Monday, 19 September 2016

جی ایم سید سندھیوں کا محسن تھا یا دشمن؟

سندھ میں رھنے والے %42 سماٹ ھیں ' جو کہ سندھ کے اصل باشندے ھیں۔ %16 کردستانی نزاد ھیں ' جو خود کو بلوچ کہلواتے ھیں۔ %2 عربی نزاد ھیں ' جو خود کو عباسی ' انصاری ' گیلانی ' جیلانی ' قریشی ' صدیقی وغیرہ کہلواتے ھیں۔ جبکہ %19 مھاجر ' %10 پنجابی ' %7 پٹھان ' %4 دیگر ھیں۔

1970 میں جی ایم سید کی موقع پرست سیاست کی وجہ سے موجودہ وقت میں سماٹ سندھی دیہی سندھ میں سید اور بلوچ جاگیرداروں کے غلام ھیں۔ سندھ کے شہری علاقوں پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا کنٹرول ھے۔ جبکہ پنجاب سے پنجابیوں کو دیہی سندھ میں جاکر زراعت ' صنعت ' تجارت کے کاروبار کے فروغ ' صحت اور تعلیم کے شعبوں کی ترقی میں اپنے اقتصادی وسائل اور دانشورانہ مہارت کی سرمایہ کاری کرنے کی کوئی دلچسپی نہیں ھے۔

جی - ایم سید ایک سندھی قوم پرست رھنما نہیں بلکہ مفاد پرست اور موقع پرست شخص تھا۔ دیہی سندھ کے معاشی اور اقتصادی طور پر امیر پنجابی آبادکاروں کو جو 1901 اور 1932 سے دیہی سندھ میں زراعت ' صنعت ' تجارت کے کاروبار کے فروغ ' صحت اور تعلیم کے شعبوں کی ترقی کے لیے اپنی خدمات پیش کر رھے تھے ' انکو دیہی سندھ سے نکال کر انکی زمینوں اور کاروبار پر قبضہ کرنا اسکا مشن تھا۔

معاشی اور اقتصادی طور پر امیر پنجابی آبادکاروں کو دیہی سندھ سے بے دخل کروا کر انکے کاروبار اور آباد ذرعی زمینوں پر سید اور بلوچ جاگیرداروں کے قبضے کروانے کے ساتھ ساتھ سماٹ سندھیوں پر بھی سید اور بلوچ جاگیرداروں کا سماجی ' معاشی اور سیاسی تسلط قائم کروا کر ' جی - ایم سید اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رھا۔ لیکن اس عمل کے ذریعے جی - ایم سید نے سندھی قوم کو پنجاب کے عوام کے ساتھ مستقل محاذ آرائی میں پھنسا دیا جبکہ سندھ کے شہری علاقوں پر ھندوستانی مھاجروں کا تسلط بھی قائم کروا دیا۔

ماضی میں 1970 کی دھائی میں 1901 اور 1932 کی دھائیوں سے سندھ میں آباد معاشی اور اقتصادی طور پر امیر پنجابی اپنے کاروبار اور آباد ذرعی زمینیں سندھیوں ' خاص طور پر سید اور بلوچ کو سونپ کر پنجاب واپس آگئے۔

ایم کیو ایم کی نسل پرست اور فاشسٹ سرگرمیوں کے باعث دھشت گردی اور قتل و غارتگری کی وجہ سے 1980 کی دھائی کے آخر سے پنجاب کو کراچی سے پنجابیوں کی لاشیں موصول ھونا شروع ھوگئیں۔ جبکہ پنجابیوں نے صنعتیں اور تجارت کے کاروبار کو بھی کراچی سے پنجاب منتقل کرنا شروع کردیا۔ جی - ایم سید اس عرصے کے دوران اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی تنظیم ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا اھم حامی تھا۔

کراچی سے پنجابیوں کی صنعت و تجارت کے کاروبار کو پنجاب منتقل کروانے کے بعد اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے سندھ کے شہری علاقوں پر غلبہ حاصل کرنا اور سندھیوں کو نکالنا شروع کر دیا لیکن جی ایم سید سندھیوں کو سندھ کے شہری علاقوں سے نکالے جانے سے روکنے کے قابل نھیں تھا۔ کیونکہ جی ۔ ایم سید سندھ میں ایک مخصوص گروہ کا رھنما تو تھا لیکن صوبائی سطح کا رھنما نہیں تھا۔ اس لیے سندھ کے شہری علاقوں میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے غلبے کی وجہ سے جی ایم سید اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے قابل نھیں تھا۔

پنجابی آبادکاروں کے خلاف اپنے گھناؤنے کردار کی وجہ سے جی ایم سید پنجاب اور پنجابی قوم کے ساتھ سندھ کے اور سندھی قوم کے تنازعات کو حل کروانے کے قابل بھی نہیں تھا۔ تاھم ذوالفقار علی بھٹو' پیر پگارو' محمد خان جونیجو ' غلام مصطفی جتوئی اور بے نظیر بھٹو سندھیوں کے لیے پنجاب کے عوام کے ساتھ رابطے اور واسطے کا ذریعہ رھے۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو' پیر پگارو' محمد خان جونیجو ' غلام مصطفی جتوئی اور بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد اب موثر سماجی رابطوں اور سیاسی واسطوں کے نہ ھونے کی وجہ سے سندھیوں کا پنجاب کے عوام کے ساتھ رابطہ اور واسطہ ختم ھوتا جا رھا ھے۔

سندھ کے شہری علاقوں پر غالب اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ساتھ سندھیوں کا سماجی ٹکراؤ اور انتظامی ' معاشی ' اقتصادی ' ترقیاتی امور کی وجہ سے سیاسی اختلاف ماضی میں بھی تھا ' اب بھی ھے اور مستقبل میں بھی رھنا ھے۔ جبکہ پنجاب کی آبادی پاکستان کی 60 فیصد آبادی ھے۔ پنجاب کی پاکستان کی مرکزی حکومت ' پاکستان کی بیوروکریسی ' اسٹیبلشمنٹ ' صنعت ' تجارت ' سیاست ' صحافت اور ھنرمندی کے شعبوں پر مکمل بالادستی ھے۔ اس لیے پنجاب کے عوام کے ساتھ رابطے اور واسطے کا ختم ھونا ' پنجاب کا سندھیوں کے ساتھ لاتعلقی کا باعث اور سندھیوں کے لیے قومی تنہائی کا سبب بنتا جا رھا ھے۔

سندھیوں کے پنجاب کے عوام کے ساتھ رابطے اور واسطے کے ختم ھونے اور پنجاب کے سندھیوں کے ساتھ لاتعلقی کے باعث اب مستقبل میں سندھیوں کو پاکستان کی مرکزی حکومت ' پاکستان کی بیوروکریسی ' اسٹیبلشمنٹ ' صنعت ' تجارت ' سیاست ' صحافت اور ھنرمندی کے شعبوں میں وہ عزت ' اھمیت اور سہولت نہیں ملا کرنی جو ماضی میں ملتی رھی۔

 سندھ کے سماٹ سندھیوں ' بلوچ نزاد اور عربی نزاد سندھیوں کا پنجاب اور پنجابی قوم کے ساتھ تعلقات کا انحصار اب سندھ میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ تعلقات پر منحصر ھے۔ پنجاب اور پنجابی قوم اب سندھ کے پنجابی کے ساتھ ھونے والے ظلم اور زیادتی کو ھر گز برداشت نہیں کرے گی۔

سندھیوں کے پاس اب چارہ یہ ھی بچا ھے کہ پنجاب ' پنجابی ' پنجابی اسٹیبلشمنٹ ' پنجابی بیوروکریسی ' پنجابی فوج کے الفاظ ادا کرکے پنجاب اور پنجابی کو گالیاں دینے کی صدا پنجاب نہ پہنچنے دیں اور اپنے اپنے علاقے میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی اطلاع پنجاب نہ پہنچنے دیں۔ اپنے سیاسی رھنماؤں اور صحافیوں کے گلے میں پٹہ ڈالیں اور اپنے اپنے علاقے میں جن پنجابیوں کی زمین اور جائیدار پر قبضے کر چکے ھیں ' وہ واپس کردیں۔ جن پنجابیوں کو قتل کرچکے ھیں انکا خون بہا دے دیں۔ جن جن پنجابیوں پر ظلم اور زیادتی کی ھے اسکی تلافی کردیں اور سندھ میں رھنے والے پنجابیوں کو اب مزید کسی شکایت کا موقع نہ دیں۔