Wednesday, 7 September 2016

سماٹ سندھیوں کا مسئلہ کیا ھے اور حل کیا ھے؟

سندھ کا علاقہ شہری سندھ اور دیہی سندھ پر مشتمل ھے۔ سندھ کے شہری علاقے کا مسئلہ یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ھیں ‘ نہ کہ گجراتی اور راجستھانی جبکہ سندھ کے دیہی علاقے کا مسئلہ بلوچ اور سید ھیں ‘ نہ کہ سماٹ سندھی اور پنجابی آبادگار۔

سندھ کے شہری علاقے کے یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی سندھ کی معیشت کو بڑھانے والے پیشوں کو اختیار نہیں کرتے لیکن سیاست سے وابسطہ شعبوں پر انکا کنٹرول ھے جبکہ گجراتی اور راجستھانی سندھ کی معیشت کو بڑھانے والے پیشوں کو اختیار کیے ھوئے ھیں لیکن سیاسی طور پر یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے زیر اثر ھیں۔

سندھ کے دیہی علاقے کے بلوچ اور سید سندھ کی معیشت کو بڑھانے والے پیشوں کو اختیار نہیں کرتے لیکن سیاست سے وابسطہ شعبوں پر انکا کنٹرول ھے جبکہ سماٹ سندھی اور پنجابی آبادگار سندھ کی معیشت کو بڑھانے والے پیشوں کو اختیار کیے ھوئے ھیں لیکن سیاسی طور پر بلوچ اور سید کے زیر اثر ھیں۔

جب تک سندھ کے شہری علاقے کے گجراتی اور راجستھانی سیاسی طور پر یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے زیر اثر ھیں ‘ اس وقت تک شہری سندھ کے حالات مزید خراب سے خراب ھوتے جانے ھیں۔

جب تک سندھ کے دیہی علاقے کے سماٹ سندھی اور پنجابی آبادگار سیاسی طور پر بلوچ اور سید کے زیر اثر ھیں ‘ اس وقت تک دیہی سندھ کے حالات مزید خراب سے خراب ھوتے جانے ھیں۔

ماضی میں سندھ کے شہری علاقوں کے یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے گجراتیوں اور راجستھانیوں کو اپنے ساتھ ملا کر سندھ کے شہری علاقوں میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی لیکن اب گجراتی اور راجستھانی بھی ان یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے ظلم اور زیادتیوں کا نشانہ بنتے جا رھے ھیں۔

ماضی میں سندھ کے دیہی علاقوں کے بلوچ اور سید نے سماٹ سندھی کو اپنے ساتھ ملا کر سندھ کے دیہی علاقوں میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی لیکن اب سماٹ سندھی بھی ان بلوچوں اور سیدوں کے ظلم اور زیادتیوں کا نشانہ بنتے جا رھے ھیں۔

سندھ کی زرعی زمینیں زیادہ تر سید اور بلوچ سنبھال کر بیٹھے ھیں ‘ جن کے بڑوں نے بھی کبھی ایگریکلچر نہیں کی تھی۔

سید اور بلوچ نے گو کہ سندھ پر پاکستان کے بننے سے پہلے سے ھی قبضہ کیا ھوا تھا بلکہ برٹش کے سندھ پر قبضہ کرنے سے پہلے تو سندھ پر حکومت ھی بلوچ اور سید کی رھی۔ لیکن ایگریکلچرل ڈولیپڈ لینڈز سید اور بلوچ کو پاکستان کے بنتے وقت سندھ سے جانے والے سکھ اور ھندو کی مل گئیں۔ جن پر کام کرنے کے لیے زیادہ تر انکے ھاری مسلمان پنجابی اور سماٹ سندھی ھی ھوتے تھے۔ یہاں تک کہ سندھی قوم پرستی کے بانی لیڈر جی ۔ ایم سید کے پاس بھی پنجابی اور سماٹ ھاری تھے۔

1970 میں سید اور بلوچ نے پنجابی آبادگاروں کو ڈرا ‘ دھمکا کر پنجاب واپس بھیج دیا۔ پنجابی آبادگاروں کے پنجاب واپس آنے کی وجہ سے سید اور بلوچ کو پنجابیوں کی مزید ایگریکلچرل ڈولیپڈ لینڈز مل گئی۔

سید اور بلوچ نے پنجابی آبادگاروں سے ایگریکلچرل ڈولیپڈ لینڈز حاصل کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا ‘ اس طریقے سے زمین تو مل گئی لیکن ایگریکلچر کا ھنر تو نہیں مل سکتا تھا۔

سندھ میں بیراج سسٹم کے بننے سے پہلے سماٹ سندھی ھی ایگریکلچر اور سندھ کی معیشت کو بڑھانے والے پیشوں کو اختیار کیے ھوئے تھے۔ جبکہ سید اور بلوچ تو سماٹ پر حکومت کیا کرتے تھے۔

بحرحال اس وقت صورتحال یہ ھے کہ سماٹ سندھی کے پاس ایک تو ویسے ھی تھوڑی تھوڑی زمین ھے۔ دوسرا سماٹ سندھی ‘ سندھ کے مشرق کی طرف زیادہ ھے ‘ جہاں پانی کی کمی ھے۔ تیسرا سماٹ سندھی کے پاس جدید ذرعی ھنرمندی ںہیں ھے۔

پنجابی تو سندھ سے اچھے وقت میں پنجاب واپس آ گئے۔ باقی جو سندھ میں پنجابی بچا ھے ‘ وہ غریب غرباء یا چھوٹا موٹا زمیندار اور کاروباری ھے۔ انڈسٹری ‘ ٹریڈ بزنس ‘ ٹیکنالوجی اور ھنرمندی کے پیشوں والے علاقے ‘ شہری علاقے ھوتے ھیں ‘ جو ویسے ھی سندھ میں مھاجروں کے کنٹرول میں ھیں۔ جبکہ دیہی سندھ میں روزگار کا ذریعہ صرف ایگریکلچر ھے ‘ جس پر سید اور بلوچ کا قبضہ ھے۔

سندھ میں رھنے والے %42 سماٹ ھیں ‘ جو کہ سندھ کے اصل باشندے ھیں ۔ %16 کردستانی نزاد ھیں ‘ جو خود کو بلوچ کہلواتے ھیں۔ %2 عربی نزاد ھیں ‘ جو خود کو عباسی ‘ انصاری ‘ گیلانی ‘ جیلانی ‘ قریشی ‘ صدیقی وغیرہ کہلواتے ھیں۔

%42 سماٹ ‘ %16 بلوچ اور %2 عربی کو ‘ جو کہ سندھ کی آبادی کا %60 بنتے ھیں ‘ سندھی کہا جاتا ھے۔ جبکہ %19 مھاجر ‘ %10 پنجابی ‘ %7 پٹھان ‘ %4 دیگر کی آبادی سندھ کی آبادی کا %40 بنتے ھیں۔ انہیںں سندھی نہیں کہا جاتا۔

تاریخی طور پر سندھ کی %42 سماٹ آبادی صدیوں سے عربی نزاد عباسی ‘ انصاری ‘ گیلانی ‘ جیلانی ‘ قریشی ‘ صدیقی وغیرہ اور کردستانی نزاد بلوچ کی بالادستی کی وجہ سے نفسیاتی طور پر کمتری کے احساس میں مبتلا ھے۔

صدیوں سے عربی نزاد اور بلوچ نزاد کی بالادستی کی وجہ سے سماٹ سندھی میں مارشل ریس ھونے کی صلاحیت تو ختم ھو ھی چکی تھی لیکن اب اپنی ھی زمین پر حکمرانی کرنے کی خواھش اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کی ھمت تک نہیں رھی۔

سندھ پر پاکستان کے بننے سے پہلے 1843 سے لیکر 1947 تک انگریزوں کی حکمرانی تھی۔ انگریزوں کی حکمرانی سے پہلے 1783 سے لیکر 1843 تک کردستانی نزاد تالپور بلوچ کی حکمرانی تھی۔ تالپور بلوچ کی حکمرانی سے پہلے1701 سے لیکر 1783 تک عربی نزاد عباسی کلھوڑا کی حکمرانی تھی۔

تالپور بلوچ میں مارشل ریس ھونے کی صلاحیت تو نہیں ھے لیکن قبائلی معاشرت اور مزاج کی وجہ سے قبضہ گیری اور جبری حکمرانی کی عادت ھے۔

تالپور بلوچ کے پاس آرمی نہیں بلکہ قبائلی قبضہ گیر گروہ تھا ‘ جس نے مغل بادشاھوں کے دیرینہ وفادار ھونے کی وجہ سے مغل بادشاہ کی آشیرباد سے 1783 میں عباسی کلھوڑا کی حکومت ختم کرکے سندھ پر حکمرانی کرنا شروع کردی۔

تالپور بلوچ سے پہلے 1701 سے لیکر 1783 تک مغل حکمرانوں کی آشیرباد سے سندھ پر عباسی کلھوڑا کی حکمرانی تھی۔ عباسی کلھوڑا میں مارشل ریس ھونے کی صلاحیت تو نہیں ھے لیکن عربی معاشرت اور درباری مزاج کی وجہ سے قبضہ گیری اور جبری حکمرانی کی عادت ھے۔

1591 سے لیکر 1701 تک سندھ پر حکمرانی کرنے کے باوجود 1701 میں ایران کے نادر شاہ کے عروج اور دھلی پر حملوں کی وجہ سے سندھ پر مغلوں کو براہ راست اقتدار کو برقرار رکھنا مشکل ھوگیا تھا۔ اس لیے دھلی دربار سے تعلقات کی وجہ سے عباسی کلھوڑا کو سندھ پر حکمرانی کرنے کا موقع مل گیا۔ عباسی کلھوڑا میں مارشل ریس ھونے کی صلاحیت نہیں تھی ‘ جسکی وجہ سے عباسی کلھوڑا کی اپنی آرمی نہیں تھی۔ اس لیے سماٹ سندھیوں پر حکمرانی کرنے کے لیے عباسی کلھوڑا کو پنجاب سے کردستانی نزاد تالپور بلوچ لانے پڑے تاکہ عباسی کلھوڑا اشرافیہ بلوچ قبائل کی مدد سے سندھ پر حکمرانی کر سکے۔ لیکن سندھ آنے کے بعد سندھ پر عباسی کلھوڑا اشرافیہ کے ساتھ مل کر سندھ پر حکمرانی کرتے رھنے کے بجائے تالپور بلوچ نے 
مغل حکمرانوں کی آشیرباد سے 1783 میں ھالانی کے مقام پر عباسی کلھوڑا کے ساتھ جنگ کرنے کے بعد عباسی کلھوڑا کی حکومت ختم کرکے سندھ پر خود حکمرانی کرنا شروع کردی۔

پاکستان کے بننے کے بعد پاکستان کا پرائم منسٹر یوپی کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی لیاقت علی خان کے بن جانے سے اور کراچی کے پاکستان کا دارالخلافہ بن جانے کے بعد ستمبر 1948 میں پاکستان کی گورنمنٹ سروس میں امیگرنٹس کے لیے %15 اور کراچی کے لیے %2 کوٹہ رکھ کر لیاقت علی خان نے یوپی ‘ سی پی سے اردو اسپیکنگ ھندوستانی لا کر کراچی اور سندھ کے دوسرے بڑے شہروں میں آباد کرنا شروع کر دیے اور ھندو سماٹ سندھیوں کو سندھ سے نکالنا شروع کردیا۔ اس عمل کے دوران سندھ کے مسلمان سماٹ سندھیوں نے تو مزاھمت کی لیکن عربی نزاد اور بلوچ نزاد اشرافیہ نے پرائم منسٹر لیاقت علی خان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ اس لیے ھی لیاقت علی خان نے سندھ کے سماٹ وزیر اعلی ایوب کھوڑو کو ھٹا کر عربی نزاد پیر الاھی بخش کو سندھ کا وزیر اعلی بنا دیا۔ جس نے ھندوستان سے لا کر کراچی میں آباد کیے جانے والے مھاجروں کے لیے سب سے 1948 میں پہلی کالونی پی آئی بی (پیر الاھی بخش کالونی) بنائی۔ جسکے بعد ھندوستان سے لا کر کراچی میں آباد کیے جانے والے مھاجروں کے لیے سندھ حکومت کی سرپرستی میں کالونیاں بنانے اور ھندو سماٹ سندھیوں کو سندھ سے نکالنے کا سلسلہ منصوبہ بندی کے ساتھ اور تیزی سے شروع کردیا گیا۔

سندھ کے اصل باشندے ‘ سماٹ سندھی پہلے ھی اکثریت میں ھونے کے باوجود ‘ صدیوں سے عربی نزاد اور بلوچ نزاد کی بالادستی کی وجہ سے نفسیاتی طور پر کمتری کے احساس میں مبتلا تھے۔ لیکن ھندو سماٹ سندھیوں کو سندھ سے نکال دینے سے سندھ میں سماٹ سندھیوں کی آبادی بھی کم ھو گئی۔ جس کی وجہ سے سندھ کے شہری علاقوں پر یوپی ‘ سی پی کی اردو بولنے والی ھندوستانی اشرافیہ کی اور سندھ کے دیہی علاقوں پر عربی نزاد اور بلوچ نزاد اشرافیہ کی مکمل بالادستی قائم ھو گئی۔

جب تک سیاسی طور پر مظبوط اور مستحکم ھوکر سندھ کی آبادی کے %42 سماٹ سندھی خود کو %2 عربی نزاد ‘ %16 بلوچ نزاد اور %19 ھندوستانی نزاد مھاجروں کی سماجی ‘ معاشی ‘ سیاسی بالادستی سے نجات حاصل نہیں کرتے ‘ اس وقت تک؛

نہ سندھ کا سماجی ماحول ٹھیک ھونا ھے۔
نہ سندھ کا لاء اینڈ آرڈر ٹھیک ھونا ھے۔
نہ سندھ کی سیاست ٹھیک ھونی ھے۔
نہ سندھ میں ڈویلپمنٹ ٹھیک ھونی ھے۔
نہ سندھ میں ایجوکیشن ٹھیک ھونی ھے۔
نہ سندھ کی ایڈمنسٹریشن ٹھیک ھونی ھے۔
نہ سندھ میں معاشی سرگرمیاں ٹھیک ھونی ھیں۔
نہ سماٹ سندھیوں کے سماجی ‘ معاشی حالات ٹھیک ھونے ھیں۔