Monday, 12 September 2016

پاکستان میں سی پیک کی وجہ سے عالمی طاقتوں کا کھیل ھو رھا ھے۔

سی پیک کے منصوبے کے تحت چین سے شروع ھوکر
پاکستان میں گلگتیوں بلتستانیوں کے علاقے میں داخل ھوکر
اکنومک کوریڈور کے سینٹرل روٹ نے
ھندکو کے علاقے میں داخل ھوتے ھوئے
پنجابیوں کے علاقے سے ھوتے ھوئے
بروھیوں کے علاقے میں جاکر
گوادر کی بندرگاہ پر ختم ھونا ھے۔

سی پیک کے منصوبہ میں
اکنومک کوریڈور کے سینٹرل روٹ میں
پشتونوں کا علاقہ ' بلوچوں کا علاقہ ' سندھیوں کا علاقہ
اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا علاقہ
تو آتا ھی نہیں۔

گلگتیوں بلتستانیوں ' ھندکو ' پنجابیوں ' بروھیوں کے علاقے آتے ھیں۔

مطلب یہ ھے کہ؛

پشتونوں ' بلوچوں ' سندھیوں ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی
پاکستان میں سی پیک کی وجہ سے عالمی طاقتوں کے کھیل میں
ٹکے کی اھمیت نہیں۔

کیونکہ؛

پشتون ' بلوچ ' سندھی ' اردو بولنے والے ھندوستانی
بیرونی طاقتوں کی آشیرباد سے
سی پیک کو کالا باغ ڈیم کی طرح ناکام نہیں بنا سکتے۔

جیسا کہ؛

اکنومک کوریڈور کے ویسٹ روٹ میں پٹھانوں اور بلوچوں کے علاقے آتے ھیں۔

اکنومک کوریڈور کے ایسٹ روٹ میں سندھیوں اور اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے علاقے آتے ھیں۔

اکنومک کوریڈور کے سینٹرل روٹ میں گلگتیوں بلتستانیوں ' ھندکو ' پنجابیوں ' بروھیوں کے علاقے آتے ھیں۔

جب اکنومک کوریڈور ھر ایک کے علاقے سے گذر رھا ھے تو ناکام کیسے ھوگا؟

پشتونوں ' بلوچوں ' سندھیوں ' اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو چاھیئے کہ؛

اپنے علاقوں میں آنے والے ویسٹرن روٹ اور ایسٹرن روٹ پر دھیان دیں۔
سوچیں کہ اپنے علاقے کے روٹ کو کیسے کامیاب بنائیں گے۔
کون سے صنعتی زون لگائیں گے۔
کیا کیا معاشی سرگرمیاں شروع کریں گے۔

گلگتی بلتستانی ' ھندکو ' پنجابی ' بروھی سوچیں کہ اپنے علاقے کے روٹ کو کیسے کامیاب بنائیں گے۔
کون سے صنعتی زون لگائیں گے۔
کیا کیا معاشی سرگرمیاں شروع کریں گے۔

پاکستان پنجابی ' سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں کا ملک ھے۔ پنجاب ' پنجابی قوم کا ھے۔ سندھ ' سماٹ قوم کا ھے۔ (بلوچ کردستانی ھیں اور مھاجر ھندوستانی ھیں)۔ بلوچستان ' بروھی قوم کا ھے۔ (بلوچ کردستانی ھیں)۔ خیبر پختونخواہ ' ھندکو قوم کا ھے (پٹھان افغانستانی ھیں)۔ پنجابی قوم ' سماٹ کو سندھ ' بروھی کو بلوچستان ' ھندکو کو خیبر پختونخواہ کے اصل باشندے سمجھتی ھے۔

ھندوستانی مھاجر ' کردستانی بلوچ اور افغانستانی پٹھان ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دوست نہیں ھیں۔ اسی لیے پنجابی قوم اور پاکستان سے دشمنی کرتے رھے ھیں۔ جبکہ سماٹ قوم ' بروھی قوم ' ھندکو قوم ' پنجابی قوم اور پاکستان کے دشمن نہیں ھیں۔

ھندوستانی مھاجر کراچی تک اور افغانستانی پٹھان کے پی کے اور بلوچستان کے پشتون علاقوں تک محدود ھیں۔ انکی پنجاب یا سندھ کے دیہی علاقوں میں سیاسی ' سماجی اور معاشی بالادستی نہیں ھے۔ لیکن کردستانی بلوچوں نے بلوچستان کے بروھیوں اور سندھ کے سماٹ کو تو اپنی سیاسی ' سماجی اور معاشی بالادستی کا شکار بنایا ھوا تھا لیکن جتنے پنجابی بلوچستان میں ھیں۔ اس سے زیادہ بلوچ پنجاب میں ھیں۔ جو پنجاب سے پاکستان کے صدر بھی بنے اور وزیرِاعظم بھی بنے۔ پنجاب کے گورنر بھی بنے اور وزیرِاعلیٰ بھی بنے۔ وفاقی اور صوبائی وزیر تو ھر حکومت میں بنتے ھیں۔ بلوچستان سے زیادہ تعداد میں قومی اسمبلی کے بلوچ ممبر پنجاب سے بنتے ھیں۔

یہ پنجاب میں رھنے والے بلوچ پنجاب میں سرائیکی سازش بھی کر رھے ھیں۔ اس کے باوجود پنجابی نے پنجاب میں رھنے والے بلوچوں کو تنگ یا پریشان نہیں کیا۔ لیکن پنجابی کی خاموشی کا صرف بلوچ ھی نہیں اردو بولنے والے مھاجر بھی غلط فائدہ اٹھا رھے ھیں۔ بلوچستان سے ایک لاکھ پنجابی نکال دیے گئے۔ کراچی سے لاکھوں پنجابی نکال دیے گئے۔ بلوچستان اور کراچی سے پنجابیوں کی لاشیں پنجاب بھیجی جاتی رھیں۔ پنجابی کب تک خاموش رھے؟ آخر تو پنجابی نے بولنا ھی ھے۔

پنجابی نے بلوچوں کو رگڑا لگا دیا تو صرف بلوچستان میں بروھی کو ھی فائدہ نہیں ھونا۔ سندہ میں سماٹ کی جان بھی بلوچوں سے چھوٹ جانی ھے۔ جنوبی پنجاب میں ملتانی پنجابی ' ریاستی پنجابی ' ڈیرہ والی پنجابی کی مدد تو اب سینٹرل پنجاب اور نارتھ پنجاب کے پنجابی نے کرنی ھی ھے۔ تا کہ جنوبی پنجاب میں آباد بلوچ اب سرائیکی سازش کے ذریعے ان پر مزید ظلم نہ کرسکیں۔

بحرحال اب یہ سمجھدار بلوچوں کا مسئلہ ھے کہ پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف سازشیں کرنے والے بلوچوں کو سمجھائیں کہ پنجابی قوم پرستی کا طوفان آنے والا ھے اور اس پنجابی قوم پرستی کے طوفان نے سب سے پہلے برباد بلوچ کو کرنا ھے اور اسکے بعد اردو بولنے والے ھندوستانی تباہ ھونگے۔

جہاں تک بات بھارت کی آشیرباد سے پنجاب کو تقسیم کرکے سرائیکی صوبہ بنانے ' بلوچستان یا کراچی کو پاکستان سے الگ کرنے کی ھے۔ تو یہ کام امریکہ سے بھی نہیں ھوسکنا۔ اس لیے بھارت کی آشیرباد والوں نے کیا کرلینا ھے؟ کیونکہ یہ پاکستان نہیں ھے۔ یہ پنجابستان ھے۔ اس پنجابستان کی ایک انچ زمین بھی پنجابی نے تو الگ ھونے نہیں دینی۔ بلکہ اب پنجابی نے جواب بھی دینا ھے۔ جواب صرف بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانی کو ھی نہیں ھوگا۔ جواب اب بھارت کو بھی ملے گا۔

پاکستان تو پنجابی ' سندھی ' ھندکو اور براھوی بولنے والوں کا ملک ھے اور پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے لیکن بھارت تو ھندی ' تیلگو ' تامل ' ملایالم ' مراٹھی ' گجراتی ' راجستھانی ' کنڑا ' اڑیہ ' آسامی ' بھوجپوری ' بنگالی اور پنجابی قوموں کا علاقہ ھے ' جہاں 25٪ آبادی ھندی ھے لیکن 75٪ آبادی ھندی نہیں ھے۔

بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کی پراکسی کے ذریعے پاکستان میں پشتونستان ' آزاد بلوچستان ' سندھودیش اور جناح پور بنانے کی سازش کا ناکام ھونا ' نہ صرف یقینی ھے بلکہ بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کو سبق سکھانے کے لیے پاکستان کی پراکسی کے نتیجے میں 2020 تک بھارت کے اندر پشتونستان کی پراکسی کے بدلے میں ناگالینڈ ' آزاد بلوچستان کی پراکسی کے بدلے میں کشمیر ' سندھودیش کی پراکسی کے بدلے میں ھریانستان اور جناح پور کی پراکسی کے بدلے میں خالصتان جبکہ مشرقی پاکستان میں پراکسی کرکے 1971 میں بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے کے بدلے میں تامل ناڈو ' اب آزاد ملک بن کر ھی رھنے ھیں۔

کشمیر ' ھریانستان ' خالصتان ' ناگالینڈ اور تامل ناڈو کی آزادی تو اب ھونی ھی ھے لیکن تیلگو ' ملایالم ' مراٹھی ' گجراتی ' راجستھانی ' کنڑا ' اڑیہ ' آسامی ' بھوجپوری اور بنگالی قوم کو بھی ھندوستانیوں (اترپردیش کے ھندی بولنے والے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت والوں) سے آزادی مل جانی ھے۔ انشا اللہ۔

پاکستان کی 60٪ آبادی ھونے کی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں تو پنجابیوں کی ھی اکثریت ھونی تھی لیکن بھارت میں ھندوستانیوں (اترپردیش کے ھندی بولنے والے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت والے) نے بھارت کی 75٪ آبادی کو ھندی اسٹیبلشمنٹ اور ھندی زبان کے ذریعے مغلوب کیا ھوا ھے۔

بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان میں پراکسی کرکے ' پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو پنجابی اسٹیبلشمنٹ قرار دلوا کر ' پنجاب کو غاصب قرار دلوا کر ' پاکستان کو پنجابستان قرار دلوا کر ' پاکستان ' پنجاب اور پنجابی قوم کے خلاف نفرت کا ماحول قائم کرواکر ' پاکستان کے اندر ' افغانی بیک گراؤنڈ پشتو بولنے والوں کو پشتونستان بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔ کردستانی بیک گراؤنڈ بلوچی بولنے والوں کو آزاد بلوچستان بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔ عربی نزاد اور بلوچ نزاد سندھیوں کو سندھودیش بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔ یوپی ' سی پی کے ھندوستانی بیک گراؤنڈ اردو بولنے والے مھاجروں کو جناح پور بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔

بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ ' اس طرح کی سازش کے ذریعے ' ماضی میں لسانی پراکسی کرکے ' مشرقی پاکستان میں ' 1971 میں بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے میں کامیاب ھوچکی ھے لیکن 1971 میں نہ پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ پنجابی کے پاس تھی اور نہ ملٹری لیڈرشپ۔

1971 میں پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ بنگالی مجیب الرحمٰن اور سندھی بھٹو کے پاس تھی جبکہ پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ میں کلیدی قردار اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جرنیلوں اور پٹھان جرنیلوں کا تھا۔ جبکہ پاکستان کا سربراہ بھی پٹھان یحیٰ خان تھا۔

پنجابی کے پاس تو پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ 1975 میں جنرل ضیاءالحق کے پاکستان کی فوج کے پہلے پنجابی چیف آف آرمی اسٹاف بننے کے بعد آئی۔ جبکہ پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ 1988 میں نوازشریف کے پاکستان مسلم لیگ کا صدر بننے کے بعد ' 1990 میں پاکستان کا وزیرِاعظم بننے کے بعد ائی۔

جب 1971 میں بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ نے بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے کی لسانی پراکسی شروع کی تو اس کے جواب میں پاکستان کو بھی مشرقی پنجاب اور کشمیر میں لسانی پراکسی کرنی چاھیئے تھی لیکن اس وقت پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ اور ملٹری لیڈرشپ پنجابی کے پاس نہیں تھی۔ جبکہ پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ میں موجود اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جرنیلوں ' پٹھان جرنیلوں اور مغربی پاکستان کے سیاسی لیڈر ' سندھی بھٹو نے بھارت میں لسانی پراکسی کرنے سے گریز کیا کیونکہ بھارت میں لسانی پراکسی کرکے بھارتی پنجاب اور کشمیر کو بھارت سے الگ کرکے پاکستان میں شامل کرنے سے پاکستان میں پنجابیوں کی آبادی کے 60٪ سے بڑہ کر 85٪ ھوجانے کی وجہ سے غیر پنجابی ھونے کی بنا پر وہ خوفزدہ تھے۔

2030 تک چین کی اکانومی اور آرمی کی طاقت امریکہ سے آگے نکل جانی ھے۔ اس لیے امریکہ کے پاس 2025 تک کا وقت ھے کہ یا تو چین کو بحر ھند میں ڈیرے ڈالنے سے روکے یا پھر اپنا بوریا بستر لپیٹ لے۔ بلکہ جو کچھ کرنا ھے وہ 2020 تک کرلے تو زیادہ بہتر ھے کیونکہ 2025 تک کرنے سے نقصان زیادہ ھوگا۔ اس لیے اب امریکہ کے پاس دو ھی آپشن ھیں۔ ایک یہ کہ جنگ کرے جو کہ ظاھر ھے کہ تیسری عالمی جنگ بن جانی ھے۔ دوسرا یہ کہ پنجابی کو چین کی مدد کرنے سے روکنے کے لیے غیرجانبدار ھونے کا طریقہ اختیار کروائے۔

فرض کریں اگر امریکہ نے پنجابی کو راضی کرلیا کہ کشمیر اور خالصان کو لے کر گوادر کے کھیل سے الگ ھوجاؤ اور کراچی پورٹ کو استعمال کرو۔ سندھی اور مھاجر کو سمبھالو۔ گوادر کے مسئلے ' چین ' بلوچ اور پٹھان کو ھم خود دیکھ لیں گے۔ آپکا کیا خیال ھے کہ پنجابی کیا کرے گا؟ چین کیا کرے گا؟