Wednesday, 22 March 2017

قرادادِ لاھور 23 مارچ 1940 کو کیا تھی اور قراداد میں ترمیم کیوں ' کب ' کیا ھوئی؟

23 مارچ 1940 کو لاھور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرار داد منظور کی گئی تھی۔ جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رھی۔

برصغیر میں برطانوی راج کی طرف سے عوام کو اقتدار سونپنے کے عمل کے پہلے مرحلے میں 1936/1937 میں جو پہلے عام انتخابات ھوئے تھے ' ان میں مسلم لیگ کو بری طرح سے ھزیمت اٹھانی پڑی تھی اور اسکے اس دعوی کو شدید زک پہنچی تھی کہ وہ بر صغیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ھے۔ اس وجہ سے مسلم لیگ کی قیادت اور کارکنوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے اور ان پر ایک عجب بے بسی کا عالم تھا۔

مدراس ' یو پی ' سی پی ' بہار اور اڑیسہ میں کانگریس کو واضح اکثریت حاصل ھوئی تھی۔ سرحد اور بمبئی میں کانگریس نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی تھی۔ سندھ اور آسام میں بھی جہاں مسلمان حاوی تھے کانگریس کو نمایاں کامیابی ملی تھی۔ پنجاب میں البتہ سر فضل حسین کی یونینسٹ پارٹی اور بنگال میں مولوی فضل الحق کی پرجا کرشک پارٹی کو جیت ھوئی تھی۔

غرض ھندوستان کے 11 صوبوں میں سے کسی ایک صوبہ میں بھی مسلم لیگ کو اقتدار حاصل نہ ھوسکا۔ ان حالات میں ایسا محسوس ھوتا تھا کہ مسلم لیگ برصغیر کے سیاسی دھارے سے الگ ھوتی جارھی  ھے۔ اس دوران کانگریس نے جو پہلی بار اقتدار کے نشے میں کچھ زیادہ ھی سر شار تھی ' ایسے اقدامات کیے جن سے مسلمانوں کے دلوں میں خدشات اور خطرات نے جنم لینا شروع کردیا۔ مثلاً کانگریس نے ھندی کو قومی زبان قرار دے دیا ' گاؤ کشی پر پابندی عائد کردی اور کانگریس کے ترنگے کو قومی پرچم کی حیثیت دی۔

اس صورت میں مسلم لیگ کی اقتدار سے محرومی کے ساتھ ساتھ اسکی قیادت میں یہ احساس بھی پیدا ھو رھا تھا کہ مسلم لیگ اقتدار سے اس بناء پر محروم کر دی گئی ھے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کہلاتی ھے۔ یہی نقطہ مسلم لیگ کی قیادت میں دو جدا قوموں کے احساس کی بیداری کا آغاز تھا۔

اسی دوران دوسری عالم گیر جنگ کی حمایت کے عوض اقتدار کی بھر پور منتقلی کے مسئلہ پر برطانوی راج اور کانگریس کے درمیان مناقشہ بھڑکا اور کانگریس اقتدار سے الگ ھوگئی تو مسلم لیگ کے لیے کچھ دروازے کھلتے دکھائی دیئے اور اسی پس منظر میں لاھور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا 3 روزہ اجلاس 22 مارچ کو شروع ھوا۔

اجلاس سے 4 روز قبل لاھور میں علامہ مشرقی کی خاکسار جماعت نے پابندی توڑتے ھوئے ایک عسکری پریڈ کی تھی۔ جس کو روکنے کے لیے پولیس نے فائرنگ کی۔ 35 کے قریب خاکسار جاں بحق ھوئے۔ اس واقعہ کی وجہ سے لاھور میں زبردست کشیدگی تھی۔ پنجاب میں مسلم لیگ کی اتحادی جماعت یونینسٹ پارٹی برسراقتدار تھی اور اس بات کا خطرہ تھا کہ خاکسار کے بیلچہ بردار کارکن مسلم لیگ کا یہ اجلاس نہ ھونے دیں یا اس موقع پر ھنگامہ برپا کریں۔

موقع کی اسی نزاکت کے پیش نظر قائداعظم محمد علی جناح نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا۔ جس میں انہوں نے پہلی بار کہا کہ ھندوستان میں مسئلہ فرقہ ورارنہ نوعیت کا نہیں ھے بلکہ بین الاقوامی ھے یعنی یہ دو قوموں کا مسئلہ ھے۔ انہوں نے کہا کہ ھندوؤں اور مسلمانوں میں فرق اتنا بڑا اور واضح ھے کہ ایک مرکزی حکومت کے تحت ان کا اتحاد خطرات سے بھر پور ھوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت میں ایک ھی راہ ھے کہ ان کی علیحدہ مملکتیں ھوں۔

دوسرے دن انہی خطوط پر 23 مارچ کو اس زمانہ کے بنگال کے وزیر اعلی مولوی فضل الحق نے قرار داد لاھور پیش کی۔ قرار داد میں کہا گیا تھا کہ اس وقت تک کوئی آئینی پلان نہ تو قابل عمل ھوگا اور نہ مسلمانوں کو قبول ھوگا ' جب تک ایک دوسرے سے ملے ھوئے جغرافیائی یونٹوں کی جدا گانہ علاقوں میں حد بندی نہ ھو۔ قرار داد میں کہا گیا تھا کہ ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ھے ' جیسے کہ ھندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقے ' انہیں یکجا کر کے ان میں آزاد مملکتیں قائم کی جائیں ' جن میں شامل یونٹوں کو خود مختاری اور حاکمیتِ اعلی حاصل ھو۔

مولوی فضل الحق کی طرف سے پیش کردہ اس قرارداد کی تائید یوپی کے مسلم لیگی رھنما چوھدری خلیق الزماں ' پنجاب سے مولانا ظفر علی خان ' سرحد سے سردار اورنگ زیب ' سندھ سے سر عبداللہ ھارون اور بلوچستان سے قاضی عیسی نے کی۔ قرارداد 23 مارچ کو اختتامی اجلاس میں منظور کی گئی۔

اپریل سن 1941 میں مدراس میں مسلم لیگ کے اجلاس میں قراردادِ لاھور کو جماعت کے آئین میں شامل کر لیا گیا اور اسی کی بنیاد پر پاکستان کی تحریک شروع ھوئی۔ لیکن اُس وقت بھی ان علاقوں کی واضح نشاندھی نہیں کی گئی تھی ' جن پر مشتمل علیحدہ مسلم مملکتوں کا مطالبہ کیا جارھا تھا۔

قراردادِ لاھور میں ترمیم۔

پہلی بار پاکستان کے مطالبے کے لیے علاقوں کی نشاندھی 7 اپریل سن 1946 کو دلی کے تین روزہ کنونشن میں کی گئی۔ جس میں مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے مسلم لیگی اراکین نے شرکت کی تھی۔ اس کنونشن میں برطانیہ سے آنے والے کیبنٹ مشن کے وفد کے سامنے مسلم لیگ کا مطالبہ پیش کرنے کے لیے ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔ جس کا مسودہ مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے دو اراکین چوھدری خلیق الزماں اور حسن اصفہانی نے تیار کیا تھا۔ اس قراداد میں واضح طور پر پاکستان میں شامل کئے جانے والے علاقوں کی نشاندھی کی گئی تھی۔ شمال مشرق میں بنگال اور آسام اور شمال مغرب میں پنجاب ' سرحد ' سندھ اور بلوچستان۔ تعجب کی بات ھے کہ اس قرارداد میں کشمیر کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ حالانکہ شمال مغرب میں مسلم اکثریت والا علاقہ تھا اور پنجاب سے جڑا ھوا تھا۔

یہ بات بے حد اھم ھے کہ دلی کنونشن کی اس قرارداد میں دو مملکتوں کا ذکر یکسر حذف کر دیا گیا تھا۔ جو قراردادِ لاھور میں بہت واضح طور پر تھا۔ اس کی جگہ پاکستان کی واحد مملکت کا مطالبہ پیش کیا گیا تھا۔

قراردادِ لاھور کے مسودہ کا خالق کون تھا؟

غالباً بہت کم لوگوں کو اس کا علم ھے کہ قراردادِ لاھور کا اصل مسودہ اس زمانہ کے پنجاب کے یونینسٹ وزیر اعلی سر سکندر حیات خان نے تیار کیا تھا۔ یونینسٹ پارٹی اس زمانہ میں پنجاب میں مسلم لیگ کی اتحادی جماعت تھی اور سر سکندر حیات خان یونینسٹ پارٹی کے صدر تھے۔

سر سکندر حیات خان نے قرارداد کے اصل مسودہ میں بر صغیر میں ایک مرکزی حکومت کی بنیاد پر عملی طور پر کنفڈریشن کی تجویز پیش کی تھی لیکن جب اس مسودہ پر مسلم لیگ کی سبجیکٹ کمیٹی میں غور کیا گیا تو قائد اعظم محمد علی جناح نے خود اس مسودہ میں واحد مرکزی حکومت کا ذکر یکسر کاٹ دیا۔

سر سکندر حیات خان اس بات پر سخت ناراض تھے اور انہوں نے 11 مارچ سن 1941 کو پنجاب کی اسمبلی میں صاف صاف کہا تھا کہ ان کا پاکستان کا نظریہ جناح صاحب کے نظریہ سے بنیادی طور پر مختلف ھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ھندوستان میں ایک طرف ھندؤ راج اور دوسری طرف مسلم راج کی بنیاد پر تقسیم کے سخت خلاف ھیں اور وہ ایسی تباہ کن تقسیم کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ مگر ایسا نہ ھوا۔ سر سکندر حیات خان دوسرے سال سن 1942 میں 50 سال کی عمر میں انتقال کر گئے یوں پنجاب میں محمد علی جناح کو شدید مخالفت کے اٹھتے ھوئے حصار سے نجات مل گئی۔

سن 1946 کے دلی کنونشن میں پاکستان کے مطالبہ کی قرارداد حسین شھید سہروردی نے پیش کی اور یو پی کے مسلم لیگی رھنما چوھدری خلیق الزماں نے اس کی تائد کی تھی۔ قراردادِ لاھور پیش کرنے والے مولوی فضل الحق اس کنونشن میں شریک نہیں ھوئے کیونکہ انہیں سن 1941 میں مسلم لیگ سےخارج کردیا گیا تھا۔

دلی کنونشن میں بنگال کے رھنما ابو الہاشم نے اس قرارداد کی پر زور مخالفت کی اور یہ دلیل پیش کی کہ یہ قراردادِ لاھور کی قرارداد سے بالکل مختلف ھے۔ جو مسلم لیگ کے آئین کا حصہ ھے- ان کا کہنا تھا کہ قراردادِ لاھور میں واضح طور پر دو مملکتوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا لہذا دلی کنونشن کو مسلم لیگ کی اس بنیادی قرارداد میں ترمیم کا قطعی کوئی اختیار نہیں۔

ابوالہاشم کے مطابق قائد اعظم نے اسی کنونشن میں اور بعد میں بمبئی میں ایک ملاقات میں یہ وضاحت کی تھی کہ اس وقت چونکہ برصغیر میں دو الگ الگ دستور ساز اسمبلیوں کے قیام کی بات ھورھی  ھے لہذا دلی کنونشن کی قرارداد میں ایک مملکت کا ذکر کیا گیا ھے۔ البتہ جب پاکستان کی دستور ساز اسمبلی آئین مرتب کرے گی تو وہ اس مسئلہ کی حتمی ثالث ھوگی اور اسے دو علیحدہ مملکتوں کے قیام کے فیصلہ کا پورا اختیار ھوگا۔ لیکن پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے نہ تو قائد اعظم کی زندگی میں اور نہ اس وقت جب سن 1956 میں ملک کا پہلا آئین منظور ھورھا تھا ' بر صغیر میں مسلمانوں کی دو آزاد اور خود مختار مملکتوں کے قیام پر غور کیا۔

25 سال کی سیاسی اتھل پتھل اور کشمکش اور سن 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ کی تباھی کے بعد البتہ برصغیر میں مسلمانوں کی دو الگ الگ مملکتیں ابھریں جن کا مطالبہ قراردادِ لاھور کی صورت میں آج بھی محفوظ ھے۔