Saturday, 15 July 2017

بلوچستان کے پشتون علاقے میں پنجابی ٹیچرس اور اسٹوڈنٹس پر ظلم اور زیادتیاں۔

بلوچستان کا علاقہ بلوچستان کے بلوچ علاقے اور بلوچستان کے پشتون علاقے پر مشتمل ھے۔ بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھے اور بلوچستان کے پشتون علاقے کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھے۔ بلوچستان میں بلوچوں کے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتیوں کے پیچھے تو بلوچوں کی غیر ملکی طاقتوں کے آلہ کار بنے رھنے کی عادت ھے۔ جبکہ بلوچستان میں پشتونوں کے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتیوں کے پیچھے پشتونوں کی افغان حکومت کا آلہ کار بنے رھنے کی عادت کے ساتھ ساتھ ذاتی مفادات بھی ھیں۔

بلوچستان کے اربن علاقے میں چونکہ معاشی طور پر بروھی یا بلوچ کے بجائے پنجابی اور پشتون کا غلبہ ھے۔ اس لیے بلوچستان کے اربن علاقے پر پشتون اپنے معاشی مفادات حاصل کرنے کے لیے پنجابیوں کو راستے سے ھٹانے میں لگے ھوئے ھیں۔ کیونکہ پشتون کو بلوچستان کے اربن علاقے میں معاشی مفادات حاصل کرنے میں بروھی یا بلوچ سے نہیں بلکہ پنجابی سے مقابلہ کرنا پڑتا ھے۔ بلوچستان میں پنجابی 200 سال سے آباد ھیں۔ تعلیم کے شعبوں میں پنجابیوں نے بیشمار خدمات انجام دیں۔ 1915 میں انجمن اسلامیہ نے اسلامیہ ھائی اسکول بنایا۔ جہاں سے لاتعداد طالب علموں نے تعلیم حاصل کی.

پنجابی کیوںکہ ھمیشہ سے تعلیم کو اھمیت دیتے تھے۔ ان میں شعور بھی زیادہ تھا۔ اس لیے بلوچستان میں تعلیمی میدان میں ھمیشہ آگے رهے۔ استاد باپ کی جگہ ھوتا ھے۔ مگر افسوس جن استادو نے تعلیم دی ' ان ھی استادوں کی کوئٹہ میں بہت بیدردی سے ٹارگٹ کللنگ کی گئی۔ 2006 سے اب تک بیشمار پنجابی استاد مارے گئے۔ دوسرا حربہ یہ استمال کیا گیا کہ پنجابی استادوں کے جبری تبادلے بلوچستان کے شورش زدہ علاقو میں کیے گئے تاکہ وہ نوکری چھوڑ دیں۔ پنجابی مرد ٹیچرس پر ظلم اور زیادتیوں کی انتہا کے بعد اب خواتین پنجابی ٹیچرس کی ٹارگٹ کلنگ اور بیحرمتی کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا۔

بلوچستان کے پشتون علاقے میں آج پشتون ٹیچرس ھیں اور پنجابی ٹیچرس کو بلوچستان کے پشتون علاقے میں سے نکال دیا گیا ھے۔ جبکہ افغان قبضہ گیروں کو بھی ٹیچر کی سرکاری نوکری کرنے کا موقع ملا ھوا ھے۔ مگر تعلیم کا حال تباہ و برباد ھے۔ مرد پنجابی ٹیچرس اور خواتین پنجابی ٹیچرس کی ٹارگٹ کلنگ اور بیحرمتی کے بعد اب معصوم پنجابی اسٹوڈنٹس کی ٹارگٹ کلنگ اور بیحرمتی کا سلسلہ بھی شروع ھے تاکہ پنجابی اسٹوڈنٹس کالج اور اسکول نہ جائیں۔آج تک پنجابی اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن نہیں بننے دی گئی تاکہ پنجابی اسٹوڈنٹس متحد ھوکر اپنے ساتھ ھونے والے ظلم اور زیادتیوں کا مقابلہ کر سکیں۔

اسکے برعکس پنجاب میں کسی پشتو ن استاد یا طالب علم کو نہ مارا گیا اور نہ تنگ کیا گیا، پشتو ن استاد یا طالب علم پنجاب میں پنجابی استادوں سے تعلیم بھی حاصل کر رھے ھیں۔ پشتون اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن بھی بناتے ھیں۔ پشتون کلچرل ڈے بھی مناتے ھیں۔ پنجابی مردہ باد کے نعرے بھی لگاتے ھیں۔ پنجاب کو اب مزید خاموش نہیں رھنا ھو گا۔ کیونکہ پنجاب اب بلوچستان کے پنجابیوں پر پشتونوں کے مزید ظلم اور زیادتیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ بلوچستان کے پشتون علاقے کے پشتونوں کو بھی اب سوچنا ھوگا کہ بلوچستان کے پشتون علاقے میں پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتیوں کی وجہ سے پشتونوں کے لیے پنجاب میں ماحول خراب ھوسکتا ھے۔

نوٹ :۔ یہ مضمون راجپوت ذالفقار کا تحریر کردہ ھے۔ راجپوت ذالفقار بلوچستان کے پشتون علاقے کے پنجابی قوم پرستوں کے آرگنائزر ھیں۔ بلوچستان کے پشتون علاقے میں رھنے والے پنجابی Rajpoot Zulfiqar کا فیس بک اکاؤنٹ فالو کریں اور فیس بک پر آپس میں رابطہ کرنے کے بعد بلوچستان کے پشتون علاقے میں پنجابیوں کے تحفظ اور پنجابیوں پر پشتونوں کے ظلم اور زیادتیوں کے تدارک کے لیے باھمی اتفاق و اتحاد کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے علمی اور سیاسی حکمت عملی کے طریقے تلاش کریں۔