Friday, 2 September 2016

نان ایگریڈ ایریا کے لوگوں کو دی گئی جائیدادیں ضبط کرکے نیلام کردی جائیں۔

پاکستان کے قیام کے بعد نان ایگریڈ ایریا کے جن لوگوں کو کلیم پر جائیدادیں دی گئیں۔ اگر وہ حکومت ضبط کرکے نیلام کردے تو پاکستان کی سماجی ' سیاسی ' معاشی اور اقتصادی حالت درست ھونا شروع ھوجائے۔

نان ایگریڈ ایریا کا مطلب وہ علاقے ھیں جو انڈین انڈیپینڈنٹ ایکٹ آف برٹش پارلیمنٹ 1947 میں پاکستان میں شامل نہیں تھے اور 1950 میں ھونے والے لیاقت - نہرو پیکٹ میں بھی نہیں تھے۔

مطلب کہ پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے بعد بھارت اور پاکستان میں شامل کیے جانے والے علاقے ' جہاں سے بنگال اور پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے نقل مکانی ھوئی تھی ' ایگریڈ ایریا کہے جاتے ھیں۔ باقی سارے علاقے نان ایگریڈ ایریا کہے جاتے ھیں۔

اسکو اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ھے کہ وہ علاقے جنکے کلیم کی بھارت اور پاکستان کی حکومتوں نے تصدیق کی تھی وہ ایگریڈ ایریا کہے جاتے ھیں۔

وہ علاقے جنکے کلیم کی بھارت اور پاکستان کی حکومتوں نے تصدیق نہیں کی تھی وہ نان ایگریڈ ایریا کہے جاتے ھیں۔

ایگریڈ ایریا ھونے کی وجہ سے ھی بھارت اور پاکستان کی حکومتوں نے کلیموں کی تصدیق کی تھی۔

نان ایگریڈ ایریا ھونے کی وجہ سے ھی بھارت اور پاکستان کی حکومتوں نے کلیموں کی تصدیق نہیں کی تھی بلکہ کلیم کے دعویدار کو کلیم کی درخواست پر حلفیہ بیان دینے سے کہ بھارت میں یہ یہ جائیداد تھی اور دو افراد کے حلفیہ بیان کی تصدیق کرنے کے بعد کلیم کو درست تسلیم کرکے بیان کی گئی جائیداد کے عوض پاکستان میں جائیداد دے دی گئی تھی۔

یو پی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی 1950 میں لیاقت - نہرو پیکٹ ھونے کے بعد پاکستان آنا شروع ھوئے تھے اور دھڑا دھڑ کلیم کا دعویٰ کرکے کلیم کی درخواست پر حلفیہ بیان دیکر کہ میری بھارت میں یہ یہ جائیداد تھی اور دو افراد سے حلفیہ بیان کی تصدیق کروا کر اور انکے دعووں کی تصدیق کرکے بیان کی گئی جائیداد کے عوض پاکستان میں جائیداد لیتے رھے۔

جنہوں نے جھوٹے حلف اٹھاکر پاکستان میں جائیدادیں لی ھوں ' آپ انکی اولادوں کے خون میں حلال کی تاثیر محسوس کریں گے یا حرام کی؟ کیا وہ حق حلال کا کام کریں گے یا اپنے اباؤ اجداد کی پیروی کریں گے؟

پاکستان کے بننے کے بعد پاکستان کی حکومت ' بیوروکریسی ' سیاست ' صحافت پر قابض ھوجانے والے یوپی ' سی پی میں واقع علیگڑہ مسلم یونیورسٹیدار العلوم ندوۃ العلماء ' دارالعلوم دیو بند اور بریلوی مدرسوں سے فارغ التحصیل مسلمانوں نے مھاجر کی اصطلاح ایجاد کی اور مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کی طرف نقل مکانی کرنے والے مسلمان پنجابیوں کو مھاجر قرار دے کر اور خود بھی مھاجر بن کر یوپی ' سی پی کے مسلمانوں کو مھاجر کی بنیاد پر پاکستان لانے کی راہ ھموار کرنا شروع کردی اور 1950 میں ھونے والے لیاقت - نہرو پیکٹ کی آڑ لیکر یوپی ' سی پی کے مسلمانوں کو مھاجر کی بنیاد پر پاکستان لاکر پاکستان کی حکومت ' پاکستان کی سیاست ' پاکستان کی صحافت ' سرکاری نوکریوں میں بھرتی کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب اور سندھ کے بڑے بڑے شہروں میں آباد کرکے زمینوں اور جائیدادوں پر بھی قبضے کر نے شروع کردیے۔

یوپی ' سی پی کے مسلمانوں کو پاکستان لانا اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی سازش اور لسانی ترجیح تھی کہ جب ملک معاشی طور پر سنبھل رھا تھا تو پاکستان کو بنانے کے لیے کی جانے والی پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے پاکستانی پنجاب سے نقل مکانی کرنے والے ھندو و سکھ پنجابیوں اور ھندوستانی پنجاب سے نقل مکانی کرنے والے مسلمان پنجابیوں کی آبادکاری کے لیے کیے جانے والے لیاقت - نہرو پیکٹ کی آڑ لیکر ھندوستان سے پلے پلائے مھاجروں کو لا کر کراچی اور حیدرآباد کے ساتھ ساتھ پنجاب اور سندھ کے بڑے بڑے شہروں میں آباد کرنا شروع کردیا۔

پاکستان بنانے کے لیے جب پنجاب کو تقسیم کیا گیا تو پنجاب کے مغرب کی طرف سے ھندو پنجابی اور سکھ پنجابی اپنے تمام کے تمام خاندانوں سمیت پنجاب کے مشرق کی طرف منتقل ھوئے اور پنجاب کے مشرق کی طرف سے مسلمان پنجابی اپنے تمام کے تمام خاندانوں سمیت پنجاب کے مغرب کی طرف منتقل ھوئے لیکن پاکستان آنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے خاندان تو کیا بلکہ گھر کے ھی چند افراد پاکستان آگئے اور باقی ھندوستان میں ھی رھے۔ اسی لیے پاکستان پر قابض اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ابھی تک ھندوستان میں اپنے خاندان کے افراد سے رابطے رھتے ھیں جسکی وجہ سے پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے اور بھارت کی آلہ کاری کرنے میں انہیں آسانی رھتی ھے۔

مھاجروں کی لسانی مافیہ ایم کیو ایم سے الگ ھو کر پاک سرزمین پارٹی بنانے والے رھنماؤں نے انکشاف کیا ہے کہ ایم کیو ایم کو بھارت سے پیسہ مہیا کیا جاتا ہے۔ کیا اس میں اب بھی شک ھے کہ دراصل 1950 میں لیاقت - نہرو پیکٹ کے ھوتے ھی انڈیا نے دورمار پلاننگ کی تھی اور ان اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو ایک سازش کے تحت پاکستان بھیجا گیا تھا؟ پاکستان کی پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ عوام نے آنکھیں بند کئے رکھیں اور ملک کی ریڑھ کی ھڈی کراچی پر انڈین ایجنٹوں کا قبضہ ہوگیا؟

نتیجہ یہ نکلا کہ اب یہ یوپی ' سی پی کا اردو بولنے والا ھندوستانی لسانی طبقہ پاکستان کے معاشی حب کراچی پر مکمل طور پر قابض اور لسانی عصبیت کا شکار ھے اور گذشتہ 30 سال سے ایم کیو ایم کے نام سے مھاجر لسانی دھشتگرد سیاسی پارٹی بنا کر کراچی کو ملک سے الگ کرنے کی سازشیں کر رھا ھے اور حیدرآباد کے ساتھ ساتھ پنجاب اور سندھ کے بڑے بڑے شہروں میں آباد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی بھی انکی سازشوں کی پشت پناھی اور تعاون کرتے ھیں تاکہ کراچی کو یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا آزاد ملک "جناح پور" بنایا جائے۔

کراچی منی پاکستان ھے۔ پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' ھندکو ' بلوچ ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' یوپی سی پی ' بہاری ' گجراتی ' راجستھانی برادریاں کراچی کی بڑی بڑی برادریاں ھیں۔

کراچی کا عام پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' ھندکو ' بلوچ ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی ' یوپی سی پی ' بہاری ' گجراتی ' راجستھانی محبِ وطن اور محنت کش ھے۔ اپنے گھربار اور کاروبار میں مصروف رھتا ھے۔

کراچی میں مسئلہ کراچی کا عام شہری نہیں بلکہ یوپی سی پی کی اشرافیہ ھے۔

انگریزوں نے جب 1937 میں عوامی انتخاب کے ذریعے برٹش انڈیا کے صوبوں میں جمھوری حکومتوں کے قیام کا عمل شروع کیا تو صرف پنجاب ' بنگال اور سندھ میں مسلمان وزیرِ اعظم منتخب ھوئے۔ یوپی ' سی پی میں یوپی سی پی کی مسلمان اشرافیہ کی جگہ ھندوؤں کے وزیرِ اعظم منتخب ھونے کے بعد یوپی سی پی کی مسلمان اشرافیہ کو اپنی نوابی خطرے میں پڑتی دکھائی دینے لگی۔ اس لیے یوپی سی پی کی مسلمان اشرافیہ کو معلوم ھوا کہ یہ مسلمان ھیں اور ایک علیحدہ قوم ھیں۔ ورنہ انکے آباؤ اجداد کو 350 سال تک ھندوؤں پر حکمرانی کرنے کے باوجود بھی علیحدہ قوم ھونے کا احساس نہیں ھوا تھا اور نہ ھی 1300 سال تک کے عرصے کر دوران کبھی کسی مسلمان عالم نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم قرار دیا تھا۔

پاکستان کے قیام کے بعد یوپی سی پی کی مسلمان اشرافیہ نے پاکستان آکر پنجاب اور سندھ کے بڑے بڑے شہروں پر قبضہ کرلیا اور خود کو بانیانِ پاکستان قرار دینا شروع کردیا۔ حالانکہ پاکستان کو پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ اور بنگالی کی زمین پر بنایا گیا تھا اور 1940 سے لاھور میں قراداد پیش کرنے سے لیکر پاکستان کے قیام تک پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ اور بنگالی نے پاکستان کو بنانے کی عملی جدوجہد کی تھی۔

کراچی کے پاکستان کا دارالخلافہ بن جانے اور کراچی کے پورٹ سٹی ھونے کی وجہ سے یوپی سی پی کی مسلمان اشرافیہ کا خاص مرکز کراچی بن گیا۔

سندھ میں 1983 میں شروع کی جانے والی ایم آر ڈی کی تحرک کی آڑ میں سندھ کی آزادی کی تحریک کے 1985 کے انتخابات کے بعد پاکستان میں سندھی محمد خان جونیجو اور سندھ میں سندھی غوث علی شاہ کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ جونیجو کی حکومت بن جانے اور جی- ایم سید کے سندھودیش کی تحریک سے دستبردار ھوجانے کے باعث سندھ کی آزادی کی تحریک کے ناکام ھوجانے کی وجہ سے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" نے 1986 میں یوپی سی پی کی مسلمان اشرافیہ کے ساتھ ساز باز کرکے ایم کیو ایم کو کراچی پر مسلط کرکے مھاجروں کے ذریعے جلسے ' جلوس ' مظاھرے ' جلاؤ ' گھیراؤ ' ھنگامے ' ھڑتالیں ' بھتہ خوری ' اغوا ' ٹارگٹ کلنگ کروا کر پاکستان کی معیشت برباد کروانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

اس لیے اب ابہام کا خاتمہ ضروری ھے کہ؛
ایم کیو ایم کراچی کی نمائندہ جماعت ھے یا کراچی کے مھاجروں کی نمائندہ جماعت ھے؟

کراچی والے اور کراچی کے مھاجر میں زمین آسمان کا فرق ھے۔
کراچی والے صرف مھاجر نہیں بلکہ کراچی کے پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' ھندکو ' بلوچ ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی بھی ھیں۔ جبکہ کراچی کے مھاجر صرف کراچی کے ' یوپی سی پی ' بہاری ' گجراتی ' راجستھانی ھیں۔

یو پی ' سی پی کے اردو بولنے والے ہندوستانی مھاجروں کو بتانا چاھیئے کہ؛
ان کا پاکستان سے کیا واسطہ؟
یہ کس قانون کے تحت پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کی زمین پر آکر آباد ھوئے؟

یوپی سی پی کی اشرافیہ کو مہاجروں کی احساسِ محرومی کا رونا بند کرکے اب کراچی کے پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' ھندکو ' بلوچ ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی کی کراچی میں احساسِ محرومی ختم کرنا ھوگی۔ کراچی کے پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' ھندکو ' بلوچ ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی کو کراچی میں عزت اور سکون کے ساتھ زندگی گذارنے کا حق دینا ھوگا۔

ایم کیو ایم کو وجود میں لاکراور مھاجر کی بنیاد پر لسانی جذبات کو فروغ دیکر جس طرح 1986 سے یوپی سی پی کی اشرافیہ نے کراچی پر اپنا قبضہ کیا ھوا ھے اور کراچی کے پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' ھندکو ' بلوچ ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی کو یرغمال بنایا ھوا ھے ویسے ھی اگر کراچی کے پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' ھندکو ' بلوچ ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی نے متحد ھوکر غیر مھاجر کی بنیاد پر لسانی جذبات کو فروغ دیکر سیاست کا کرنا شروع کردی تو پھر کراچی کا سیاسی اور سماجی ماحول کیا بنے گا؟


کراچی میں مھاجر کی اکثریت کراچی کے صرف 2 اضلاع کراچی سینٹرل اور کورنگی میں ھے جبکہ کراچی کے 4 اضلاع کراچی ساؤتھ ' کراچی ویسٹ ' کراچی ایسٹ اور ملیر میں اکثریت پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' ھندکو ' بلوچ ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی کی ھے۔ یوپی سی پی کی اشرافیہ اگر کراچی پر قبضے اور کراچی کے پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' ھندکو ' بلوچ ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی کو یرغمال بنائے رکھنے کے لیے مھاجر کی بنیاد پر لسانی جذبات کو فروغ دیکر سیاست اور دھشتگردی کر رھی ھے تو کیا کراچی کے پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' ھندکو ' بلوچ ' بروھی ' کشمیری ' گلگتی بلتستانی ' چترالی کو بھی حق حاصل ھے کہ وہ یوپی سی پی کی اشرافیہ کے یرغمال سے خود کو نکالنے اور کراچی میں اپنے سماجی ' سیاسی ' معاشی حقوق کے حصول اور تحفظ کے لیے خود کو غیر مھاجر کی بنیاد متحد کرکے اور لسانی جذبات کو فروغ دیکر سیاست کرنا شروع کردے؟