Sunday, 2 July 2017

میرے اس بلاگ کے 750 مضمون مستقبل میں کن کے کام آئیں گے؟

پاکستان کے قائم ھوتے کے بعد سے افغانی نزاد پٹھانوں کو پٹھان خان غفار خان ' کردستانی نزاد بلوچوں کو بلوچ خیر بخش مری ' 1972 سے بلوچ سندھیوں اور عربی نزاد سندھیوں کو عربی نزاد جی - ایم سید ' 1986 سے یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو مھاجر الطاف حسین نے “Proxy of Foreign Sponsored Intellectual Terrorism”  کا کھیل ' کھیل کر اپنیCorruption”  “Intellectual کے ذریعے گمراہ کرکے ' انکی سوچ کو تباہ کردیا تھا۔

سوچ کی تباھی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پٹھان ' بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدانوں اور صحافیوں نے اپنا وطیرہ بنایا ھوا ھے کہ ھر وقت پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دی جائیں ' الزام تراشیاں کی جائیں اور اپنے اپنے لوگوں کو اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرنے پر اکسایا جائے۔

پٹھان ' بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدانوں اور صحافیوں کی حرکتوں کی وجہ سے خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی ' جو کہ پنجابی ھے ' ذھنی طور پر حراساں اور سماجی پچیدگی کا شکار رھتی ھے۔ جسکی وجہ سے اپنے گھریلو اور کاروباری امور کے بارے میں پریشان رھتی ھے۔

پٹھان ' بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ھر وقت پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف سازشیں اور شرارتیں کرنے میں لگے رھتے ھیں۔ جھوٹے قصے ' کہانیاں تراش کر پنجاب اور پنجابیوں پر الزام تراشیاں کرتے رھتے ھیں۔ پنجاب اور پنجابیوں کو گالیاں دیتے رھتے ھیں۔ اپنے اپنے علاقوں میں پنجابیوں پر ظلم اور زیادتیاں کرتے رھتے ھیں۔ اپنے اپنے علاقوں میں کاروبار کرنے والے پنجابیوں کو واپس پنجاب نقل مکانی کرنے پر مجبور کرتے رھتے ھیں بلکہ پنجابیوں کی لاشیں تک پنجاب بھیجتے رھتے ھیں۔ پنجابی اس وقت نہ بلوچستان جا کر کاروبار کر سکتے ھیں ' نہ سندھ ' نہ خیبر پختونخواہ اور نہ کراچی۔

جبکہ ان بلوچوں ' پٹھانوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے نہ صرف سماٹ کی زمین سندھ ' بروھی کی زمین بلوچستان اور ھندکو کی زمین خیبر پختونخواہ پر قبضہ کیا ھوا ھے۔ بلکہ پنجاب کی سیاست ' صحافت ' تجارت ' سرکاری نوکریوں اور زمیںوں پر بھی یہ بلوچ ' پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر قبضہ کرتے جا رھے ھیں لیکن پاکستان کی جی ڈی پی ' پیداوار اور معیشت میں اضافہ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے تباہ و برباد کرنے میں لگے رھتے ھیں۔

پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جناح پور ' بلوچ آزاد بلوچستان ' پٹھان پختونستان کی سازشیں اور شرارتیں کرتے رھتے ھیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دشمنوں سے سازباز کرکے پاکستان دشمنی کے اقدامات تک کرنے میں لگے رھتے ھیں اور پاکستان کو توڑنے کی دھمکیاں دیتے رھتے ھیں۔

لیکن پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی صحافی اور پنجابی سیاستدان پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں کا ماضی و حال۔ پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے حالات و واقعات۔ افغانی پٹھان ' کردستانی بلوچ ' ھندوستانی مھاجر کی دراندازی و قبضہ گیری کی تفصیل سے آگاہ نہ ھونے کی وجہ سے اب تک ان پٹھان ' بلوچ ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر سیاستدانوں اور صحافیوں کی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کا سیاسی طور پر تدارک کرنے میں ناکام رھے ھیں۔ جبکہ انتظامی اقدامات سے انکی سازشوں اور ملک دشمن سرگرمیوں کو عارضی طور پر روکا تو جاتا رھا لیکن ختم نہیں کیا جاسکا۔

اس لیے پاکستان کے سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی امور کو سمجھنے کے لیے اس بلاگ میں میرے 750 مضمون موجود ھیں۔ جن میں پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں کا ماضی و حال۔ پنجاب ' سندھ ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان کے حالات و واقعات۔ افغانی پٹھان ' کردستانی بلوچ ' ھندوستانی مھاجر کی دراندازی و قبضہ گیری کی تفصیل بیان کی گئی ھے۔

 میرے اس بلاگ کے 750 مضمون مستقبل میں افغانی نزاد پٹھانوں ' کردستانی نزاد بلوچوں ' یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی “Proxy of Foreign Sponsored Intellectual Terrorism”   اور “Intellectual Corruption” کا سیاسی طور پر تدارک کرنے کے لیے پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی صحافیوں اور پنجابی سیاستدانوں کے کام آئیں گے۔ https://pthinker.blogspot.com