Wednesday, 7 June 2017

پنجاب میں قوم پرستی کے فروغ کی وجہ کیا ھے؟

قوم کے لوگوں ' قوم کی زبان ' قوم کی ثقافت ' قوم کی روایات ' قوم کی زمین ' کے ساتھ محبت اور انکے لیے قربانی دینے کو قوم پرستی کہا جاتا ھے۔ یہ ایک عقیدہ ھے کہ انکی قوم کے لوگوں کی عزت ' قوم کی زبان کی اھمیت ' قوم کی ثقافت کا وقار ' قوم کی روایات کا احترام ' قوم کی زمین کا تحفظ ' کسی بھی دوسرے دنیاوی کام سے زیادہ ضروری ھے۔

قوم میں قوم پرستی کی وجہ سے ھی دوسری زبان ' ثقافت ' روایات اور غیر ملکی لوگوں کے مفادات کو انکی زمین اور انکی قوم کے لوگوں پر دوسری قوم کے لوگوں کے غلبے کو محسوس کیا جاتا ھے۔ جسکی وجہ سے قوم کے لوگوں اور قوم کی زمین کے حقوق کا دفاع کرنے کی سوچ بیدار ھونا شروع ھو جاتی ھے۔

جن قوموں میں قوم پرستی نہ ھو ' وہ قومیں نہ تو دوسری قوموں کے غلبے کو محسوس کرتی ھیں اور نہ ھی ان میں اپنی قوم کے لوگوں اور اپنی زمین کے مفادات کا دفاع کرنے کی سوچ بیدار ھوپاتی ھے۔ اس لیے دوسری قوم کے لوگ انکی زمین اور انکی قوم کے لوگوں پر غلبہ پانے میں کامیاب ھوجاتے ھیں۔

پنجاب میں قوم پرستی کے فروغ کے لیے مخالف حریف کی ضرورت تھی جو کہ جنوبی پنجاب میں بلوچ ' وسطی پنجاب میں ھندوستانی مھاجر اور شمالی پنجاب میں پٹھان کی صورت میں دستیاب ھوتا جا رھا ھے۔

جنوبی پنجاب میں پنجابیوں نے بلوچ کے غلبے کو محسوس کرنا شروع کردیا ھے۔ وسطی پنجاب میں ھندوستانی مھاجر کے غلبے کو محسوس کرنا شروع کردیا ھے اور شمالی پنجاب میں پٹھان کے غلبے کو محسوس کرنا شروع کردیا ھے۔