اور وفاق پر پنجابی اسٹیبلشمیٹ کا قبضہ ھے۔ اسٹیبلشمنٹ اور وفاق ان کے حقوق غصب کر رھے ھیں۔

جب عام سندھیوں اور بلوچوں سے کہا جاتا ھے کہ آپ ثابت کریں کہ پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک اسٹیبلشمنٹ کے ادارے پنجابیوں کے کنٹرول میں زیادہ رھے ھیں نہ کہ غیر پنجابیوں کے اور وفاق پر بھی کنٹرول پنجابیوں کا رھا ھے نہ کہ غیر پنجابیوں کا تو چند پنجابیوں کے نام لیکر خاموش ھوجاتے ھیں جبکہ غیر پنجابیوں کے نام لینے سے کتراتے ھیں یا پھر شرم محسوس کرتے ھیں کیونکہ پاکستان سے 1971 میں بنگال کےے الگ ھونے تک پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ لیاقت علی خان مہاجر سے لیکر ' مودودی و نورانی مہاجر' مجیب و بھاشانی بنگالی ' بھٹو ' پیر پگارو و جی ایم سید سندھی' غفار خان ' ولی خان و قیوم خان پٹھان' مری' بگٹی' بزنجو ' مینگل بلوچ کے پاس رھی. ایک بھی قومی سطح کا پنجابی سیاسی لیڈر نہیں تھا. ملٹری لیڈرشپ ایوب خان ' یحی خان پٹھان' موسی خان ھزارھ  کے ھاتھ میں رھی. ایک بھی پنجابی فوج کا سربراہ نہیں بنا تھا.

جب عام سندھیوں ' مہاجروں ' پٹھانوں اور بلوچوں سے کہا جاتا ھے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ پنجابی تھی یا ھے اور وفاق پر پنجابی اسٹیبلشمیٹ کا قبضہ تھا یا ھے تو اس پنجابی اسٹیبلشمنٹ اور وفاق پر قابض پنجابی اسٹیبلشمنٹ سے محاذآرائی کرنی چاھیئے تھی یا کرو۔ اب تو کافی عرصے سے جمہوری عمل جاری و ساری ھے ' اسمبلیوں کے ایوانوں میں مسئلہ کو آٹھاتے ' 1999 سے لیکر 2013 تک تو وفاق پر حکومت پنجابیوں کی نہیں تھی۔ صدر بھی پنجابی نہیں تھے۔ فوجی آمر بھی پنجابی نہیں تھا۔ ویسے بھی پاکستان کے چار فوجی آمروں میںں سے صرف ایک پنجابی تھا ورنہ باقی تین فوجی آمر تو پنجابی نہیں تھے۔ پاکستان کا واحد سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھٹو بھی پنجابی نہیں تھا۔ اس میں عام پنجابی کا کیا قصور؟ عام پنجابیوں کو کیوں مستقل ذھنی خوف و راس میں مبتلا کرکے رکھا ھوا ھے؟ عام پنجابیوں کو کیوں نقل مکانی کروائی جارھی ھے اور عام پنجابیوں کی کیوں قتل و غارتگری کی جارھی ھے؟ تو جواب ملتا ھے کہ عام پنجابی سے تو ھمارا کوئی اختلاف نہیں ' عام پنجابی ھمارا بھائی ھے۔ اس معصومیت کو اب کیا نام دیا جائے؟

پنجابی تھنک ٹینک ان سندھی ' مہاجر ' پٹھان اور بلوچ سیاستدانوں اور صحافیوں کی مذمت کرتا ھے جن کے پنجاب اور پنجابیوں پر بغیر کسی ثبوت اور واضح دلائل کے من گھڑت الزام تراشیاں کرنے اور گالیاں دینے کا نتیجا یہ نکلا کہ کراچی کے مہاجروں ' سندہ کے سندھیوں ' کے پی کے کے پٹھانوں اور بلوچستان کے بلوچوں کے ذھن میں پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف نفرت پائی جاتی ھے ' جس نے وھاں کے رھنے والے پنجابیوں کو مستقل ذھنی خوف و حراس میں مبتلا کرکے رکھا ھوا ھے 'جس کی وجہ سے وھاں رھنے والے پنجابیوں کی سماجی اور کاروباری زندگی میں بے شمار پیچیدگیاں پیدا ھوچکی ھیں۔ بلکہ اب تو وہ اپنے آپ کو یرغمال محسوس کرتے ھیں۔ لاکھوں کی تعداد میں پنجانی نقل مکانی کرکے پنجاب واپس آچکے ھیں جبکہ ھزاروں پنجابیوں کو قتل کیا جاچکا ھے۔

پنجاب اور پنجابیوں میں اگر سندھیوں ' مہاجروں ' پٹھانوں اور بلوچوں کے خلاف ناپسندیدگی یا نفرت بڑھ رھی ھے تو اسکی وجہ یہی سندھی ' مہاجر ' پٹھان اور بلوچ سیاستدان اور صحافی ھیں۔

مہاجروں ' پٹھانوں اور بلوچوں کو دھیان رکھنا چاھیئے کہ جتنے پنجابی کراچی میں رھتے ھیں اس سے زیادھ مہاجر پنجاب میں رھتے ھیں ' جتنے پنجابی کے پی کے میں رھتے ھیں اس سے زیادھ پٹھان پنجاب میں رھتے ھیں ' جتنے پنجابی بلوچستان میں رھتے ھیں اس سے زیادھ بلوچ پنجاب میں رھتے ھیں۔

پاکستان میں پنجابی کی آبادی 60% ھے اس لیے صنعت ' تجارت ' ذراٰعت ' سیاست ' صحافت ' سرکاری ملازمت اور ھنرمندی کے شعبوں میں 12% سندھی ' 8% مہاجر '  8% پٹھان ' 4% بلوچ کے مقابلے میں ' پنجابی توو چھائے ھوئے ھی نظر  آئیں گے۔

بلوچ لیڈرشپ مری' بگٹی' بزنجو ' مینگل کے معیار کی طرح قومی سطح کی نہیں ھے ' بلکہ سکڑ کر بلوچستان کے اندر تک محدود اور قبائل کی حد تک اثر انداز ھونے والی رہ گئی ھے.

پختون لیڈرشپ بھی گفار خان ' ولی خان و قیوم خان کے معیار کی طرح قومی سطح کی نہیں ھے ' بلکہ سکڑ کر خیبر پختونخواہ کے اندر تک محدود اور آپس میں الجھی ھوئی ھے.

سندھی لیڈرشپ بھی ذالفقار  علی بھٹو ' بے نظیر بھٹو ' پیر پگارو و جی ایم سید کے معیار کی طرح قومی سطح کی نہیں ھے ' بلکہ سکڑ کر دیہی سندھ کے اندر تک محدود اور آپس میں الجھی ھوئی ھے.

سندھی اس وقت سیاسی طور پر صوبائی سطح کی سیاسی لیڈرشپ سے بھی محروم ھیں. مستقبل میں سندھی سیاسی لیڈرشپ کا معیار مزید گر کر ضلعوں کی سطح پر آتا نظر آرھا ھے. بلوچوں اور پختونوں کی طرح سندھیوں کی سیاسی لیڈرشپ بھی مختلف علاقوں اور ضلعوں کی حد تک محدود اور قبائل میں منتشر نظر آئے گی.

مہاجر اس وقت الطاف حسین کی قیادت میں متحد اور ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے متحرک ھیں. اس لحاظ سے مہاجر کی سیاسی پوزیشن سندھی' پٹھان اور بلوچ سے زیادھ بھتر ھے لیکن الطاف حسین کا پاکستان آنا ممکن نہیں. مہاجر کے پاس مشرف ' الطاف حسین کا متبادل لیڈر تھا لیکن مقدمات میں پھنسنے کے بعد اب مشرف کی گلوخلاصی ممکن نہیں. مستقبل میں الطاف حسین کے فارغ ھونے کی صورت میں مہاجر بھی سیاسی قیادت کے اس ھی بحران میں مبتلا ھوکر منتشر ھو جائیں گے جس طرح سے بلوچ' پٹھان اور سندھی قومی سطح کی لیڈرشپ سے محروم ھونے کے بعد ' سیاسی قیادت کے بحران کی وجہ سے منتشر ھیں.

پنجاب اس وقت پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سیاسی قیادت میں نہ صرف خود کفیل بلکہ مضبوط و مستحکم ھے. نواز شریف کی شکل میں قومی سطح کی لیڈرشپ موجود ھے جسکا ھم پلہ سیاستدان نہ صرف بلوچ اور پٹھان بلکہ سندھی اور مہاجر کے پاس بھی نہیں ھے۔

سیاسی کے ساتھ ساتھ ملٹری لیڈر شپ بھی اب مہاجر یا پٹھان کے بجائے ' پنجاب اور پنجابی کے پاس ھونے کی وجہ سے قومی و بین الاقوامی منصوبہ سازی و فیصلہ سازی پر بھی پاکستان میں پہلی بار اب پنجاب اور پنجابی کا ھی مکمل کنٹرول رھے گا۔

پنجابی تھنک ٹینک پنجاب اور پنجابیوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے سر گرم ھے۔ پنجابی تھنک ٹینک عام سندھیوں ' مہاجروں ' پٹھانوں اور بلوچوں کے خلاف نہیں ھے۔ عام سندھیوں ' مہاجروں ' پٹھانوں اور بلوچوں سے تو پنجاب اور پنجابیوں کو کوئی اختلاف نہیں ' عام سندھی ' مہاجر ' پٹھان اور بلوچ ھمارے بھائی ھیں۔

پنجابی تھنک ٹینک کی سرگرمیوں سے اگر عام سندھیوں ' مہاجروں ' پٹھانوں اور بلوچوں کے مزاج کو ٹھیس پہنچتی ھے یا مفادات مجروح ھوتے ھیں تو ھم اس کے لیے معزرت خواہ ھیں۔