Wednesday, 22 March 2017

آج کل "فرینڈس" کو "ان فرینڈ" کر رھا ھوں۔

ان فرینڈ ھونے سے بچنے کے لیے فرینڈس یہ پوسٹ ضرور پڑہ لیں۔

دوستوں سے گذارش ھے کہ؛

1۔ میرے لکھے گئے آرٹیکل سے متفق ھونا ضروری نہیں ھے۔

2۔ آرٹیکل کے موضوع اور مواد پر برھم ھونے سے گریز کیا کریں۔

3۔ آرٹیکل کے موضوع اور مواد پر ھر کسی کو اپنا موقف دینے کا حق ھے تاکہ دوسرے فرینڈس بھی آرٹیکل کے علاوہ آرٹیکل کے موضوع اور مواد پر کیے جانے والے کمنٹس پڑہ سکیں۔

4۔ آرٹیکل میں لکھے گئے جس پیراگراف یا جملہ سے اختلاف ھو ' اس پیراگراف یا جملہ کا حوالہ دے کر اس پیراگراف یا جملہ کے متبادل اپنا موقف پیش کیا کریں۔

5۔ آرٹیکل میں لکھے گئے جس پیراگراف یا جملہ کو اھم سمجھتے ھیں اور چاھتے ھیں کہ دوسرے فرینڈس بھی اس پیراگراف یا جملہ پر دھیان دیں تو اس پیراگراف یا جملہ کو کاپی کرکے کمنٹ بکس میں پیسٹ کردیا کریں۔

6۔ آرٹیکل کے موضوع اور مواد پر اپنا موقف دے دیا کریں لیکن اپنے موقف کو درست تسلیم کروانے کے لیے یا آرٹیکل میں لکھے گئے کسی پیراگراف یا جملہ کو غلط ثابت کرنے کے لیے بحث نہ کیا کریں۔

7۔ آرٹیکل کے موضوع اور مواد سے ھٹ کر کمنٹ نہ کیا کریں۔

8۔ آرٹیکل کے موضوع اور مواد پر اپنا موقف پیش کرتے ھوئے بیہودہ الفاظ اور بد تمیزی سے اجتناب کیا کریں۔

9۔ مجھے اپنی فرینڈ لسٹ پر اعلیٰ اخلاق ' اعلیٰ تعلیم یافتہ ' سیاسی شعور اور فہم و فراست والے فرینڈس کی ضرورت ھے۔

10۔ چونکہ فیس بک پر صرف 5000 فرینڈس کی گنجائش ھے۔ جو کہ پوری ھو چکی ھے۔ اس لیے بد اخلاق ' جاھل ' سیاسی شعور سے عاری اور فہم و فراست سے محروم فرینڈس کو "ان فرینڈ" کرنا پڑ رھا ھے تاکہ مزید نئے فرینڈس بنانے کی گنجائش نکالی جائے اور ان میں سے اعلیٰ اخلاق ' اعلیٰ تعلیم یافتہ ' سیاسی شعور اور فہم و فراست والے فرینڈس کی صحبت سے بھی مستفید ھوا جا سکے۔

نوٹ:- پنجابی ' سماٹ ' ھندکو ' بروھی قوموں کا ماضی و حال۔
افغانی پٹھان ' کردستانی بلوچ ' ھندوستانی مھاجر کی دراندازی و قبضہ گیری۔
پاکستان کے سماجی ' معاشی ' سیاسی اور انتظامی امور کو سمجھنے کے لیے
اگر آپ میرے مضامیں پڑھنا چاھتے ھیں تو
میری وال یا فیس بک کا Punjabi Think Tank گروپ چیک کریں۔