Wednesday, 14 June 2017

پاکستان میں 2018 سے مارشل لاء ھوگا یا مسلم لیگ ن کا کھڑاکا ھوگا۔

پی ٹی آئی صرف خیبر پختونخواہ کے کچھ علاقوں ' پی پی پی صرف دیہی سندھ کے کچھ علاقوں ' ایم کیو ایم صرف کراچی کے کچھ علاقوں تک محدود سیاسی جماعتیں ھیں بلکہ لسانی جماعتیں ھیں۔ اس لیے ان جماعتوں کو حمایت بھی مخصوص لسانی گروھوں کی ھی ھے۔ جبکہ پی ٹی آئی ' پی پی پی ' ایم کیو ایم کے علاوہ پاکستان میں دوسری سیاسی جماعتیں صرف کاغذی سیاسی جماعتیں ھیں۔

اس لیے مارشل لاء کے بغیر نواز شریف کی سیاسی طاقت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ نواز شریف کو سپریم کورٹ کے ذریعے نا اھل قرار دے بھی دیا جائے ' تو بھی نہ صرف پنجاب کی صوبائی حکومت بلکہ پاکستان کی وفاقی حکومت بھی ' براہِ راست نہ سہی لیکن بلواستہ نواز شریف کی مرضی و منشا سے ھی چلنی ھے۔

2013 کے انتخابات کے بعد سے لیکر نواز شریف کے پاس پاکستان کی حکومت تو ھے لیکن سینٹ میں اکثریت نہ ھونے کی وجہ سے قانون سازی کی ظاقت نہیں ھے۔ اس لیے ھی نواز شریف ایک کمزور حکمراں ھے اور اپوزیشن چھائی ھوئی نظر آتی ھے۔

انتظار صرف سینٹ کے انتخابات کا ھے۔ مارچ 2018 میں ھونے والے سینٹ کے انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ ن نے سینٹ میں بھی اکثریت حاصل کر لینی ھے۔ 2018 کے انتخابات میں نہ صرف پاکستان کی وفاقی حکومت ' پنجاب اور بلوچستان کی صوبائی حکومت بھی پھر سے مسلم لیگ ن نے بنا لینی ھے۔ بلکہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت بھی بنا لینی ھے۔ سندھ کی صوبائی حکومت بنانے میں مسلم لیگ ن نے ویسے ھی دلچسپی نہیں لینی۔

2018 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن کے پاس قومی اسمبلی کے علاوہ سینٹ میں بھی اکثریت ھوگی۔ اس لیے مسلم لیگ ن قانون سازی تو کر ھی سکے گی لیکن آئین میں ترمیم کرنے کی طاقت بھی رکھتی ھوگی۔ اس لیے 2013 سے لیکر 2018 تک کے عرصے میں مسلم لیگ ن کی قانون سازی اور آئین میں ترمیم کی کمزوری کا فائدہ اٹھاکر مسلم لیگ ن کی حکومت سے محاذآرائی کرنے والوں کو مسلم لیگ ن نے ٹھیک ٹھاک سبق سکھا دینا ھے۔

اس لیے اب 2018 سے یا تو پاکستان میں فوجی مارشل لاء ھوگا یا پھر مسلم لیگ ن کا کھڑاکا ھوگا۔ لیکن دونوں صورتوں میں 2013 سے لیکر 2018 تک کے عرصے کے دوران مسلم لیگ ن کی حکومت سے محاذآرائی کرنے والے بدعنوان ' بدکار ' بدمعاش اور جرائم پیشہ سیاستدانوں ' صحافیوں ' سرکاری افسرون اور دانشوروں کے لیے حالات سازگار نطر نہیں آرھے۔