Wednesday, 7 September 2016

سماٹ سندھی احساس کمتری میں کیوں مبتلا ھے؟

سندھ میں رھنے والے %42 سماٹ ھیں ، جو کہ سندھ کے اصل باشندے ھیں ۔ %16 کردستانی نزاد ھیں ، جو خود کو بلوچ کہلواتے ھیں۔ %2 عربی نزاد ھیں ، جو خود کو عباسی ، انصاری ، گیلانی ، جیلانی ، قریشی ، صدیقی وغیرہ کہلواتے ھیں۔

%42 سماٹ ، %16 بلوچ اور %2 عربی کو ، جو کہ سندھ کی آبادی کا %60 بنتے ھیں ، سندھی کہا جاتا ھے۔ جبکہ %19 مھاجر ، %10 پنجابی ، %7 پٹھان ، %4 دیگر کی آبادی سندھ کی آبادی کا %40 بنتے ھیں۔ انہیں سندھی نہیں کہا جاتا۔

تاریخی طور پر سندھ کی %42 سماٹ آبادی صدیوں سے عربی نزاد عباسی ، انصاری ، گیلانی ، جیلانی ، قریشی ، صدیقی وغیرہ اور کردستانی نزاد بلوچ کی بالادستی کی وجہ سے نفسیاتی طور پر کمتری کے احساس میں مبتلا ھے۔

صدیوں سے عربی نزاد اور بلوچ نزاد کی بالادستی کی وجہ سے سماٹ سندھی میں مارشل ریس ھونے کی صلاحیت تو ختم ھو ھی چکی تھی لیکن اب اپنی ھی زمین پر حکمرانی کرنے کی خواھش اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کی ھمت تک نہیں رھی۔

سندھ پر پاکستان کے بننے سے پہلے؛
1843 سے لیکر 1947 تک 104 سال انگریزوں کی حکمرانی تھی۔
1783 سے لیکر 1843 تک 60 سال کردستانی نزاد تالپور بلوچ کی حکمرانی تھی۔
1701 سے لیکر 1783 تک 82 سال عربی نزاد عباسی کلھوڑا کی حکمرانی تھی۔
1591 سے لیکر 1701 تک 110 سال مغلوں کی حکمرانی تھی۔
1554 سے لیکر 1591 تک 37 سال ترک نزاد ترکھانوں کی حکمرانی تھی۔
1520 سے لیکر 1554 تک 34 سال ترک نزاد ارغونوں کی حکمرانی تھی۔
1335 سے لیکر 1520 تک 185 سال سمہ کی حکمرانی تھی۔
1024 سے لیکر 1335 تک 311 سال سومرا کی حکمرانی تھی۔
712 سے لیکر 1024 تک 312 سال عربوں کی حکمرانی تھی۔

سندھ پر انگریزوں کی حکمرانی سے پہلے 1783 سے لیکر 1843 تک کردستانی نزاد تالپور بلوچ کی حکمرانی تھی۔ تالپور بلوچ میں مارشل ریس ھونے کی صلاحیت تو نہیں ھے لیکن قبائلی معاشرت اور مزاج کی وجہ سے قبضہ گیری اور جبری حکمرانی کی عادت ھے۔

تالپور بلوچ کے پاس آرمی نہیں بلکہ قبائلی قبضہ گیر گروہ تھا ، جس نے افغانستان کے درانی حکمرانوں کی آشیرباد سے 1783 میں عباسی کلھوڑا کی حکومت ختم کرکے سندھ پر حکمرانی کرنا شروع کردی۔

تالپور بلوچ سے پہلے 1701 سے لیکر 1783 تک مغل حکمرانوں کی آشیرباد سے سندھ پر عباسی کلھوڑا کی حکمرانی تھی۔ عباسی کلھوڑا میں مارشل ریس ھونے کی صلاحیت تو نہیں ھے لیکن عربی معاشرت اور درباری مزاج کی وجہ سے قبضہ گیری اور جبری حکمرانی کی عادت ھے۔

1591 سے لیکر 1701 تک سندھ پر حکمرانی کرنے کے باوجود 1701 میں ایران کے نادر شاہ کے عروج اور دھلی پر حملوں کی وجہ سے سندھ پر مغلوں کو براہ راست اقتدار کو برقرار رکھنا مشکل ھوگیا تھا۔ اس لیے دھلی دربار سے تعلقات کی وجہ سے عباسی کلھوڑا کو سندھ پر حکمرانی کرنے کا موقع مل گیا۔ عباسی کلھوڑا میں مارشل ریس ھونے کی صلاحیت نہیں تھی ، جسکی وجہ سے عباسی کلھوڑا کی اپنی آرمی نہیں تھی۔ اس لیے سماٹ سندھیوں پر حکمرانی کرنے کے لیے عباسی کلھوڑا کو پنجاب سے کردستانی نزاد تالپور بلوچ لانے پڑے تاکہ عباسی کلھوڑا اشرافیہ بلوچ قبائل کی مدد سے سندھ پر حکمرانی کر سکے۔ لیکن سندھ آنے کے بعد سندھ پر عباسی کلھوڑا اشرافیہ کے ساتھ مل کر سندھ پر حکمرانی کرتے رھنے کے بجائے تالپور بلوچ نے افغانستان کے درانی حکمرانوں کی آشیرباد سے 1783 میں ھالانی کے مقام پر عباسی کلھوڑا کے ساتھ جنگ کرنے کے بعد عباسی کلھوڑا کی حکومت ختم کرکے سندھ پر خود حکمرانی کرنا شروع کردی۔

پاکستان کے بننے کے بعد پاکستان کا پرائم منسٹر یوپی کے اردو اسپیکنگ ھندوستانی لیاقت علی خان کے بن جانے سے اور کراچی کے پاکستان کا دارالخلافہ بن جانے کے بعد ستمبر 1948 میں پاکستان کی گورنمنٹ سروس میں امیگرنٹس کے لیے %15 اور کراچی کے لیے %2 کوٹہ رکھ کر لیاقت علی خان نے یوپی ، سی پی سے اردو اسپیکنگ ھندوستانی لا کر کراچی اور سندھ کے دوسرے بڑے شہروں میں آباد کرنا شروع کر دیے اور ھندو سماٹ سندھیوں کو سندھ سے نکالنا شروع کردیا۔ اس عمل کے دوران سندھ کے مسلمان سماٹ سندھیوں نے تو مزاھمت کی لیکن عربی نزاد اور بلوچ نزاد اشرافیہ نے پرائم منسٹر لیاقت علی خان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ اس لیے ھی لیاقت علی خان نے سندھ کے سماٹ وزیر اعلی ایوب کھوڑو کو ھٹا کر عربی نزاد پیر الاھی بخش کو سندھ کا وزیر اعلی بنا دیا۔ جس نے ھندوستان سے لا کر کراچی میں آباد کیے جانے والے مھاجروں کے لیے سب سے 1948 میں پہلی کالونی پی آئی بی (پیر الاھی بخش کالونی) بنائی۔ جسکے بعد ھندوستان سے لا کر کراچی میں آباد کیے جانے والے مھاجروں کے لیے سندھ حکومت کی سرپرستی میں کالونیاں بنانے اور ھندو سماٹ سندھیوں کو سندھ سے نکالنے کا سلسلہ منصوبہ بندی کے ساتھ اور تیزی سے شروع کردیا گیا۔

سندھ کے اصل باشندے ، سماٹ سندھی پہلے ھی اکثریت میں ھونے کے باوجود ، صدیوں سے عربی نزاد اور بلوچ نزاد کی بالادستی کی وجہ سے نفسیاتی طور پر کمتری کے احساس میں مبتلا تھے۔ لیکن ھندو سماٹ سندھیوں کو سندھ سے نکال دینے سے سندھ میں سماٹ سندھیوں کی آبادی بھی کم ھو گئی۔ جس کی وجہ سے سندھ کے شہری علاقوں پر یوپی ، سی پی کی اردو بولنے والی ھندوستانی اشرافیہ کی اور سندھ کے دیہی علاقوں پر عربی نزاد اور بلوچ نزاد اشرافیہ کی مکمل بالادستی قائم ھو گئی۔