Thursday, 15 September 2016

پنجابی قوم پرستی پاکستان کی اھم ضرورت کیوں ھے؟

پاکستان وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین پر قائم ھے۔ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کی درجہ بندی وادئ سندھ کی تہذیب کے پنجابی خطے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے سماٹ خطے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے براھوی خطے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے ھندکو خطے کے طور پر کی جاسکتی ھے۔

وادئ سندھ کی تہذیب کے اصل باشندے پنجابی ' سماٹ ' براھوی ' ھندکو ھیں۔ جو پاکستان کی آبادی کا 80 فیصد ھیں۔ جنہیں پاکستان کی 20 فیصد آبادی کی وجہ سے الجھن ' پریشانی اور بحران کا سامنا ھے۔ یہ 20 فیصد آبادی والے لوگ ھیں؛

1. افغانستان سے آنے والے جو اب پٹھان کہلواتے ھیں۔

2. کردستان سے آنے والے جو اب بلوچ کہلواتے ھیں۔

3. ھندوستان سے آنے والے جو اب مھاجر کہلواتے ھیں۔

پٹھان ' بلوچ اور مھاجر کی عادت بن چکی ھے کہ ایک تو ھندکو ' بروھی اور سماٹ پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ دوسرا پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ تیسرا یہ کہ پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ لیکن اس صورتحال میں پنجابی قوم کا رویہ مفاھمانہ ' معذرت خواھانہ اور لاپرواھی کا ھے۔

پختونستان کی سازش نے خیبر پختونخواہ کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' ھندکو کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ پٹھان نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔ آزاد بلوچستان کی سازش نے بلوچستان کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' بروھیوں کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ بلوچ نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔ جناح پور کی سازش نے کراچی کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' سماٹ کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔

اگرچہ پختونستان ' آزاد بلوچستان ' جناح پور کی سازشوں کے ذریعے پاکستان کے کسی بھی حصے کی جغرافیائی علیحدگی بھارتی ایجنسی "را" کی طرف سے سپانسرڈ پٹھان ' بلوچ اور مھاجر پاکستان دشمنوں کے لیے ناممکن ھے۔ لیکن پختونستان ' آزاد بلوچستان ' جناح پور کی سازشوں کی وجہ سے خیبر خیبر پختونخواہ ' بلوچستان ' کراچی کے سماجی ' معاشی ' انتظامی اور اقتصادی حالات خراب ھیں۔ پٹھان ' بلوچ اور مھاجر نوجوانوں کا مستقبل تباہ ھو رھا ھے۔ ھندکو ' بروھی اور سماٹ سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھ کر رہ گئے ھیں۔ جبکہ پاکستان کے سماجی ماحول ' معاشی معاملات ' انتظامی کارکردگی اور اقتصادی استحکام کو بھی نقصان پہنچ رھا ھے۔

پنجابی قوم اگر پاکستان میں اچھے سماجی ماحول ' بہتر معاشی معاملات ' اعلیٰ انتظامی کارکردگی اور مثالی اقتصادی استحکام کے ساتھ ساتھ پنجاب اور پنجابی قوم کے عزت اور وقار میں دلچسپی رکھتی ھے ' تو پنجابی قوم کو چاھیئے کہ پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے والے اور پاکستان کے دشمن پٹھانوں ' بلوچوں اور مہاجروں کے خلاف جارحانہ اور سخت رویہ اختیار کرے۔ جو پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا لگا کر ' تنقید کر کرکے ' توھین کر کرکے ' گالیاں دے دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرتے ھیں اور پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کے خلاف سازشیں کر کرکے ذاتی فوائد حاصل کرتے ھیں۔ (صرف پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے والے اور پاکستان کے دشمن پٹھانوں ' بلوچوں اور مہاجروں کے خلاف۔ ھر پٹھان، بلوچ اور مھاجر کے خلاف نہیں)۔

پنجابی قوم پرستی ھی ایک ایسا حربہ ھے ' جو پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے اور پاکستان کے دشمن پٹھانوں ' بلوچوں اور مہاجروں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک حل ھے۔ جو ان عناصر کا بخوبی مقابلہ کرسکتا ھے جو پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کرنے اور پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کو نقصان پہنچا کر ذاتی فوائد حاصل کرنے کے لیے ایک حکمت عملی کے تحت پٹھان قوم پرستی ' بلوچ قوم پرستی اور مھاجر قوم پرستی کا استعمال کرکے پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگاتے رھتے ھیں ' تنقید کرتے رھتے ھیں ' توھین کرتے رھتے ھیں ' گالیاں دیتے رھتے ھیں ' تاکہ گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے اور پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کے خلاف سازشیں کی جائیں۔

پاکستان پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں کا ملک ھے۔ پنجاب ' پنجابی قوم کا ھے۔ سندھ ' سماٹ قوم کا ھے۔ (بلوچ کردستانی ھیں اور مھاجر ھندوستانی ھیں)۔ بلوچستان ' بروھی قوم کا ھے۔ (بلوچ کردستانی ھیں)۔ خیبر پختونخواہ ' ھندکو قوم کا ھے (پٹھان افغانستانی ھیں)۔ پنجابی قوم ' سماٹ کو سندھ ' بروھی کو بلوچستان ' ھندکو کو خیبر پختونخواہ کے اصل باشندے سمجھتی ھے۔

ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ اور افغانستانی پٹھان ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دوست نہیں ھیں۔ اسی لیے پنجابی قوم اور پاکستان سے دشمنی کرتے رھتے ھیں۔ جبکہ سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دشمن نہیں ھیں۔

پاکستان کی سب سے بڑی قوم پنجابی ھے۔ لہذا پنجابی قوم کا بنیادی فرض اور اخلاقی ذمہ داری ھے کہ؛

1. خیبر پختونخواہ میں ھندکو قوم کو سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط کرکے افغانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے۔ جو اب خود کو پٹھان کہلواتے ھیں۔

2. بلوچستان میں بروھی قوم کو سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط کرکے کردستانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے۔ جو اب خود کو بلوچ کہلواتے ھیں۔

3. سندھ میں سماٹ قوم کو سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط کرکے دیہی سندھ میں کردستانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے۔ جو اب خود کو بلوچ کہلواتے ھیں اور شہری سندھ میں ھندوستانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے۔ جو اب خود کو مھاجر کہلواتے ھیں۔

4. جنوبی پنجاب میں ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی ' ڈیرہ والی پنجابی کو سماجی ' معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط کرکے کردستانی دراندازوں اور قبضہ گیروں کے سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط سے نجات دلوائے۔ جو اب خود کو بلوچ کہلواتے ھیں۔