Thursday, 22 June 2017

اب 2020 سے 2030 تک بحرِ ھند کا کھیل ھوگا۔

سی پیک کھیل کا مقصد تھا؛
1۔ گوادر پورٹ کی تعمیر
2۔ کاشغر سے لیکر گوادر پورٹ تک سڑکوں کی تعمیر
3۔ کاشغر سے لیکر گوادر پورٹ تک ریلوے لائنوں کی تعمیر
4۔ کاشغر سے لیکر گوادر پورٹ تک آئل اور گیس پائپ لائنوں کی تعمیر

گوادر پورٹ کی تعمیر بھی ھوگئی
کاشغر سے لیکر گوادر تک سڑکوں کی تعمیر بھی ھوگئی
کاشغر سے لیکر گوادر پورٹ تک ریلوے لائنوں کی تعمیر بھی ھو جائے گئی
کاشغر سے لیکر گوادر تک آئل اور گیس پائپ لائنوں کی تعمیر بھی ھو جائے گئی
یہ پاکستان کے اندرونی معاملے اور ترقیاتی منصوبے تھے

بین الاقوامی قانون کے تحت
گوادرسے لیکر کاشغر تک آئل اور گیس کی ترسیل کی اجازت دینا نہ دینا
پاکستان کا اندرونی اور تجارتی معاملہ ھے

چین ' کاشغر تک آئل اور گیس لے جانے کی کوشش کرے گا۔
امریکہ ' کاشغر تک آئل اور گیس نہ جانے دینے کی کوشش کرے گا۔
بحرِ ھند میں واقع بحرِعرب کے کونسے ممالک چین کو آئل اور گیس دیں گے؟
چین کو آئل اور گیس فروخت کرنا یا نہ کرنا
بحرِ ھند میں واقع بحرِعرب کے ممالک کا اندرونی اور تجارتی معاملہ ھے

اس لیے اب بحرِ ھند کا کھیل ھوگا؛
گوادرسے لیکر کاشغر تک آئل اور گیس پائپ لائنوں کے ذریعے
آئل اور گیس کن کن ممالک سے
گوادرسے لیکر کاشغر تک جائے گا؟
یہ چین ' امریکہ اور عرب ممالک کا کھیل ھے۔
یہ کھیل 2020 سے 2030 تک عروج پر رھے گا۔

چین ' امریکہ اور عرب ممالک کے کھیل میں پاکستان غیر جانبدار رھے گا
امریکہ بھی پاکستان کے اندرونی معاملات میں غیر جانبدار رھے گا۔

اس لیے اب پاکستان میں؛
نہ افغانستان "دھشتگردی" کرنے کے قابل رھے گا
نہ بھارت "پراکسی وار" کرنے کے قابل رھے گا۔
آزاد پختونستان ' آزاد بلوچستان ' جناح پور تحریک کے لیے پالے ھوئے
افغانی پٹھانوں ' کردستانی بلوچوں ' ھندوستانی مھاجروں کی مکمل صفائی ھوگی۔ انشاء اللہ