Monday, 19 June 2017

کیا فوجی مداخلت کرواکر ن لیگ کی حکومت ختم کروائی جائے گی؟

پنجاب سے پنجابیوں کے ووٹ ' خیبر پختونخواہ سے ھندکو اور پنجابیوں کے ووٹ ' بلوچستان سے بروھیوں اور پنجابیوں کے ووٹ ' کراچی سے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ووٹ لیکر حکومت بنانے والی سیاسی پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن 2013 سے پاکستان پر حکومت کر رھی ھے۔ اس لیے پنجاب کے پنجابی ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابی ' بلوچستان کے بروھی اور پنجابی ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی تو اطمینان اور سکون میں ھیں لیکن پاکستان تحریکِ انصاف کو ووٹ دینے والے خیبر پختونخواہ سے پٹھان ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے والے جنوبی پنجاب سے عربی نزاد پنجابی اور بلوچ ' دیہی سندھ سے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' متحدہ قومی موومنٹ کو ووٹ دینے والے کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ کو چونکہ پاکستان کے قیام کے بعد پہلی بار پاکستان کی وفاقی حکومت میں شمولیت سے مکمل محرومی کا سامنا کرنا پڑ رھا ھے۔ جسکی وجہ سے انکے قائم کیے ھوئے سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط کو دھچکا پہنچ رھا ھے۔ اس لیے یہ اشرافیہ 2013 سے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف پرپیگنڈہ میں مصروف رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ناکام حکومت قرار دیتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت پر الزامات لگاتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف سازشیں کرتی رھتی ھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کی کوششیں کرتی رھتی ھے۔ بلکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ھٹانے کے لیے پاگل ھوتے جا رھی ھے۔ لہذا خیبر پختونخواہ کے پٹھان ' شمالی اور سینٹرل پنجاب میں رھنے والے پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' جنوبی پنجاب کے عربی نزاد پنجابی اور بلوچ ' دیہی سندھ کے بلوچ اور عربی نزاد سندھی ' کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدان ' سیاسی کارکن ' سماجی کارکن ' دانشور ' تجزیہ نگار ' اینکر اور صحافی ھر وقت بے چین اور پریشان رھتے ھیں کہ وہ نہ اپنی اپنی اشرافیہ کے سیاسی اور انتظامی تسلط کو بحال کروا پا رھے ھیں۔ نہ اپنا اور اپنی اپنی اشرافیہ کے سماجی اور معاشی مفادات کا تحفظ کر پا رھے ھیں۔

پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی کی حمایت کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کو نہ صرف قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ھے بلکہ پاکستان تحریکِ انصاف ' پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ اگر متحد ھوکر بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو قومی اسمبلی میں عدمِ اعتماد یا عوام میں عوامی دباؤ کے ذریعے ھٹانا چاھیں تو ممکن نہیں ھے۔ عدالت کے ذریعے کسی طرح سے پاکستان کے وزیرِ اعظم کو نا اھل قرار دلوا بھی دے تو بھی پاکستان مسلم لیگ ن میں سے ھی دوسرا وزیرِ اعظم بن جانا ھے جو اس اشرافیہ کے خلاف شدید اور سخت ترین حکومتی اقدامات بھی کر سکتا ھے۔ اس لیے کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کے پاس اب واحد راستہ یہ ھی بچا ھے کہ فوجی مداخلت کرواکر پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو ختم کروایا جائے۔ کیونکہ پاکستان میں فوجی آمریت کے ھونے کی صورت میں اس اشرافیہ کو توقع ھے کہ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دے دے کر آمر ' غاصب ' سامراج اور جمہوریت دشمن قرار دے دے کر ' بلیک میلنگ کے بعد اقتدار و اختیار میں حصہ لینے کے بعد ' ایک بار پھر سے پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر اپنا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم کر سکتی ھے۔

پاکستان کے فوجی آمروں کی طرف سے اقتدار و اختیار میں شرکت نہ دینے کی صورت میں پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون حاصل کرکے ' جمہوریت کی بحالی کا نعرہ لگا کر ' فوجی آمروں کی طرف سے قوموں کے حقوق غصب کرنے کا شور مچا کر ' سندھ کی عربی نزاد سندھی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سندھودیش 'جنوبی پنجاب کی عربی نزاد پنجابی اشرافیہ اور بلوچ اشرافیہ سرائیکستان ' کراچی کی مھاجراشرافیہ جناح پور ' بلوچستان کی بلوچ اشرافیہ آزاد بلوچستان ' خیبر پختونخواہ کی پٹھان اشرافیہ پختونستان کی سازشیں کرکے پاکستان میں سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی عدمِ استحکام پیدا کرسکتی ھے۔ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج چونکہ ماضی میں بھی انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کا سیاسی طور پر تدارک کرنے میں ناکام رھی تھی۔ اس لیے انتظامی اقدامات سے انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روک تو لے گی لیکن ختم نہیں کرسکے گی۔ لہٰذا پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کو ایک بار پھر سے پاکستان کا اقتدار کراچی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مہاجر اشرافیہ ' سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی عربی نزاد اشرافیہ ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے ‘ سندھ کے دیہی علاقے اور پنجاب کے جنوبی علاقے کی بلوچ اشرافیہ ‘خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے پشتون علاقے ' شمالی اور سینٹرل پنجاب کی پٹھان اشرافیہ کے سپرد کرنا پڑے گا اور ایک بار پھر سے پنجاب کے پنجابیوں ' خیبر پختونخواہ کے ھندکو اور پنجابیوں ' بلوچستان کے بروھیوں اور پنجابیوں ' سندھ کے سماٹ اور پنجابیوں ' کراچی کے پنجابی ' ھندکو ' بروھی ' سماٹ ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی پر انکا سیاسی ' سماجی ' معاشی اور انتظامی تسلط قائم ھوجائے گا۔