Tuesday, 6 June 2017

پاکستان کا کوئی بھی علاقہ یک لسانی نہیں ھے۔

پاکستان میں عام طور پر یہ تاثر دے کر گمراہ کیا جاتا رھا ھے کہ پاکستان پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ قوموں کا ملک ھے۔ پنجاب میں پنجابی رھتے ھیں۔ سندھ میں سندھی رھتے ھیں۔ خیبر پختونخواہ میں پٹھان رھتے ھیں۔ بلوچستان میں بلوچ رھتے ھیں۔ حالانکہ پاکستان کا کوئی بھی علاقہ یک لسانی نہیں ھے۔ پاکستان کے ھر علاقے میں مختلف لسانی گروھوں کی ملی جلی آبادی ھے۔ پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان ' پاکستان کے صوبے ھیں ' نہ کہ پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ قوموں کے راجواڑے ھیں۔

پاکستان میں پنجابی کی آبادی 60% ھے۔ پنجابی صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں بلکہ خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔ اس لیے شہری علاقوں' صنعت ' تجارت ' ذراعت ' سیاست ' صحافت ' ھنرمندی اور سرکاری ملازمت کے شعبوں میں پنجابی چھائے ھوئے نظر آتے ھیں۔

پاکستان اصل میں سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کا ھی نیا نام ھے۔ سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب کے قدیمی باشندے جنہوں نے سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی زمین پر تہذیب کو تشکیل دیا وہ پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ھیں۔ جو پاکستان کی آبادی کا 85 فیصد ھیں۔ انہیں پاکستان کی 15 فیصد آبادی کی وجہ سے الجھن ' پریشانی اور بحران کا سامنا ھے۔ یہ 15 فیصد آبادی والے لوگ ھیں؛ افغانستان سے آنے والے جو اب پٹھان کہلواتے ھیں۔ کردستان سے آنے والے جو اب بلوچ کہلواتے ھیں۔ ھندوستان سے آنے والے جو اب مھاجر کہلواتے ھیں۔

مسئلہ یہ ھے کہ پاکستان قائم تو سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین پر ھے لیکن غلبہ گنگا جمنا کی زبان و ثقافت اور افغانی و کردستانی بد تہذیبی کا ھو چکا ھے۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کراچی میں ' افغانی نزاد پٹھان خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے پشتون علاقے ' کردستانی بلوچ ' بلوچستان کے بلوچ علاقے ' دیہی سندھ اور جنوبی پنجاب میں اپنا تسلط رکھنا چاھتے ھیں۔ ان علاقوں میں پہلے سے رھنے والے لوگوں پر اپنی سماجی ' معاشی اور سیاسی بالاتری رکھنا چاھتے ھیں۔

خیبر پختونخواہ میں ھندکو کی طرف سے پٹھانوں کا ' بلوچستان میں بروھی کی طرف سے بلوچ کا ' سندھ میں سماٹ کی طرف سے بلوچ کا اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا مقابلہ کرنے کی ھمت اور صلاحیت نہیں تھی لیکن پنجابی بھی چونکہ کراچی ' بلوچستان ' دیہی سندھ اور خیبر پختونخواہ میں رھتے ھیں۔ اس لیے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے پشتون علاقے میں پنجابیوں کے ساتھ پٹھانوں کے ناروا سلوک کے بعد اب پنجابیوں میں پٹھانوں کے لیے ناپسندیدگی پیدا ھوتی جا رھی ھے۔ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے کراچی میں پنجابیوں کے ساتھ ٹکراؤ کے بعد پنجابی قوم نے اب یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کرنا شروع کر دیا ھے۔

کردستانی بلوچ ' بلوچستان میں بروھی اور دیہی سندھ میں سماٹ پر اپنی سماجی ' معاشی اور سیاسی بالاتری قائم کرچکے تھے لیکن عرصہ دراز سے بلوچستان اور دیہی سندھ میں پنجابیوں کے ساتھ محاذ آرائی کی وجہ سے اور اب جنوبی پنجاب میں سرائیکی کے نام پر ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی ' ڈیرہ والی پنجابی کو سرائیکی کے نام پر اکٹھا کرنے کی کوشش کرکے پنجابی قوم کو تقسیم کرنے اور سرائیکی صوبہ کی سازش کرنے کی وجہ سے پنجابی قوم میں کردستانی بلوچوں کے لیے شدید غصہ پایا جاتا ھے۔

پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان اب سپتا سندھو یا وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کے قدیم باشندوں پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی کے علاوہ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں اور دیگر کا بھی ملک ھے۔ پنجابی قوم کے سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم ھیں۔ پنجابی قوم کے پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔

پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے صرف پنجابی قوم کے ساتھ ھی نہیں بلکہ سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔ پٹھان ' بلوچ ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو چاھیئے کہ نہ صرف پنجابی قوم بلکہ سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم قائم کریں۔

دراصل پاکستان کے قائم ھوتے کے بعد پٹھانوں کو پٹھان غفار خان ' بلوچوں کو بلوچ خیر بخش مری ' بلوچ سندھیوں کو عربی نزاد جی - ایم سید ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو مھاجر الطاف حسین نے “Proxy of Foreign Sponsored Intellectual Terrorism” کا کھیل ' کھیل کر اپنی “Intellectual Corruption” کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ اور انکے بچوں کا مستقبل برباد کردیا ھے۔ اس لیے پٹھان ' بلوچ ' مھاجر ' پنجاب کے خلاف سازشیں اور شرارتیں کرنے میں لگے رھتے ھیں۔ جھوٹے قصے ' کہانیاں تراش کر پنجاب پر الزام تراشیاں کرتے ھیں۔ گالیاں دیتے ھیں۔ اپنے علاقوں میں پنجابیوں پر ظلم اور زیادتیاں کرتے ھیں۔ اپنے علاقوں میں کاروبار کرنے والے پنجابیوں کو واپس پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتے ھیں بلکہ پنجابیوں کی لاشیں تک پنجاب بھیجتے ھیں۔

پٹھانوں ' بلوچوں ' مھاجروں کو چاھیئے کہ پنجابی قوم کے ساتھ خراب ھوتے ھوئے تعلقات کو مزید خراب ھونے سے بچانے اور اپنی قوم کا پنجابی قوم کے ساتھ مجموعی رویہ درست کرنے کے لیے اپنے اپنے سیاستدانوں اور صحافیوں کے گلے میں پٹہ ڈالیں اور اپنے اپنے علاقے میں جن پنجابیوں کی زمین اور جائیدار پر قبضے کر چکے ھیں ' وہ واپس کردیں۔ جن پنجابیوں کو قتل کرچکے ھیں انکا خون بہا دے دیں۔ جن جن پنجابیوں پر ظلم اور زیادتی کی ھے اسکی تلافی کردیں۔

سندھیوں ' پٹھانوں ' بلوچوں ' مھاجروں کو چاھیئے کہ جس پنجابی شخصیت کی وجہ سے انکو نقصان ھوا ھو یا ھو رھا ھو ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ ' مھاجر اس شخصیت کا نام لیکر الزام لگائیں اور اس شخصیت کے خلاف محاذ آرائی کریں۔ لیکن عام پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے والوں پر نظر رکھیں۔ پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں دینے یا الزام تراشیاں کرنے والوں پر نظر رکھیں۔ ٹی ویی ٹاک شو پر نظر رکھیں۔ اخبارات پر نظر رکھیں۔ بلکہ فیس بک پر بھی نظر رکھیں۔

پٹھانوں ' بلوچوں ' مھاجروں کو خیال رکھنا ھوگا کہ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے ' پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دے کر 'الزامات لگا کر ' انکی قوم کا کوئی فرد ' انکے علاقے میں رھنے والے کسی پنجابی کو خوفزدہ ' ھراساں ' پریشان ' تنگ یا بلیک میل تو نہیں کر رھا؟ تاکہ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دینے ' الزام تراشیاں کرنے کی صدا اب پنجاب نہ پہنچنے اور پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی اطلاع اب پنجاب نہ پہنچنے۔ ورنہ جوابی ردِ عمل بہت شدید ھوگا۔