Saturday, 4 March 2017

افغانی ' پختون ' پشتون ' پٹھان کا مسئلہ کیا ھے؟

افغانستان کے مغربی علاقے میں رھنے والے 60 قبیلوں کے افراد کو افغانی کہا جاتا ھے۔ یہ افغانی جب خیبر پختونخواہ میں رھنا شروع کردیتے ھیں تو خود کو پختون کہتے ھیں۔ جب بلوچستان میں رھنا شروع کردیتے ھیں تو خود کو پشتون کہتے ھیں۔ جب پنجاب ' سندھ اور کراچی میں رھنا شروع کردیتے ھیں تو خود کو پٹھان کہتے ھیں۔ مختلف علاقوں میں رھنے کے علاوہ انکے قبیلے تو الگ الگ ھیں ھی لیکن انکی زبانوں کے لہجے بھی مختلف ھیں بلکہ اتنے مختلف ھیں کہ ان میں سے اکثر خود ایک لہجہ بولنے والے دوسرے لہجے کو سمجھ نہیں پاتے۔ لیکن عام لوگ انہیں ایک ھی زبان اور قوم کے فرد سمجھتے ھیں۔ جبکہ یہ تاثر بھی ھے کہ افغانستان کا سارا علاقہ انہیں کا ھے اور یہ افغانستان کی اکثریتی آبادی ھیں اور افغانستان پر انکا مکمل کنٹرول ھے۔

افغانستان ' پاکستان اور دیگر ممالک میں افغانیوں ' پختونوں ' پشتونوں اور پٹھانوں کی کل آبادی 3 کروڑ 50 لاکھ ھے۔ افغانستان کی 32,500,000  آبادی میں سے افغانیوں کی آبادی 13,650,000 تھی۔ جبکہ 18,850,000  آبادی میں سے 8,775,000 تاجک ' 2,925,000 ازبک ' 2,600,000 ھزارہ ' 1,300,000 ایمک ' 975,000 ترکمان تھے۔ لیکن 3,000,000  افغانیوں کے پاکستان اور 650,000  افغانیوں کے دیگر ممالک میں چلے جانے کی وجہ سے اب افغانستان میں صرف ایک کروڑ افغانی بچے ھیں۔

فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں 13,500,000  پختون رھتے ھیں۔ بلوچستان میں 3,000,000  پشتون رھتے ھیں۔ پنجاب ' سندھ اور کراچی میں 5,000,000 پٹھان رھتے ھیں۔جبکہ 3,000,000 افغانی  فاٹا ' خیبر پختونخواہ ' بلوچستان ' پنجاب ' سندھ اور کراچی میں بکھر چکے ھیں۔ یہ وقت گذرنے کت ساتھ پختون ' پشتون یا پٹھان بن جائیں گے۔ کیونکہ واپس افغانستان تو انہوں نے جانا نہیں۔ پختونوں ' پشتونوں اور پٹھانوں کی آبادی 21,500,000  اور افغانیوں کی آبادی 3,000,000 کو ملایا جائے تو پاکستان میں پختونوں ' پشتونوں ' پٹھانوں اور افغانیوں کی کل آبادی 24,500,000  بنتی ھے۔

افغانستان کے ایک کروڑ افغانیوں کے ساتھ مسئلہ یہ ھے کہ افغانستان میں افغانیوں کی تعداد کم ھوجانے کی وجہ سے تاجک ' ھزارہ ' ایمک ' ازبک ' ترکمان نے افغانستان میں افغانیوں پر اپنا سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط قائم کیا ھوا ھے۔

فاٹا  میں رھنے والے پختونوں کے ساتھ مسئلہ یہ ھے کہ فاٹا میں معاشی وسائل نہیں ھیں۔ اور خیبر پختونخواہ میں رھنے والے پختونوں کے ساتھ مسئلہ یہ ھے کہ ایک تو معاشی طور پر مستحکم علاقوں پر ابھی تک ھندکو پنجابیوں کا کنٹرول ھے اور دوسرا ھندکو پنجابیوں کی پختونوں کو خیبر پختونخواہ سے نکالنے کی جدوجہد میں روز با روز اضافہ ھوتا جارھا ھے۔ 

بلوچستان میں میں رھنے والے پشتونوں کے ساتھ مسئلہ یہ ھے کہ بلوچستان میں پشتونوں کو بلوچوں نے اپنے سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط میں رکھا ھوا ھے۔

پنجاب ' سندھ اور کراچی میں رھنے والے پٹھانوں کے ساتھ مسئلہ یہ ھے کہ قلیل تعداد میں ھونے کی وجہ سے پنجاب میں پنجابی ' سندھی میں سندھی اور کراچی میں مھاجر پر اپنا سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط قائم نہیں کر سکتے۔ اس لیے پنجاب ' سندھ اور کراچی میں اپنی تعداد بڑھانے کے لیے اگر خیبر پختونخواہ سے پختونوں اور بلوچستان سے پشتونوں کو پنجاب ' سندھ اور کراچی میں لاتے ھیں تو خیبر پختونخواہ میں پختونوں اور بلوچستان میں پشتونوں کی تعداد کم ھوجاتی ھے۔ جسکی وجہ سے خیبر پختونخواہ میں ھندکو پنجابیوں کی پختونوں کو خیبر پختونخواہ سے نکالنے کی جدوجہد کامیاب ھوتی ھے جبکہ بلوچستان میں پشتونوں پر بلوچوں کے سیاسی ' سماجی اور معاشی تسلط میں مزید اضافہ ھوتا ھے۔

پچھلے ھزار سال کی تاریخ بتاتی ھے کہ افغانیوں نے اپنی دھرتی افغانستانی کو ترقی دے کر حلال رزق کے ذرائع پیدا کرنے کے بجائے مسلمان کا روپ دھار کر دوسری قوموں کی دھرتی پر قبضے اور وسائل کی لوٹ مار کرنے کے بعد مسلمان کے بجائے؛

1۔ خیبر پختونخواہ میں قوم پرست پختون بن کر اس دھرتی کو اپنی دھرتی اور اس قوم کے وسائل کو اپنے وسائل قرار دیا اور مقبوضہ ھندکو قوم پر الزام تراشی شروع کردی کہ وہ پختونوں کے ساتھ ظلم ' زیادتی اور نا انصافی کرتے ھیں۔

2۔ بلوچستان میں قوم پرست پشتون بن کر اس دھرتی کو اپنی دھرتی اور اس قوم کے وسائل کو اپنے وسائل قرار دیا اور مقبوضہ بلوچ قوم پر الزام تراشی شروع کردی کہ وہ پشتونوں کے ساتھ ظلم ' زیادتی اور نا انصافی کرتے ھیں۔

3۔ پنجاب ' سندھ اور کراچی میں قوم پرست پٹھان بن کر اس دھرتی کے کچھ علاقوں کو اپنی دھرتی اور اس قوم کے وسائل کو اپنے وسائل قرار دیا اور پنجاب میں پنجابی ' سندھ میں سندھی اور کراچی میں مھاجر قوم پر الزام تراشی شروع کردی کہ وہ پٹھانوں کے ساتھ ظلم ' زیادتی اور نا انصافی کرتے ھیں۔

1837 میں مھاراجہ رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد برطانیہ نے 2 اپریل 1849 کو پنجاب پر قبضہ کرلیا اور1901 میں پنجاب میں سے ایبٹ آباد ' بنوں ' بٹگرام ' تور غر ' شانگلہ ' صوابی ' لکی مروت ' مالاکنڈ ' مانسہرہ ' مردان ' نوشہرہ ' ٹانک ' پشاور ' چارسدہ ' ڈیرہ اسماعیل خان ' کرک ' کوھاٹ ' کوھستان ' ھری پور ' ھزارہ ' ھنگو کو پنجاب سے الگ کرکے شمال مغربی سرحدی صوبہ کے نام سے ایک الگ صوبہ بنا دیا۔

شمال مغربی سرحدی صوبہ کو 1901 سے لیکر 2010 تک عمومی طور پر صوبہ سرحد کہا جاتا رھا۔ لیکن 2010 میں آصف زرداری اور اسفندیار ولی نے اٹھارویں ترمیم کے وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے ھونے کی وجہ سے سازش کرکے پاکستان کے آئین میں صوبے کا نام خیبر پختونخواہ کروا لیا اور اس تاریخی حقیقت کو نظر انداز کردیا کہ صدیوں پہلے سے ھی اس صوبہ کا علاقہ ھندکو پنجابیوں کا ھے۔ جہاں افغانستان سے افغانی آآ کر اور پختون بن بن کر قبضہ کرتے رھے ھیں۔

بحرحال افغانیوں کے اپنی دھرتی افغانستانی کو ترقی دے کر حلال رزق کے ذرائع پیدا کرنے کے بجائے دوسری قوموں کی دھرتی پر قبضے اور وسائل کی لوٹ مار کرنے کے لالچ کا نتیجہ یہ نکلا ھے کہ 3 کروڑ 50 لاکھ افغانی ' پختون ' پشتون ' پٹھان اس وقت افغانستان ' فاٹا ' بلوچستان ' خیبر پختونخواہ ' پنجاب ' سندھ اور کراچی میں بکھر چکے ھیں۔ اس لیے افغانیوں کا افغانستان میں تاجک ' ھزارہ ' ایمک ' ازبک ' ترکمان کے ساتھ ' خیبر پختونخواہ میں پختونوں کا ھندکو پنجابیوں کے ساتھ ' بلوچستان میں پشتونوں کا بلوچوں کے ساتھ ' پٹھانوں کا پنجاب میں پنجابیوں  کے ساتھ ' سندھ میں سندھیوں  کے ساتھ اور کراچی میں مھاجروں  کے ساتھ سیاسی ' سماجی اور معاشی ٹکراؤ ھے۔ اس لیے افغانیوں کا اپنے وطن افغانستان ' پختونوں کا خیبر پختونخواہ ' پشتونوں کا بلوچستان اور پٹھانوں کا پنجاب ' سندھ اور کراچی میں سیاسی ' سماجی اور معاشی مستقبل تاریک ھی نظر آتا ھے۔