Tuesday, 11 July 2017

اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر بے آسرا اور بے سہارا کیوں ھوتے جا رھے ھیں؟

اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ ھر کوئی ان سے آنکھیں کیوں پھیر رھا ھے؟ کہاں وہ دن تھے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے سربراھان تو کیا پاکستان کے مائی باپ امریکہ اور برطانیہ تک آنکھ کے اشارے کے منتظر رھتے تھے اور کہاں یہ دن کہ کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کر رھا؛ پھرتا ھے میر خوار ' کوئی پوچھتا نہیں۔ بات بہت سادہ سی ھے۔ پاکستان کے قیام سے لے کر ایم کیو ایم کے قیام تک اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور پنجابیوں کا چولی دامن کا ساتھ تھا۔ لیکن 1986 سے ایم کیو ایم کے قیام کے بعد اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اشرافیہ نے پنجابیوں کو فارغ کر کے تنہا پرواز کا پروگرام بنایا۔ امریکہ اور برطانیہ ھی نہیں ' انڈیا تک سے یارانے بڑھائے۔ سندھی مہاجر بھائی بھائی ' دھوتی نسوار کہاں سے آئی کے نعرے لگوائے۔ کھینچ کے رکھو ' تان کے رکھو ' پینڈؤ بستر باندھ کے رکھو اور کھینچ کے رکھو ' تان کے رکھو ' دھوتی والوں کو باندھ کے رکھو  ' کی پالیسی بنا کر پنجابیوں کو پیغام دیا کہ کراچی اب صرف اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا ھے۔ اس لیے اپنا بوریا بستر لپیٹو اور پنجاب کا رخ کرو ورنہ کراچی میں رھنے کی صورت میں پنجابیوں کو اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے رحم و کرم پر انحصار کرنا پڑے گا۔

اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا چونکہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ' بیوروکریسی ' فارن افیئرس ' پرنٹ میڈیا ' الیکٹرونک میڈیا ' پولیٹلکس ' فائینشل انسٹیٹیوشنس ' اربن سینٹرس اور اسکلڈ پروفیشنس پر غلبہ تھا۔ خاص طور پر کراچی تو 100 % اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے کنٹرول میں تھا۔ اس لیے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر وں کی اشرافیہ نے پنجابیوں کے ساتھ ساجھے داری ختم کر کے تن تنہا پرواز کرنے میں کم از کم کراچی کی حد تک کامیاب بھی حاصل کرلی۔ اسکے بعد پاکستان پر مشرف اور زرداری کی حکمرانی کے دور میں کراچی کی طرح پنجاب میں بھی پنجابیوں کو بے اثر کرنے اور کراچی سے لیکر گوادر تک کے علاقے کو پاکستان سے الگ کرکے پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے گلوبل پلیئرز امریکہ اور برطانیہ نے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو پاکستان میں اپنا ایڈوائزر ' کنٹریکٹر  ' کنسلٹنٹ اور ڈیلر بنا لیا۔ جسکی وجہ سے پنجاب اور پنجابیوں کی گوشمالی کی گئی۔ آئینی اور جمہوری طور پر منتخب پاکستان کے پنجابی وزیرِ اعظم کی حکومت ختم کر کے ' پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ن لیگ کو تقسیم کر کے ' ن لیگ میں سے مفاد پرست پنجابیوں کو نکال کر ق لیگ کے نام سے ایک الگ سیاسی جماعت بنائی گئی۔ جبکہ ن لیگ کے صدر اور پاکستان کے پنجابی وزیرِ اعظم کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کرکے پاکستان سے باھر بھیج کر ملک بدر کردیا گیا۔ پنجاب کو مذھبی بنیادوں پر اور پنجابیوں کو پنجابی زبان کے لہجوں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ بلوچستان میں آزاد بلوچستان اور کراچی میں جناح پور بنانے کی سازش شروع کی گئی۔ تاکہ پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائیں۔ لیکن پاکستان میں پنجابی قوم پرستی میں اضافہ ھوگیا۔ پنجابیوں نے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ھاتھوں پنجاب ' پنجابیوں اور پاکستان کے خلاف کی جانے والی شازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر کے امریکہ اور برطانیہ کو پیغام دیا کہ امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سرپرستی کا مطلب ھے کہ پنجابی چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھائیں؟

اس وقت پاکستان میں کمیونیکیشن اور انرجی کوریڈورس کا گریٹ گلوبل گیم ھو رھا ھے۔ اس وقت دنیا کے 20 طاقتور ترین ملک ترتیب کے لحاظ سے امریکہ ' روس ' چین ' برطانیہ ' جرمنی ' فرانس ' جاپان ' اسرائیل ' سعودی عرب ' متحدہ عرب امارات ' جنوبی کوریا ' کینیڈا  ' ترکی ' ایران ' سوئزرلینڈ ' انڈیا ' آسٹریلیا ' اٹلی ' سوئیڈن اور پاکستان ھیں۔ پاکستان میں کھیلے جانے والے کمیونیکیشن اور انرجی کوریڈورس کے گریٹ گلوبل گیم کے بین الاقوامی کھلاڑی تو امریکہ ' برطانیہ ' چین اور روس ھیں۔ علاقائی کھلاڑی انڈیا ' ایران ' متحدہ عرب امارات ' سعودی عرب ' ترکی ھیں۔ جبکہ جرمنی ' فرانس ' جاپان ' اسرائیل ' جنوبی کوریا ' کینیڈا  ' سوئزرلینڈ ' آسٹریلیا ' اٹلی ' سوئیڈن بھی دنیا کے 20 طاقتور ترین ملکوں میں ھونے کی وجہ سے پاکستان میں ھونے والے کمیونیکیشن اور انرجی کوریڈورس کے گریٹ گلوبل گیم سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ لیکن پاکستان میں اس کھیل کے قومی کھلاڑی حکومت کے لحاظ سے پاکستان کی حکومت ' دفاعی ادارے کے لحاظ سے پاکستان کی فوج اور قوم کے لحاظ سے پنجابی قوم ھیں۔ اس وقت پاکستان کی فوج کا سربراہ بھی پنجابی ھے۔ جبکہ پاکستان کی حکومت بھی نہ صرف پنجابی وزیرِ اعظم کے پاس ھے بلکہ اس پنجابی سیاسی رھنما کے پاس ھے جسکو غیر آئینی طریقے سے ھٹا کر تذلیل اور توھین کا نشانہ بنایا گیا تاکہ پنجابیوں کو  سیاسی طور پر بے اثر کرکے پنجاب ' پنجابیوں اور پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کیے جا سکیں۔ 

اس وقت صرتحال یہ ھے کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ بھی پاکستان میں پہلی بار زیادہ تر پنجابی وفاقی وزیروں پر مشتمل ھے۔ پاکستان کی فوج کا سربراہ بھی پنجابی ھے۔ بلکہ یہ بھی پاکستان میں پہلی بار ھے کہ پاکستان کی فوج کے سینئر افسران زیادہ تر پنجابی ھیں۔ جبکہ پاکستان کے قیام کے 70 سالہ دور میں یہ پہلا دور ھے جس میں پاکستان بھر میں پنجابی قوم پرستی نے بہت تیزی کے ساتھ فروغ پانا شروع کردیا ھے۔ پاکستان میں پنجابی کی آبادی 60% ھے۔ پنجابی صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں بلکہ خیبر پختونخواہ کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ' سندھ کی دوسری بڑی آبادی ' کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔ اس لیے سندھی قوم ھو یا سندھیوں کی سیاسی پارٹی پی پی پی ھو ' پٹھان قوم ھو یا پٹھانوں کی سیاسی پارٹی پی ٹی آئی ھو ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ھوں یا اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی پارٹی ایم کیو ایم ھو ' یہ سب قومی نہیں بلکہ مقامی کھلاڑی ھیں۔ یہ صرف اپنے اپنے علاقے میں ھی مقامی معاملات کی حد تک متحرک اور موثر کھیل ' کھیل سکتے ھیں لیکن قومی سطح کے کھیل میں بے بس اور بے کار ھیں۔ انکے علاوہ دیگر سیاسی کھلاڑی جیسا کہ ق لیگ ' ف لیگ ' اے این پی ' جے یو آئی اور جماعت اسلامی کی طرح کی سیاسی جماعتیں تو مقامی سطح کا بھی کھیل نہیں کھیل سکتیں۔ یہ سروس پرووائڈر ھیں اور انکی خدمات بین الاقومی کھلاڑی براہِ راست تو لیں گے نہیں۔ اس لیے ان میں سے کس کی خدمات کون سے قومی یا مقامی کھلاڑی لیتے ھیں؟ اس کا انحصار انکے خدمات فراھم کرنے کی صلاحیت پر ھے۔ اسی لیے یہ آج کل اپنی خدمات فراھم کرنے کے لیے کسی قومی یا مقامی کھلاڑی سے ٹھیکہ لینے کے لیے کوششیں اور کاوشیں کر رھے ھیں۔

پاکستان میں کھیلے جانے والے کمیونیکیشن اور انرجی کوریڈورس کے گریٹ گلوبل گیم کے بین الاقومی کھلاڑیوں امریکہ ' برطانیہ ' چین اور روس  کے لیے چونکہ پنجاب اور پنجابی قوم کی حیثیت قومی کھلاڑی کی ھے۔ جبکہ امریکہ اور برطانیہ کی بھرپور سرپرستی کے باوجود اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ' پنجابی قوم کا قومی کھلاڑی والا کردار ختم نہیں کر پائے۔ بلکہ اپنا مقامی کھلاڑی والا کردار بھی پنجابیوں کے تعاون کے بغیر برقرار رکھنا اب اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے بس کی بات نہیں رھنا۔ اس لیے پاکستان میں کھیلے جانے والے کمیونیکیشن اور انرجی کوریڈورس کے گریٹ گلوبل گیم کے بین الاقومی کھلاڑیوں چین اور روس سے مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ اور برطانیہ کو اپنی " کیرٹ اینڈ اسٹک " اور " ھائیر اینڈ فائر " پالیسی کے تحت اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو ''فائر'' کر کے ''اسٹک'' دکھانی پڑنی ھے۔ جبکہ پنجابیوں کو ''کیرٹ'' دے کر ''ھائر'' کرنا پڑنا ھے۔ کیونکہ امریکہ اور برطانیہ کو پتہ ھے کہ " ایک میان میں دو تلواریں نہیں آ سکتیں '' جبکہ وہ دو تلواریں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اور پنجابی ھی ھیں۔ امریکہ اور برطانیہ کو یہ بھی پتہ ھے کہ " اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو ''فائر'' کرنے کی صورت میں انکے پاس دوسرا راستہ نہیں ھے لیکن پنجابیوں کو ''کیرٹ'' دے کر ''ھائر'' نہ کیا گیا تو پنجابیوں نے چین اور روس کے کیمپ میں چلے جانا ھے۔