Saturday, 1 July 2017

پیپلز پارٹی کی پنجاب میں گرتی ساکھ کا حل۔

اس بات میں کوئی دو رائے قائم نہیں کی جاسکتی کہ پیپلز پارٹی شدید بحران کا شکار ھے۔ خاص طور پر پنجاب میں پارٹی کی گرتی ھوئی ساکھ پارٹی کے لیے پریشان کن ھے۔ قابل غور پہلو یہ ھے کہ پنجاب میں پارٹی کی گرتی ھوئی ساکھ کو بچانے کے لیے کی جانے والی تمام تدابیر مثلا بلاول کو پنجاب میں ایکٹو کرنا ' سرائیکی صوبہ کے شوشے کو ھوا دینا اور بلاول ھاؤس پنجاب کو سیاسی مرکز بنانے سمیت تمام اقدامات ناکام ھو چکے ھیں۔ ایسا محسوس ھوتا ھے کہ پارٹی قیادت تمام تر کاوشوں کے باوجود پنجاب کے با شعور سیاسی طبقے کو قائل کرنے میں ناکام نظر آتی ھے۔

اصل بات یہ ھے کہ مرض کی تشخیص کیے بغیر مرض کا علاج ناممکن ھی ھوتا ھے۔ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں نمایاں سیاسی مقام حاصل کرنے کے لیے پنجاب کے پنجابی سے زیادہ سندھ کے سندھی پنجابی کی سپورٹ حاصل کرنے کی ضرورت ھے۔ اگر پیپلز پارٹی کی قیادت سندھ کے پنجابیوں کے زخموں پر مرحم رکھتی ھے تو امید کی جاسکتی ھے کہ سندھ کے پنجابی پیپلز پارٹی کا مقدمہ پنجاب کے پنجابی کے سامنے بہتر طور پر پیش کر سکتے ھیں۔

پیپلز پارٹی کی قیادت کو غور کرنا ھو گا کہ 1970 کے بعد سندھ کے پنجابی کے دیہی سندھ کی دوسری بڑی آبادی ھونے کے باوجود انکے ساتھ کیا کیا زیادتیاں ھوئیں اور ھو رھی ھیں؟ اگر ان زیادتیوں کا مکمل ذکر اس کالم میں کیا جائے تو شاید یہ کالم کتاب کی شکل اختیار کر جائے۔ ذالفقار علی بھٹو صاحب نے سندھی اور نان سندھی کے نام پر فارمولا طے کیا تھا کہ سندھ کا وزیرِ اعلی سندھی اور گورنر نان سندھی ھو گا لیکن افسوس کہ دیہی سندھ کی دوسری بڑی آبادی اور کراچی کی دوسری بڑی آبادی جبکہ مجموعی طور پر سندھ کی تیسری بڑی آبادی ھونے کے باوجود کسی سندھ کے پنجابی کو سندھ کا گورنر نہیں بنایا گیا۔

کراچی کا مقامی پنجابی صنعت کار 1988 کے بعد سے سندھ میں صنعت لگانے کی ھمت نہیں کر رھا بلکہ اپنی صنعت کو سندھ سے شفٹ کرنے پر مجبور ھو گیا۔ دیہی سندھ کا مقامی پنجابی ذراعت کے شعبے کو ترقی دینے کے بجائے ظلم اور زیادتیوں کی وجہ سے ذراعت کے شعبے سے دوری اختیار کرتا جا رھا ھے۔ محنت کش ھونے کے باوجود سندھ کا پنجابی باحالت مجبوری سندھ سے نقل مکانی کرتا جا رھا ھے۔ اسمال بزنس کرنے کے لیے حکومتی سہولتیں ' جائیداد کا تحفظ اور صوبائی و مقامی سرکاری نوکریوں میں شراکت کا موقع تو اب سندھ کے پنجابی کے مقدر میں رھا ھی نہیں۔

سندھ کے پنجابی کے ساتھ اس ظلم کی داستان پچھلی کئی دھائیوں سے سندھ سے پنجاب منتقل ھوتی رھی اور اب پنجاب کے پنجابی نے سندھ کے پنجابی کے ساتھ ھونے والے ظلم پر پیپلز پارٹی کی ناپسندیدگی کی صورت میں اپنے سیاسی موقف کا اظہار کرنا شروع کردیا ھے۔ اگر پیپلز پارٹی کی قیادت سندھ کے مظلوم پنجابی کو اسکا حق دلوائے اور شفقت کا رویہ اپنائے تو شاید سندھ کا پنجابی ' پنجاب کے پنجابی کے سامنے پیپلز پارٹی کا وکیل بن کر پیپلز پارٹی کی پنجاب میں گرتی ساکھ کو بحال کرواسکے ورنہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی گرتی ساکھ کو روکنا اب مشکل ھی نہیں بلکہ ناممکن ثابت ھوگا۔