Monday, 12 September 2016

پنجاب کے کس علاقے میں پنجابی زبان کا کونسا لہجہ بولا جاتا ھے؟

پنجاب کا علاقہ بہت وسیع و عریض ھے اور پنجاب کی زمین پر پنجابی زبان کے بہت سارے لہجے بولے جاتے ھیں ;

1۔ جھنگ ' فیصل آباد ' ساھیوال ' خانیوال ' وھاڑی ' بھاولنگر ' چشتیاں میں جھنگچوی پنجابی بولی جاتی ھے۔

2۔ ملتان میں ملتانی پنجابی بولی جاتی ھے۔

3۔ لودھراں ' بھاولپور ' رحیم یار خان میں ریاستی پنجابی بولی جاتی ھے۔

4۔ بھکر ' لیہ ' مظفر گڑھ میں تھلوچی پنجابی بولی جاتی ھے۔

5۔ ڈیرا غازی خان ' راجن پور میں ڈیرہ والی پنجابی بولی جاتی ھے۔

6۔ خوشاب ' میانوالی ' اٹک ' چکوال ' ڈیرا غازی خان اور ڈیرا اسماعیل خان کے کچھ حصوں میں شاھپوری پنجابی بولی جاتی ھے۔

7۔ چکوال میں دھنی پنجابی بولی جاتی ھے۔

8۔ پشاور ' اٹک ' نوشہرہ ' مانسہرہ ' بالاکوٹ ' ایبٹ آباد ' مری ' مظفرآباد میں ہندکو پنجابی بولی جاتی ھے۔

9۔ جہلم ' گجر خان ' راولپنڈی ' مری ھلز ' مظفرآباد میں پوٹھوھاری پنجابی بولی جاتی ھے۔

10۔ لاہور ' شیخوپورہ ' گوجرانوالہ ' منڈی بہاؤالدین ' وزیرآباد ' سیالکوٹ ' نارووال ' گجرات ' قصور ' اوکاڑا ' پاکپتن ' امرتسر ' ترن تارن صاحب ' گرداسپور میں ماجھی پنجابی بولی جاتی ھے۔

11۔ جالندھر ' ھوشیارپور ' شہید بھگت سنگھ نگر (نون شہر) ' کپورتھلا میں دوآبی پنجابی بولی جاتی ھے۔

12۔ لدھیانہ ' موگا ' سنگرور ' برنالہ ' فریدکوٹ ' پٹیالہ ' فتح گڑھ صاحب ' مانسہ ' سری مکتسر صاحب ' انبالا ' بھٹنڈہ ' گنگا نگر ' ملیر کوٹلہ ' روپر ' فیروزپور ، حصار ، سرسہ ' کروکشیترہ میں مالوی پنجابی بولی جاتی ھے۔

13۔ کھرار ' کورالی ' روپر ' نورپور بیدی ' مورنڈہ ' پیل ' راجپورہ ' سمرالا میں پوادی پنجابی بولی جاتی ھے .

14۔ جموں میں ڈوگری پنجابی بولی جاتی ھے۔

ماجھی لہجہ پنجابی زبان کا معیاری لہجہ ھے جوکہ مشرقی پنجاب اور مغربی پنجاب کے دونوں حصوں میں پنجابی لکھنے کے لیے بنیادی زبان ھے۔ جبکہ پنجابی زبان کا جھنگچوی  یا رچنوی لہجہ  پنجابی کا سب سے پرانا لہجہ ھے اور اسے اصل پنجابی لہجہ اور ٹھیٹھ پنجابی لہجہ بھی کہا جاتا ھے۔ جھنگچوی  لہجہ پنجابی زبان کا ایک قدیم اور انفرادی مزاج رکھنے والا لہجہ ھے۔  پنجابی کے جھنگچوی  لہجہ کے علاقے ساندل بار ' کرانا بار '  نیلی بار ' گنجی بار "پنجاب کے بار کے علاقے" ھیں۔ پنجابی میں جنگل کو بار کہتے ھیں۔  یہ علاقے پنجابی ثقافتی ورثے اور پنجابی ادبی ورثہ کے علاقے ھیں۔ ھیر رانجھا اور مرزا صاحبہ کے مشہور رزمیہ رومانوی کہانیوں کی تخلیق اسی علاقے سے وابسطہ ھے۔

ساندل بار کا علاقہ مغربی پنجاب میں رچنا دوآبہ میں ھے۔ یہ ضلع جھنگ ' فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے کے ساتھ مل کر بنتا ھے۔ دلا بھٹی کے دادا ساندل کے نام پر اس بار کو ساندل بار کہتے ھیں۔

کرانا بار کا علاقہ مغربی پنجاب میں چج دواب میں ھے۔ یہ ضلع سرگودھا اور ضلع جھنگ کے اوپر کے علاقے کے ساتھ مل کر بنتا ھے۔

نیلی بار کا علاقہ مغربی پنجاب میں دریائے راوی اور دریائے ستلج کے درمیان ضلع ساھیوال ' ضلع اوکاڑہ اور ضلع پاکپتن کے علاقے کے ساتھ مل کر بنتا ھے۔ احمد خان کھرل کا علاقہ نیلی بار تھا۔ نیلی بار کی گائیں اور بھینسیں مشھور ھیں۔

گنجی بار کا علاقہ مغربی پنجاب میں دریائے ستلج اور دریائے بیاس کے ملنے کے بعد اسکے نیچے کے علاقے کو کہا جاتا ھے۔ یہ ضلع بہاولنگر اور چشتیاں کے علاقے کے ساتھ مل کر بنتا ھے۔

پنجابی زبان مختلف مقامات پر لہجے کے معمولی فرق سے بولی جاتی ھے۔ ایک پنجابی بولنے والا ان تمام کو لہجوں کو آسانی سے سمجھ سکتا ھے۔ جامعہ پنجاب پٹیالہ نےپنجابی زبان کے لہجوں کی ایک فہرست شائع کی ھے۔ جس کے مطابق پنجابی کے درج ذیل لہجےھیں۔

01۔ آوانکاری 02۔ بار دی بولی 03۔ بانوالی 04۔ بھٹیانی 05۔ بھیروچی 06۔ چھاچھی 07۔ چکوالی 08۔ چمبیالی 09۔ چناوری 10۔ دھنی 11۔ دوآبی 12۔ ڈوگری 13۔ گھیبی 14۔ گوجری 15۔ ھندکو 16۔ جٹکی 17۔ جھنگوچی 18۔ ملتانی 19۔ کانگڑی 20۔ کاچی 21۔ لبانکی 22۔ مالوی 23۔ پہاڑی 24۔ پوٹھوھاری/پنڈی والی 25۔ پواڑھی 26۔ پونچھی 27۔ پشوری/پشاوری 28۔ راٹھی 29۔ سوائیں 30۔ شاہ پوری 31۔ تھلوچی 32۔ وزیرآبادی۔