Monday, 13 March 2017

سماجی استحکام کے بغیر پاکستان میں سیاسی ' معاشی اور انتظامی استحکام ایک خواب ھے۔

ملک پاکستان بنگالی ' پنجابی ' سندھی ' پٹھان اور بلوچ قوموں کی باھمی رضامندی سے وجود میں آیا تھا۔ بنگالی قوم کے پاکستان سے الگ ھوجانے کے بعد اب پکستان تاریخی طور پر پنجابی ' سندھی ' پٹھان اور بلوچ قوموں کا ملک ھے۔

کسی قوم کی زبان ' تھذیب اور ثقافت کا فروغ ' ملک اور معاشرے میں اس قوم کے لیے سماجی استحکام کا باعث بنتا ھے۔

کسی قوم کے سماجی استحکام سے ' ملک اور معاشرے میں اس قوم کے عزت و احترام میں اضافہ ھوتا ھے۔

کسی قوم کے عزت و احترام میں اضافہ سے ' ملک اور معاشرے میں اس قوم کے افراد کا تشخص اور وقار نمایاں ھو جاتا ھے۔

کسی قوم کے افراد کا تشخص اور وقار نمایاں ھونے سے ' اس قوم کی زبان ' تھذیب اور ثقافت کو ملک اور معاشرے میں باعزت مقام حاصل ھوجاتا ھے۔

کسی قوم کی زبان ' تھذیب اور ثقافت کو ملک اور معاشرے میں باعزت مقام حاصل ھونے سے اس قوم کے افراد کو ملک اور معاشرے میں اپنی سیاسی ' معاشی اور انتظامی کارکردگی کے جواھر دکھانے کی سہولت دستیاب ھونے لگتی ھے۔

کسی قوم کے افراد کو ملک اور معاشرے میں اپنی سیاسی ' معاشی اور انتظامی کارکردگی کے جواھر دکھانے کی سہولت دستیاب ھونے کے باعث ' اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں آسانی حاصل ھوجاتی ھے۔

کسی قوم کے افراد کے سیاسی ' معاشی اور انتظامی کارکردگی کے جواھر اجاگر ھوجانے کے باعث ' وہ قوم ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ھونا شروع ھوجاتی ھے۔

کسی قوم کے ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ھوجانے کے بعد ' ملک میں فساد کے بجائے فلاح ' معاشرے میں بدامنی کے بجائے امن و امان اور عوام میں بے سکونی کے بجائے سکون کا ماحول پیدا ھوجاتا ھے۔

سماجی استحکام دراصل سیاسی ' معاشی اور انتظامی استحکام کا باعث بنتا ھے اور سماجی استحکام کا تعلق زبان ' ثقافت اور تھذیب سے ھوتا ھے۔

پاکستان کے قیام سے لیکر پنجابی نے پاکستان کی دیگر قوموں یا افراد پر اپنی زبان پنجابی کو مسلط کرنے کی کوشش تو نہیں کی ' لیکن پکستان کی قومی زبان اردو ھوجانے کی وجہ سے ' اردو زبان کو ھی حقیقت میں عملی طور پر قومی زبان بنانے کے لیے ' اردو کو اس قدر اھمیت دینا شروع کردی کہ اپنی زبان پنجابی کے وجود تک کو خطرے میں ڈال کر پنجابی قوم کو سماجی عدم استحکام کی طرف دھکیلنا شروع کردیا۔

تہذیب و ثقافت بھی ان افراد یا قوموں کی ھی فروغ پاتی ھے ' جن کی زبان کو بالادستی حاصل ھو ' اس لیے پنجابی نے پنجابی تہذیب و ثقافت کو فروغ دیکر دوسری قوموں پر پنجابی تہذیب و ثقافت مسلط کرنے کی کوشش تو نہیں کی لیکن پاکستان کے قومی لباس شیروانی اور پاجامے والوں کی تہذیب و ثقافت کو اس قدر اھمیت دینا شروع کردی کہ اپنی تہذیب و ثقافت کو پس پشت ڈال کر پنجابی قوم کو سماجی عدم استحکام میں مبتلا کردیا۔

پاکستان کی تمام قوموں کے سماجی عزت و احترام اور تشخص کا تقاضہ تھا کہ تمام قوموں کی زبان ' ثقافت اور تھذیب فروغ پاتی اور پنجابی پاکستان کی دوسری سب سے بڑی اور مغربی پاکستان کی سب سے بڑی قوم ھونے کے ناطے خود بھی اپنی زبان ' ثقافت اور تھذیب کو فروغ دیتے اور پاکستان کی دیگر چھوٹی قوموں کی زبان ' ثقافت اور تھذیب کو بھی فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتے۔

پنجابی قوم کو پاکستان کی دیگر قوموں کے سماجی استحصال کا براہ راست ذمہ دار تو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ پنجابی قوم کو اس امر کے لیے قصور وار قرار دیا جاسکتا ھے کہ اس نے اپنی زبان ' ثقافت اور تھذیب کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی۔ آبادی کے لحاظ سے پنجابی چونکہ پاکستان کی دوسری سب سے بڑی اور مغربی پاکستان کی سب سے بڑی قوم تھا ' اس لیے پنجابی نے اپنی زبان ' ثقافت اور تھذیب کو نظر انداز کرکے صرف اپنی ھی زبان ' ثقافت اور تھذیب کا نقصان نہیں کیا بلکہ مغربی پاکستان کی دیگر چھوٹی قوموں سندھی ' پٹھان اور بلوچ کو بھی انکی زبان ' ثقافت اور تھذیب کو فروغ نہیں پانے دیا جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی قوم بنگالی کو بھی بنگالی کے بجائے اردو زبان کو قومی زبان کے طور پر اختیار کرنے ' قومی لباس شیروانی اور پاجامے والوں کی تہذیب و ثقافت کو اختیار کرنے اور بنگالی قوم کے تشخص سے دستبردار ھوکر پاکستانی تشخص اختیار کرنے کی ضد کرکے الگ ملک کو وجود میں لانے پر مجبور کیا۔

پاکستان میں فساد کے بجائے فلاح ' پاکستانی معاشرے میں بدامنی کے بجائے امن و امان اور پاکستان کے عوام میں بے سکونی کے بجائے سکون کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت میں روز با روز اضافہ ھوتا جارھا ھے-

پاکستان میں فساد کے بجائے فلاح کا ماحول پاکستان میں سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں- پاکستانی معاشرے میں بدامنی کے بجائے امن و امان کا ماحول پاکستانی معاشرے میں معاشی استحکام کے بغیر ممکن نہیں- پاکستان کے عوام میں بے سکونی کے بجائے سکون کا ماحول پاکستان کے عوام میں انتظامی استحکام کے بغیر ممکن نہیں-

پاکستان میں سیاسی استحکام ' پاکستانی معاشرے میں معاشی استحکام ' پاکستان کے عوام میں انتظامی استحکام پاکستان کی تمام قوموں کے سماجی استحکام کے بغیر ممکن نہیں-

پاکستان کی تمام قوموں کا سماجی استحکام ' پاکستان کی تمام قوموں کے افراد کی سیاسی ' معاشی اور انتظامی کارکردگی کے جواھر اجاگر کیے بغیر ممکن نہیں-

پاکستان کی تمام قوموں کے افراد کی سیاسی ' معاشی اور انتظامی کارکردگی کے جواھر اجاگر کرنا پاکستان کی تمام قوموں کے افراد کو اپنی سیاسی ' معاشی اور انتظامی کارکردگی کے جواھر دکھانے کی سہولت دستیاب کیے بغیر ممکن نہیں-

پاکستان کی تمام قوموں کے افراد کو اپنی سیاسی ' معاشی اور انتظامی کارکردگی کے جواھر دکھانے کی سہولت دستیاب کرنا پاکستان کی تمام قوموں کی زبان ' تھذیب اور ثقافت کو ملک اور معاشرے میں باعزت مقام فراھم کیے بغیر ممکن نہیں-

پاکستان کی تمام قوموں کی زبان ' تھذیب اور ثقافت کو ملک اور معاشرے میں باعزت مقام فراھم کرنا پاکستان کی تمام قوموں کی زبان ' تھذیب اور ثقافت کو ملک اور معاشرے میں سماجی استحکام دینے کی ضرورت تسلیم کیے بغیر ممکن نہیں-

پاکستان کی تمام قوموں کی زبان ' تھذیب اور ثقافت کو ملک اور معاشرے میں سماجی استحکام دینے کی ضرورت تسلیم کرنا پاکستان کی تمام قوموں کی زبان ' تھذیب اور ثقافت کو فروغ دینے کی کوشش کیے بغیر ممکن نہیں-

پاکستان کی تمام قوموں کی زبان ' تھذیب اور ثقافت کو فروغ دینے کی کوشش کرنا پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان اور بلوچ کی زبان کو پاکستان کی قومی زبانوں کا درجہ دینے اور پنجابی ' سندھی ' پٹھان اور بلوچ کی تھذیب و ثقافت کو پاکستان کی قومی تھذیب و ثقافت قرار دینے کے لیے آئینی ترمیم کیے بغیر ممکن نہیں-