Thursday, 9 March 2017

کیا عمران خان اور تحریکِ انصاف پٹھان ' پنجابی لڑائی کروانا چاھتے ھیں؟

گذشتہ روز خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اعلیٰ ' تحریکِ انصاف کے پٹھان پرویز خٹک نے اپنی کابینہ کے اراکین کے ھمراہ پنجاب آکر پٹھانوں کا جرگہ کرکے پنجابیوں کو دھمکیاں دیں۔

آج تحریکِ انصاف کے قومی اسمبلی کے پٹھان ممبروں نے قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی کے پنجابی ممبر کے ساتھ لڑائی کی ' مکے مارے اور دھکے دیے۔

ھن دسو پنجابی کی کرن؟

دراصل 2013 کے الیکشن میں تو عمران خان کی پارٹی تحریکِ انصاف کو خیبر پختونخواہ میں حکومت بنانے اور پنجاب سے نشستیں لینے کا موقع مل گیا تھا لیکن عمران خان کی غلط سیاست کی وجہ سے عمران خان نہ صرف کشمیر اور گلگت بلتستان میں تحریکِ انصاف کو الیکشن نہ جتوا سکا بلکہ حال ھی میں ھونے والے بلدیاتی انتخابات میں بھی تحریکِ انصاف کو پنجاب سے بری طرح شکست ھوئی۔ اس کے علاوہ سندھ ' کراچی اور بلوچستان میں بھی عمران خان تحریکِ انصاف کو حمایت نہ دلوا سکا۔

عمران خان کی غلط سیاست کی وجہ سے چونکہ آئندہ کے 2018 کے انتخابات میں تحریکِ انصاف کو نہ صرف پنجاب سے پہلے جتنی نشستیں نہیں ملنی بلکہ خیبر پختونخواہ میں بھی حکومت بنانا مشکل ھی نہیں ' ناممکن نظر آرھا ھے۔ اس لیے لگتا یہی ھے کہ عمران خان اور تحریکِ انصاف کا پروگرام ھے کہ پنجاب میں پٹھان اور پنجابی کی آپس میں لڑائی کروادی جائے۔

عمران خان اور تحریکِ انصاف کا سندھ ' کراچی ' بلوچستان ' کشمیر اور گلگت بلتستان میں نہ اثر ھے اور نہ رسوخ جبکہ پنجاب میں بھی عمران خان اور تحریکِ انصاف زوال کی طرف مائل ھیں۔ اس لیے پنجاب میں پٹھان اور پنجابی کی آپس میں لڑائی کی صورت میں پختون قوم پرستی میں اضافہ ھوگا ' جس سے پختون جذبات کی بنیاد پر تحریکِ انصاف کم از کم خیبر پختونخواہ میں تو حکومت بنا ھی لے گی جبکہ عمران خان بھی اگر قومی لیڈر نہ بن سکا تو  خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے پٹھانوں کا لیڈر تو بن ھی جائے گا۔ بلکہ عمران خان کو سندھ '  کراچی اور بلوچستان میں رھنے والے پٹھانوں کا لیڈر بننے کا بھی موقع مل سکتا ھے۔