Tuesday, 27 September 2016

امریکہ ' چین ' روس اور پنجابی کے کھیل کا انجام کیا ھوگا؟

2030 تک چین کی اکانومی اور آرمی کی طاقت امریکہ سے آگے نکل جانی ھے۔ اس لیے امریکہ کے پاس 2025 تک کا وقت ھے کہ یا تو سی۔پیک منصوبے کے ذریعے چین کو بحر ھند میں ڈیرے ڈالنے سے روکے یا پھر اپنا بوریا بستر لپیٹ لے۔ بلکہ جو کچھ کرنا ھے وہ 2020 تک کرلے تو زیادہ بہتر ھے۔ کیونکہ 2025 تک امریکہ اور چین کی اکانومی اور آرمی کی طاقت میں فرق بہت کم ھونا ھے ' اس لیے امریکہ کا نقصان زیادہ ھوگا۔

اس لیے اب امریکہ کے پاس دو ھی آپشن ھیں؛

ایک یہ کہ؛ سی۔پیک منصوبے کو روکنے کے لیے پاکستان سے جنگ کرے۔ لیکن سی۔پیک منصوبہ تو چین کا ھے۔ جبکہ روس کو بھی اس میں دلچسپی ھے۔ اس لیے چین اور روس کی وجہ سے جنگ نے تیسری عالمی جنگ بن جانا ھے۔

دوسرا یہ کہ؛ سی۔پیک منصوبے کی تکمیل میں چین کو بنیادی تعاون چونکہ پنجابی کا حاصل ھے ' اس لیے پنجابی کو چین کی مدد کرنے سے روکنے کے لیے غیرجانبدار ھونے کا طریقہ اختیار کروائے۔

فرض کریں؛

1۔ اگر امریکہ نے پنجابی کو راضی کرلیا کہ کشمیر اور خالصان کو لے کر گوادر کے کھیل سے الگ ھوجاؤ اور کراچی پورٹ کو استعمال کرو۔ سندھی اور مھاجر کو سمبھالو۔ گوادر کے مسئلے ' چین ' بلوچ اور پٹھان کو ھم خود دیکھ لیں گے۔ آپکا کیا خیال ھے کہ پنجابی کیا کرے گا؟ چین کیا کرے گا؟

2۔ سی-پیک کے منصوبے میں چین کے علاوہ روس کو بھی دلچسپی ھے۔ کیونکہ گوادر سے ایک راستے نے چین جانا ھے تو دوسرے راستے نے سینٹرل ایشیا سے ھوتے ھوئے روس جانا ھے۔ روس کیا کرے گا؟

3۔ اگر امریکہ کے بجائے روس اور چین نے گرم پانی تک پہنچنے کے لیے امریکہ کی پنجابی کو غیرجانبدار کرنے کی کوشش کو ناکام اور پنجابی قوم کا تعاون برقرار رکھنے کے لیے ' کشمیر کے ساتھ ساتھ ھندوستانی پنجاب کو بھی ھندوستان سے آزادی دلوا کر پاکستانی پنجاب کے ساتھ ملا کر پنجاب کا پانی کا مسئلہ حل کروا دیا۔ دھلی سے لیکر پشاور اور کشمیر سے لیکر کشمور تک کے اصل پنجاب کو ایک کر دیا تو پھر کیا ھوگا؟

بھارتی "را" اور دیگر پاکستان دشمن ممالک کے 1947 سے پختونستان کے مشن کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے پٹھان نہ ابتک پختونستان بنوا پائے اور نہ اب فاٹا اور کے پی کے ' کے پختون علاقوں میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔ 1948 سے آزاد بلوچستان کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے بلوچ بھی نہ ابتک آزاد بلوچستان بنوا پائے اور نہ اب بلوچستان کے بلوچ علاقوں میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔ 1972 سے سندھودیش کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے بلوچ نزاد سندھی اور عرب نزاد سندھی بھی نہ ابتک سندھودیش بنوا پائے اور نہ اب دیہی سندھ کے علاقوں میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔ 1986 سے جناح پور کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے مھاجر بھی نہ ابتک جناح پور بنوا پائے اور نہ اب کراچی میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔

بھارتی "را" اور دیگر پاکستان دشمن ممالک کے پاکستان میں پراکسی کرکے ' پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو پنجابی اسٹیبلشمنٹ قرار دلوا کر ' پنجاب کو غاصب قرار دلوا کر ' پاکستان کو پنجابستان قرار دلوا کر ' پاکستان ' پنجاب اور پنجابی قوم کے خلاف نفرت کا ماحول قائم کرواکر ' پاکستان کے اندر ' افغانی بیک گراؤنڈ پشتونوں کو پشتونستان ' کردستانی بیک گراؤنڈ بلوچوں کو آزاد بلوچستان ' عربی نزاد اور بلوچ نزاد سندھیوں کو سندھودیش اور سرائکستان ' یوپی ' سی پی کے ھندوستانی بیک گراؤنڈ اردو بولنے والے مھاجروں کو جناح پور ' بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش سے نہ پاکستان کا کوئی علاقہ الگ ھو پانا ھے ' نہ پنجاب نے تقسیم ھو سکنا ھے اور نہ پنجابی قوم نے کمزور ھونا ھے۔

6۔ روس اور چین کے دھلی سے لیکر پشاور اور کشمیر سے لیکر کشمور تک کے اصل پنجاب کو ایک کردینے کی صورت میں نہ صرف پنجاب نے بہت زیادہ مظبوط ھوجانا ھے بلکہ پنجابی قوم نے بھی بہت زیادہ طاقتور ھوجانا ھے جبکہ ھندوستان اور امریکہ کی پاکستان کو تقسیم کروانے کی کوششیں بھی ناکام ھوجانی ھیں اور بلوچ ' پٹھان ' مہاجر کو پنجابی قوم کے خلاف محاذآرائی پر اکسا کر پنجاب کو سیاسی ' سماجی' معاشی اور انتظامی مساِئل میں مبتلا کرنے کی سازشیں بھی۔ بلکہ ھندوستان کو آشیرباد دے دے کر پاکستان کو آنکھیں دکھانے کے کام پر لگانے کا خمیازہ بھی الٹا ھندوستان کو ھی بھگتنا پڑے گا۔ جبکہ بلوچستان کے بلوچ اور خیبر پختونخواہ کے پشتون علاقے بھی پنجاب ھی کے ساتھ رھیں گے ' جس سے پاکستان چھوٹا اور کمزور ھونے کے بجائے مزید وسیع اور مظبوط ھوجائے گا- اس صورتحال میں امریکہ کسی حال میں بھی روس اور چین کو گرم پانی تک پہنچنے سے نہیں روک پائے گا۔