Saturday, 4 March 2017

بلوچ ' پٹھان ' مھاجر کا فوری طور پر حدود و قیود میں آنا کیوں ضروری ھے؟

بھارت میں اتر پردیش کی گنگا جمنا تہذیب  کے حامل 25٪ ھندی / اردو زبان بولنے والوں نے اپنی سیاسی دانشمندی سے بھارت کی 75٪ آبادی تیلگو قوم ' تامل قوم ' ملایالم قوم ' مراٹھی قوم ' کنڑا قوم ' اڑیہ قوم ' آسامی قوم ' بھوجپوری قوم اور بنگالی بولنے والے ھندو بنگالیوں ' پنجابی بولنے والوں ھندو پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں کو اپنا سماجی ' سیاسی اور انتظامی غلام بنا رکھا ھے لیکن پاکستان میں پنجابی تہذیب   کے حامل  60٪ پنجابیوں کو سیاسی دانشمندی نہ ھونے کی وجہ سے نہ پاکستان کی آبادی کے 20٪ سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی کے ساتھ افہام و تفہیم کرنی آئی اور نہ پاکستان کی آبادی کے 20٪ بلوچ  ' پٹھان ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر بلیک میلروں کو حدود و قیود میں رکھنا آیا۔

پاکستان ' پنجابیوں کے علاوہ 1۔ سماٹ 2۔ ھندکو 3۔ بروھی 4۔ کشمیری 5۔ گلگتی بلتستانی 6۔ چترالی 7۔ راجستھانی 8۔ گجراتی 9۔ پٹھان 10۔ بلوچ 11۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں 12۔ دیگر کا بھی ملک ھے۔

پنجابی قوم پاکستان کی اکثریتی آبادی ھے۔ پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے۔ پنجابی قوم کے سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی ' دیگر کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم ھیں۔ پنجابی قوم کے بلوچ ' پٹھان ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔

بلوچ
' پٹھان ' اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے صرف پنجابی قوم کے ساتھ ھی نہیں بلکہ سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم نہیں ھیں۔

بلوچ  ‘ پٹھان ‘  اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو چاھیئے کہ نہ صرف پنجابی قوم بلکہ سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ بھی برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم قائم کر
لیں۔ کیونکہ بلوچوں اور پٹھانوں کی اکثریت تو شروع سے ھی تعلیم کی طرف رحجان نہ ھونے کی وجہ سے جاھل اور گنوار تھی۔ اس لیے تعلیم حاصل کرکے سیاست سے وابسطہ شعبوں میں مہارت اور استحکام قائم کرنے میں دلچسپی کے بجائے بلوچوں اور پٹھانوں کا شغل ھمیشہ سے دوسری قوموں کی زمین پر قبضہ کرکے ان قوموں کی زمین میں ظلم ' زیادتی '  بے ایمانی اور بد اخلاقی کو فروغ دینا رھا لیکن اترپردیش کے گنگا جمنا والے ھندوستانی مھاجروں نے دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء اور بریلوی مدرسوں کے پڑھے ھوئے ھونے کی وجہ سے دارالعلوم دیوبند ' دار العلوم ندوۃ العلماء اور بریلوی مدرسوں کے فلسفے کی تبلیغ کو دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کے طور پر روشناس کروا کر دین کی تعلیمات حاصل کر کے اپنا اخلاق ٹھیک کرکے اور روحانی نشو نما کر کے اپنی جسمانی حرکات ' نفسانی خواھشات اور قلبی خیالات کی اصلاح کرکے اپنی دنیا اور آخِرَت سنوارنے کے بجائے پاکستان آنے کے بعد پاکستان میں اسلام کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرکے پاکستان کی سیاست ' صحافت ' ملٹری بیوروکریسی ' سول بیوروکریسی ' صنعت کے شعبے ' تجارت کے شعبے ' ھنرمندی کے شعبے اور پاکستان کے بڑے بڑے شھروں پر اپنا تسلط قائم کرلیا۔ لیکن اب پنجابی قوم ذراعت کے شعبوں ' ھنرمندی کے شعبوں ' تجارت کے شعبوں ' صنعت کے شعبوں ' سول بیوروکریسی اور ملٹری بیوروکریسی کے میدان میں استحکام حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بڑے بڑے شھروں میں بھی ھندوستان سے آنے والے یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت کے اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجروں کے تسلط کے مقابلے میں اپنے آپ کو مستحکم کر چکی ھے۔ اب صحافت کے شعبے پر سے اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجروں کا تسلط ختم کرکے اپنے آپ کو صحافت کے شعبے میں بھی مستحکم کر رھی ھے۔

سیاست کے میدان میں اگرچہ پنجابی مقدار کے لحاظ سے بڑی تعداد میں موجود ھیں لیکن پنجابیوں کی سیاست سماجی کاموں ' ذاتی اثر و رسوخ اور مالی وسائل کی بنیاد پر ھے ' نہ کہ سیاسی دانشمندی کی وجہ سے سیاست سے وابسطہ شعبوں میں مہارت اور استحکام کی بنیاد پر۔ اس لیے سیاست سے وابسطہ شعبوں کو بھی ھندوستان سے آنے والے یوپی ' سی پی کے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت کے اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجروں کے تسلط سے نجات دلانے کے لیے پنجابی قوم نے اب سیاسی دانشمندی حاصل کرنے پر بھرپور توجہ دینی ھے۔ تاکہ 2017 سے لیکر 2027 کے عرصے کے دوران سیاست کے تمام شعبوں میں پنجابی قوم مہارت اور استحکام حاصل کرسکے۔

پٹھان ' بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانی مہاجروں کی تو عادت بن چکی ھے کہ ایک تو ھندکو ' بروھی اور سماٹ پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ دوسرا کراچی ' سندھ ‘ خیبرپختونخواہ ' بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں رھنے والے پنجابی پر ظلم اور زیادتی کی جائے۔ تیسرا پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ چوتھا یہ کہ پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ لیکن اسکے باوجود سیاسی دانشمندی اور سیاست سے وابسطہ شعبوں میں مہارت اور استحکام نہ ھونے کی وجہ سے پنجابی قوم کا رویہ مفاھمانہ ' معذرت خواھانہ اور لاپرواھی کا رھا ھے۔

لحاظہ بلوچ  ‘ پٹھان ‘  اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے پنجابی قوم اور سماٹ ' ھندکو ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' راجستھانی ' گجراتی اور دیگر کے ساتھ برادرانہ اور عزت و احترام والے مراسم قائم نہ کیے تو مستقبل میں بلوچ ‘ پٹھان ‘ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو نہ صرف ھندکو ' بروھی اور سماٹ پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھنے ' کراچی ' سندھ ‘ خیبرپختونخواہ ' بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں رھنے والے پنجابی پر ظلم اور زیادتی کرنے ' پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے ' پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کرنے کا موقع نہیں ملنا بلکہ خود بھی سماجی ' سیاسی اور معاشی بحران میں مبتلا ھو جانا ھے۔ کیونکہ پنجابیوں نے سیاست کے تمام شعبوں میں مہارت اور استحکام حاصل کرکے پاکستان کے سماجی ' سیاسی ' معاشی ' اقتصادی اور انتظامی ماحول کو سیاسی دانشمندی کے ساتھ کنٹرول کرنا شروع کردینا ھے۔