Sunday, 18 June 2017

پنجابی خود کو مھاجروں اور پٹھانوں سے بچائیں۔

پاکستان کی 60 % آبادی پنجابی ھے اور 12 % سندھی ھے۔ اس لیے پاکستان کی سطح پر پنجابی اور سندھ کی سطح پر سندھی کو جمہوریت کا فائدہ ھے۔ لیکن اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر پاکستان میں صرف 4 % ھیں۔ اس لیے جمہوری نطام اور لسانی ماحول میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے جمہوری عمل کے ذریعے منتخب ھوکر پاکستان پر حکمرانی کرنے کا امکان نہیں رھتا۔  یہی وجہ تھی کہ پاکستان کے پہلے نامزد وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کے وقت سے ھی لیاقت علی خان اور پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اراکین کے لیے انتخابی حلقے بنانے کے لیے یوپی ' سی پی ' بہار سے مسلمانوں کو لاکر کراچی ' حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شھروں میں آباد کیا گیا۔ جو آج سندھ کے لیے تباھی اورسندھیوں کے لیے بربادی کا سبب بنے ھوئے ھیں۔ 

پنجاب پر انگریز کے قبضہ کے وقت انگریز کی فوج کے ساتھ شامل ھوکر یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی  1849 میں پنجاب میں داخل ھونا شروع ھوئے اور پنجاب کے بڑے بڑے شھروں پر قابض ھوگئے۔ اس لیے پنجاب میں ' خاص طور پر پنجاب کے شھروں لاھور اور راولپنڈی میں تو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' جن کو پنجاب میں پنجابی مٹروا اور بھیا کہتے ھیں ' 1849 سے آباد ھوتے آئے ھیں۔ جو آج پنجاب کے لیے تباھی اورپنجابیوں کے لیے بربادی کا سبب بنے ھوئے ھیں اور انہوں نے پنجابیوں کی زبان ' تہذیب اور ثقافت تک کو برباد کرکے رکھ دیا ھے۔

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی طرف سے پاکستان کے قیام سے لیکر یہ  پروپیگنڈا چلا آ رھا ھے کہ " پاکستان میں فوجی آمریت ھونی چاھیئے ' جمہوریت نہیں " ۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدانوں ' صحافیوں ' دانشوروں ' مذھبی رھنماؤں ' سرکاری ملازموں ' ھنر مندوں ' تاجروں نے یہ بار بار کرکے بھی دکھایا۔ جس کے لیے انہوں نے پنجاب اور فوج کو " پاکستان اور اسلام " کے خطرے میں ھونے کا شور مچا مچا کر اور فوج و پنجاب کو " پاکستان اور اسلام " کو بچانے کا واحد ذریعہ قرار دے دے کر خوب بے واقوف بنایا۔

پاکستان میں پنجاب ' پنجابیوں اور پاکستان کے لیے مسئلہ اور خطرہ سندھی اور بلوچ نہیں صرف اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان ھیں۔ کیونکہ پاکستان کی بیوروکریسی ' سول سروسز ' ملٹری سروسز ' سیاست ' صحافت ' مذھبی تنظیموں اور شھری علاقوں پر سندھی اور بلوچ کا غلبہ تو کیا موجودگی بھی انتہائی کم ھے جبکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان چھائے ھوئے ھیں۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان چونکہ پاکستان کی بیوروکریسی ' سول سروسز ' ملٹری سروسز ' سیاست ' صحافت ' مذھبی تنظیموں اور شھری علاقوں پر پنجابیوں کے بعد سب سے زیادہ چھائے ھوئے ھیں ' اس لیے پنجابپنجابیوں اور پاکستان کے خلاف ھر وقت سازشوں اور شرارتوں میں لگے رھتے ھیں۔

سندھیوں اور بلوچوں کو انکے اپنے اپنے علاقوں میں سماجی ' معاشی ' انتظامی اور ترقیاتی معاملات میں اختیار چاھیئے ' جو انکو دے دیا جائے تو سندھیوں اور بلوچوں سے پنجابیوں کو کوئی مسئلہ نہیں رھنا۔ جبکہ پنجابیوں کی طرف سے اگر سندھیوں اور بلوچوں کی پاکستان کی بیوروکریسی ' سول سروسز ' ملٹری سروسز ' شھری علاقوں ' صنعت ' تجارت اور ھنرمندی کے شعبوں میں مستحکم ھونے میں مدد کردی جائے تو سندھیوں اور بلوچوں نے پنجابیوں کے دلی دوست بن جانا ھے۔ لیکن اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان ایک تو پاکستان کی بیوروکریسی ' سول سروسز ' ملٹری سروسز ' شھری علاقوں ' صنعت ' تجارت اور ھنرمندی کے شعبوں پر قابص ھیں۔ دوسرا اِنہوں نے پنجاب میں بھی ڈیرے ڈالے ھوئے ھیں۔ تیسرا پنجابپنجابیوں اور پاکستان کی جڑیں کاٹنے میں بھی لگے رھتے ھیں۔

یہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پٹھان گذشتہ 70 سالوں سے پنجابی قوم کو مسلمان اور پاکستانی ھونے کے نام پر بے واقوف بنا رھے ھیں۔ اردو بولنے والے ھندوستانی ' ھندوستان سے ' جبکہ پٹھان ' افغانستان سے ' اپنے اپنے لوگوں کو بلا بلا کر پاکستان ' خاص طور پر پنجاب اور سندھ پر قابض بھی کرواتے جا رھے ھیں۔ اب پنجابی قوم کو ان اردو بولنے والے ھندوستانیوں اور پٹھانوں کو سبق سکھانا پڑنا ھے تا کہ انکو انکی اوقات میں رکھا جائے۔ ورنہ ان اردو بولنے والے ھندوستانیوں اور پٹھانوں نے پاکستان اور خاص طور پر پنجاب اور پنجابی قوم کو تباہ و برباد کر کے رکھ دینا ھے۔