Wednesday, 3 February 2016

کیا پاکستان میں اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشرہ تشکیل دیا گیا؟

14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا۔ بنگالی زبان بولنے والوں کا عربی زبان بولنے والوں کے بعد مسلم امہ کی دوسری اور پنجابی زبان بولنے والوں کا تیسری بڑی آبادی ھونے جبکہ مسلمان سندھی ' مسلمان پٹھان ' مسلمان بلوچ کے بھی پاکستان میں شامل ھونے کی وجہ سے ' پاکستان مسلم امہ کا دنیا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک بن گیا تھا۔

پاکستان کو پاک زمین پر بنایا گیا تھا۔ سندھی جناح نے پاکستان کی تشکیل کا مقصد اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشرہ تشکیل دینا بتایا گیا تھا ' جسکے لیے پنجابی قوم کو مذھب کی بنیاد پر لڑوا کر ' پنجاب کو تقسیم کروا کر 20 لاکھ پنجابی مروائے گئے اور 2 کروڑ پنجابی بے گھر کروائے گئے لیکن پاکستان کے قائم ھونے کے بعد سب سے پہلے پاکستان کی ھی عوام سے انکے اپنے علاقوں پر انکا اپنا حکمرانی کا حق چھینا گیا ' جسکے لیے 22 اگست 1947 کو سندھی جناح صاحب نے سرحد کی متخب حکومت برخاست کردی۔ 26 اپریل 1948 کو سندھی جناح صاحب کی ھدایت کی روشنی میں گو رنر ھدایت اللہ نے سندھ میں ایوب کھوڑو کی متخب حکومت کو برطرف کر دیا اور اسی روایت کو برقرار رکھتے ھوئے ' بلکہ مزید اضافہ کرتے ھوئے ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر لیاقت علی خان نے 25 جنوری 1949 کو پنجاب کی منتخب اسمبلی کو ھی تحلیل کر دیا- یعنی ملک کے وجود میں آنے کے ڈیڑھ سال کے اندر اندر عوام کے منتخب کردہ جمہوری اداروں اور نمائندوں کا دھڑن تختہ کر دیا گیا۔

اسکے ساتھ ساتھ پاکستان کی عوام سے انکی اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا۔ جسکے لیے 21 مارچ 1948کو رمنا ریس کورس ڈھاکہ میں سندھی جناح صاحب نے انگریزی زبان میں اکثریتی زبان بولنے والے بنگالیوں سے کہہ دیا کہ سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ھو گی اور اس بات کی مخالفت کرنے والے ملک دشمن تصور ھونگے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ھیں کہ؛

لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور الله کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ (13-49)

ہم نے ہررسول کو اس کی قوم کی زبان میں پیغام دے کر بھیجا تاکہ انہیں (احکام الله) کھول کھول کر بتا دے۔ (4-14) اور یہ قرآن (خدائے) رب العالمین کا اُتارا ہوا ہے۔ (192-26) اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہے۔ (193-26) (یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو۔ (194-26) اور (القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)۔(195-26)

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔(2-12) اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں۔ کیا (خوب کہ قرآن تو) عجمی اور (مخاطب) عربی۔(44-41) اسی لیے ہم نے یہ قرآن عربی نازل کیا ہے۔(113-20) (ایسی) کتاب جس کی آیتیں واضح (المعانی) ہیں (یعنی) قرآن عربی ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔(3-41)