Tuesday, 11 July 2017

عمران خان اور آصف زرداری کا خواب جبکہ "نیو گریٹ گیم"۔

پنجاب کی قومی اسمبلی کی 144 سیٹوں میں سے؛
35 سیٹیں پنجاب سے پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی لے۔
15 سیٹیں پنجاب سے سندھیوں کی پارٹی پی پی پی لے۔

کے پی کے اور فاٹا کی قومی اسمبلی کی 51 سیٹوں میں سے؛
30 سیٹیں کے پی کے اور فاٹا سے پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی لے۔
5 سیٹیں کے پی کے اور فاٹا سے سندھیوں کی پارٹی پی پی پی لے۔

دیہی سندھ کی قومی اسمبلی کی 40 سیٹوں میں سے؛
35 سیٹیں دیہی سندھ سے سندھیوں کی پارٹی پی پی پی لے۔

کراچی کی قومی اسمبلی کی 21 سیٹوں میں سے؛
10 سیٹیں کراچی سے مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم لے۔
4 سیٹیں کراچی سے پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی لے۔
3 سیٹیں کراچی سے سندھیوں کی پارٹی پی پی پی لے۔

بلوچستان کی قومی اسمبلی کی 16 سیٹیں کمی بیشی کے لیے چھوڑ دی جائیں۔

وفاقی حکومت بنانے کے لیے 137 سیٹیں چاھیے ھوتی ھیں۔ سندھیوں کی پارٹی پی پی پی کے پاس 58 سیٹیں ھونگی۔ پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی کے پاس 69 سیٹیں ھونگی۔ مھاجروں کی پارٹی ایم کیو ایم کی 10 سیٹیں بھی عمران خان اور آصف زرداری کے ھاتھ میں ھی رھیں گی۔ اس طرح عمران خان اور آصف زرداری کے پاس قومی اسمبلی کی 137 سیٹیں ھونگی۔

پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی اور سندھیوں کی پارٹی پی پی پی مل جائیں گی اور 2018 میں عمران خان اور آصف زرداری سندھیوں ' مھاجروں اور پٹھانوں کو ملا کر پاکستان کی وفاقی حکومت بنا لیں گے۔

بس وفاق ھاتھ آجائے ' پھر سندھی ' مھاجر اور پٹھان مل کر پنجاب اور پنجابیوں کے مزاج درست کردیں گے۔ اس بار پنجاب کے ٹکڑے کرنے کے لیے جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبہ ھر حال میں بنا دیا جائے گا بلکہ شمالی پنجاب میں ھندکو صوبہ بھی بنا دیا جائے گا۔ یہ عمران خان اور آصف زرداری کا پتہ نہیں خیال ھے کہ خواب ھے؟

ویسے پسِ پردہ اس منصوبے کے لیے باھر سے عمران خان اور آصف زرداری کو امریکہ ' برطانیہ ' متحدہ عرب امارات اور بھارت کی بھرپور معاونت مل جائے گی جبکہ پنجاب میں سے چوھدری شجاعت حسین ' پرویز الٰہی جیسے درینہ مفاد پرستوں ' خیبر پختونخواہ میں سے اسفندیار ولی اور مولانا فضل الرحمٰن جیسے درینہ پرستوں کا بھی بھرپور تعاون حاصل رھے گا۔

پرویز مشرف تو ویسے ھی عمران خان اور آصف زرداری کو بھرپور تعاون دے گا کیونکہ اسکا نشانہ تو صرف ایک ھی ھے اور وہ ھے نواز شریف کو اقتدار سے باھر رکھنا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گذشتہ چار سال سے پرویز مشرف مصروف بھی ھے۔ قادری ڈرامہ سے لیکر عمران خان کے دھرنے اور پانامہ لیکس کے بحران ' نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ اور ن لیگ کی صدارت سے تا حیات نا اھلی تک پرویز مشرف نے نواز شریف کی چولیں ھلانے والوں کی دامے ' درمے ' سخنے مدد کی بھی ھے اور اب تک کر بھی رھا ھے۔

نواز شریف کی چولیں ھلانے کے لیے امریکہ ' برطانیہ ' متحدہ عرب امارات اور بھارت پرویز مشرف کی بھی دامے ' درمے ' سخنے مدد کر رھے ھیں۔ پاکستان کے میڈیا کے علاوہ بے شمار پسِ پردہ سماجی ' رفاھی اور فلاحی تنظیمیں اور شخصیات کو بھی انہوں نے ھی نواز شریف کی چولیں ھلانے کے کام پر لگایا ھوا ھے۔


وجہ اس سارے کھیل کی 2020 کے بعد بحرِ ھند میں ھونے والا "نیو گریٹ گیم" ھے۔ جسکے لیے امریکہ ' برطانیہ ' متحدہ عرب امارات اور بھارت کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں کسی ایک سیاسی جماعت کی اکثریت کے نہ ھو نے اور مختلف سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایسی حکومت بننے سے فائدہ ھوگا ' جس پر آسانی کے ساتھ چین اپنا اثر و رسوخ قائم نہیں کرسکے گا یا پھر پاکستان میں مارشلاء ھو تاکہ وہ تمام کھلاڑی جو اس وقت نواز شریف کو کرپٹ قرار دے کر نواز شریف کا گھیراؤ کیے ھوئے ھیں ' ان میں سے کچھ کھلاڑیوں کو فوجی حکومت میں شامل کروادیا جائے اور حکومت میں شامل کروانے میں ناکامی کی صورت میں ان کھلاڑیوں کو جمہوریت کی بحالی کے نام پر فوجی حکومت کے ساتھ محاذ آرائی میں لگایا جائے۔