Wednesday, 21 June 2017

اگر مارشل لاء نہ آیا تو پھر پاکستان میں سیاسی کھیل کیا ھوگا؟

سیاست کے کھیل کے کھلاڑی ' مقامی ' صوبائی ' قومی اور بین الاقوامی ھوتے ھیں۔ پاکستان میں اس وقت قومی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کا سیاسی کھیل ھو رھا ھے۔ سیاست کے مقامی اور صوبائی کھلاڑیوں کا اس سیاسی کھیل میں تماش بین ھونے کے علاوہ اور کوئی کردار نہیں جبکہ میڈیا کا اس سیاسی کھیل میں عوام کے جذبات سے کھیلنے کے علاوہ اور کچھ کام نہیں۔

پاکستان کے اس سیاسی کھیل میں تین بڑے بین الاقوامی کھلاڑی امریکہ ' چین اور روس ھیں جبکہ تین بڑے قومی سیاسی کھلاڑی نواز شریف ' عمران خان اور آصف زرداری ھیں۔ نواز شریف کے پاس پاکستان کی وفاقی حکومت کے علاوہ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومت بھی ھے۔ عمران خان کے پاس خیبر پختونخواہ کی حکومت ھے اور آصف زرداری کے پاس سندھ کی حکومت ھے۔

پاکستان کی فوج کا ادارہ اور سپریم کورٹ کا ادارہ پاکستان کے آئینی اور ریاستی ادارے ھیں۔ جمہوری اور سیاسی نظام کو چلانے کے لیے اور ریاستی اداروں کو سیاست میں پھنسنے سے بچانے کے لیے سیاست سے دور رکھنا ضروری ھوتا ھے لیکن آئینی اور ریاستی اداروں میں کام کرنے والوں میں سے کوئی سیاسی کھلاڑی بن جائے تو پھر آئینی اور ریاستی اداروں کو سیاست زدہ ھونے سے بچانا مشکل ھو جاتا ھے۔

پانامہ کیس کی سپریم کورٹ میں جس طرح شنوائی ھو رھی ھے ' اسکی وجہ سے پانامہ کیس قانونی کے بجائے سیاسی کیس بنتا جا رھا ھے۔ جسکی وجہ سے لگتا ھے کہ آگے جاکر سپریم کورٹ کے ادارے نے سیاست کی نظر ھو جانا ھے۔ اندازہ یہ ھے کہ پانامہ کیس کے سپریم کورٹ کے بینچ سے نواز شریف نا اھل ھو جائے گا۔ نواز شریف کی نا اھلی کے بعد نواز شریف کا تجویز کردہ ن لیگ کا ھی وزیرِ اعظم بن جانا ھے۔ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومت بھی ن لیگ کی ھی رھنی ھے لیکن پانامہ کیس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے  کے بعد سپریم کورٹ کے فل بینچ سے نواز شریف بحال ھو جائے گا۔

اس وقت نواز شریف کے پاس حکومت تو ھے لیکن طاقت نہیں ھے۔ طاقت قانون سے ملتی ھے۔ قانون اسمبلیاں بناتی ھیں۔ قومی اسمبلی میں تو نواز شریف قانون سازی کر سکتا ھے لیکن سینٹ میں نہیں۔ مارچ 2018 میں نواز شریف کو سینٹ میں بھی اکثریت مل جانی ھے اور نواز شریف نے سینٹ میں قانون سازی کرنے  کے ساتھ ساتھ آئین میں تبدیلی کرنے کی پوزیشن میں بھی آجانا ھے۔ اس لیے مارچ 2018 کے بعد نواز شریف کے پاس حکومت ھی نہیں ھونی ' طاقت بھی ھونی ھے اور پھر طاقتور حکمران بننے کے بعد نواز شریف نے گلے پڑنے اور ٹانگیں کھینچنے والوں کے باجے بجاکر رکھ دینے ھیں۔ اس وقت عمران خان اور آصف زرداری نے آپس میں اکٹھے ھو کر بھی نواز شریف کا مقابلہ نہیں کر سکنا۔ جبکہ دیگر چھوٹے موٹے کھلاڑیوں کو تو ن لیگ کے عام کھلاڑیوں نے ھی کھڑکا کر رکھ دینا ھے۔

اگر اس کھیل کے دوران پاکستان میں مارشل لاء نہ آیا تو پھر اگلے 2018 کے الیکشن کا مسئلہ بھی نہیں رھے گا۔ وہ پھر نواز شریف نے جیت ھی جانے ھیں۔ 2018 کے الیکشن میں نواز شریف نے پاکستان کی وفاقی حکومت ' پنجاب اور بلوچستان کی حکومت کے علاوہ خیبر پختونخواہ کی حکومت بھی بنا لینی ھے۔ آصف زرداری نے اگر نواز شریف کے ساتھ نہ بگاڑی تو پھر سندھ کی صوبائی حکومت نواز شریف نے خود ھی نہیں بنانی تاکہ کراچی میں ایم کیو ایم کو پی پی پی کی صوبائی حکومت ھی سمبھالتی رھے اور نواز شریف پاکستان کی وفاقی حکومت کے علاوہ پنجاب ' بلوچستان ' کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو بھی ٹھیک ٹھاک طریقے سے چلا سکے۔