Monday, 10 July 2017

اسٹیبلشمنٹ لیکن کون سی اسٹیبلشمنٹ؟

نواز شریف کو 1993 میں پٹھان صدر غلام اسحاق خان نے 58 ٹو بی کے اختیارات کا استعمال کرکے وزارتِ اعظمیٰ سے نکالا تھا۔ اس وقت پاکستان آرمی کا چیف بھی پٹھان جنرل رحیم کاکڑ تھا۔ لیکن نواز شریف 1997 میں پھر سے پاکستان کا وزیرِ اعظم منتخب ھوگیا۔

نواز شریف کو 1999 میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاء نافذ کرکے وزارتِ اعظمیٰ سے نکالا تھا۔ لیکن نواز شریف 2013 میں پھر سے پاکستان کا وزیرِ اعظم منتخب ھوگیا۔

اب ایک بار پھر سے نواز شریف کو وزارتِ اعظمیٰ سے نکالنے کی کوششیں ھو رھی ھیں۔ لیکن نواز شریف کو 1993 اور 1999 کی طرح وزارتِ اعظمیٰ سے آسانی کے ساتھ اس لیے نکالا نہیں جا پا رھا کہ اس وقت پاکستان کا صدر ھے تو اردو بولنے والا ھندوستانی مھاجر لیکن اسکے پاس پٹھان صدر غلام اسحاق خان کی طرح 58 ٹو بی کے اختیارات نہیں ھیں۔ جبکہ پاکستان آرمی کا چیف بھی جنرل پرویز مشرف کی طرح اردو بولنے والا ھندوستانی مھاجر نہیں ھے اور نہ جنرل رحیم کاکڑ کی طرح پٹھان ھے۔

پاکستان کے قیام کے بعد سے لیکر مشرقی پاکستان کی علیحدگی تک پاکستان پر پٹھان اور اترپردیش کی اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول رھا۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان پر پنجابی اور اترپردیش کی اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول رھا۔

اس وقت پاکستان پر پنجابی اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول ھے۔

اس لیے اسٹیبلشمنٹ کا ذکر کرتے وقت یہ وضاحت بھی کردی جانی چاھیئے کہ کون سی اسٹیبلشمنٹ؟ پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پٹھان اسٹیبلشمنٹ ' اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اسٹیبلشمنٹ؟