Friday, 9 September 2016

نواز شریف کو عمران خان کا مقابلہ کیسے کرنا چاھیئے؟

پنجاب پر اَحمد شاہ ابدالی کی حکمرانی رہنے کی وجہ سے ، پنجاب میں ، پنجاب پر قبضہ کر کے سرمایہ دار بن جانے والے اور حکمرانی کا شوق رکھنے والے پٹھان خاندان بھی بہت ہیں ، جو پنجابی بولتے ہیں اور ایک بار پِھر سے پنجاب اور پنجابی قوم پر ویسے ہے قبضہ کرنا چاہتے ہیں ، جیسے احمد شاہ اَبدالی نے کیا تھا۔

پولیٹکس اصل میں پاور حاصل کرنے کا نام ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں پنجاب کی 150 اور خیبر پختونخواہ کی 47 سیٹیں ، ٹوٹل 197 سیٹیں پنجابی اور پٹھان ایریاز کی ہیں۔ فیڈرل گورنمنٹ بنانے کے لیے نیشنل اسمبلی کی 242 میں سے 137 سیٹیں چاھیئں۔

پاکستان کا سیاسی ماحول لسانی ہو چکا ہے۔ اس لیے الیکشن میں پولیٹیکل پارٹیز کو ووٹ دینے کا رواج بھی ایتھنک گراؤنڈ پر ہو چکا ہے۔ سندھیوں کے پاس صرف 41 سیٹیں ، مہاجروں کے پاس صرف 20 سیٹیں اور بلوچوں کے پاس صرف 14 سیٹیں ہونے کی وجہ سے اور سندھی ، مہاجر ، بلوچ کا پنجابی ایریاز کی 150 سیٹس اور پٹھان ایریاز کی 47 سیٹس پر اثر نا ہونے کی وجہ سے ، مستقبل میں سندھی ، مہاجر یا بلوچ لیڈر کو پاور حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی فیڈرل گورنمنٹ نہیں ملے گی۔

پنجابی ایریاز کی 150 سیٹس اور پٹھان ایریاز کی 47 سیٹس ہونے کی وجہ سے پنجابیوں کی پارٹی یا پٹھانوں کی پارٹی میں سے جو بھی 137 سیٹس لے گا ، فیڈرل گورنمنٹ بننا لے گا۔

اس وقت پنجابیوں کی پارٹی پی ایم ایل این ہے اور پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی ہے۔ پی ایم ایل این اور پی ٹی آئی کی دلچسپی پنجابی ایریاز کی 150 ، پٹھان ایریاز کی 47 سیٹس ، ٹوٹل 197 سیٹس میں ہے۔

پنجابیوں کی پارٹی پی ایم ایل این اور پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی کو سندھیوں کی 41 سیٹس ، مہاجروں کی 20 سیٹس اور بلوچوں کی 14 سیٹس سے اس لیے دلچسپی نہیں ہے کہ سندھیوں کی 41 سیٹس ، مہاجروں کی 20 سیٹس اور بلوچوں کی 14 سیٹس کے لیڈرز کے پاس نیشنل اسمبلی میں پنجابیوں کی پارٹی یا پٹھانوں کی پارٹی کے ساتھ کوآپریشن کرنے کے علاوہ دوسرا آپشن نہیں ہے۔ کیوں کے پولیٹکس میں نیوٹرل نہیں رہا جا سکتا۔

پٹھانوں کی پارٹی پی ٹی آئی کا لیڈر اس وقت عمران خان ہے۔ جو احمد شاہ ابدالی جیسا کردار بھرپور انداز میں ادا کر رہا ہے۔ جس کے لیے عمران خان پٹھانوں کو تو پٹھان ہونے کا احساس دلوا رہا ہے۔ جبکہ پنجاب کو مسلم ایریا اور پنجابی قوم کو مسلمان قوم ہونے کے راستے پر ڈال رہا ہے۔

پنجابیوں کی پارٹی ایم ایل این کا لیڈر اس وقت نواز شریف ہے۔ جو مہاراجا رنجیت سنگھ جیسا کردار بھرپور انداز میں ادا نہیں کر رہا۔ کیوں کہ نواز شریف پنجابیوں کو پنجابی ہونے کا احساس نہیں دلوا رہا جبکہ پنجاب کے سیکولر ایریا اور پنجابی قوم کو سیکولر قوم ہونے کے راستے پر بھی نہیں ڈال رہا۔

عمران خان کو تو احمد شاہ ابدالی جیسا کردار ادا کر کے پٹھانوں کو پٹھان قوم ہونے کا احساس دلوا کر اور پنجاب کو مسلم ایریا اور پنجابی قوم کو مسلمان قوم بنا کر پنجاب پر قبضہ کرنے اور پنجابی قوم کو پٹھانوں کا غلام بنانے میں آسانی ھوگی۔ لیکن نواز شریف کے لیے عمران خان کے احمد شاہ ابدالی جیسے کردار کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ؛

01۔ پنجابیوں کو پنجابی قوم ہونے کا احساس دلائے۔

02۔ پنجاب کی تعلیمی اور دفتری زبان پنجابی کرے۔

03۔ پنجاب کو سیکولر ایریا اور پنجابی قوم کو سیکولر قوم بنائے۔

04۔ 1947 میں ڈیوائیڈ ہو جانے والے پنجاب کو یونائٹ کرے۔

05۔ کشمیر پر سے انڈیا کا قبضہ ختم کروائے۔

06۔ 1901 میں برٹش کی طرف سے پنجاب کے نارتھ ویسٹرن ایریاز کو پنجاب سے الگ کر کے این ڈبلیو ایف پی ( نارتھ ویسٹرن فرنٹیر پروونس ) کے نام سے پروونس بننا کر ( جسکا نام اب خیبر پختونخواہ ہے ) پختونائزیشن کر کے پنجابی کے بجائے پختون ایریا بنائے جانے والے ایریا کو پِھر سے پنجاب میں شامل کر کے اور اس ایریا سے پختونائزیشن ختم کر کے پنجاب کو پِھر سے مہاراجا رنجیت سنگھ کے پنجاب جیسا پنجاب بنائے۔

07۔ سندھ میں رہنے والے پنجابیوں اور سماٹ سندھیوں پر سے عربی نزاد اور بلوچ نزاد سندھیوں کے ظلم اور زیادتیوں کو ختم کروانے کے لیے سندھ کے سماٹ سندھیوں اور سندھ کے پنجابیوں کو سماجی ، سیاسی ، معاشی ، انتظامی طور پرمظبوط کرے۔

08۔ کراچی میں رہنے والے پنجابیوں ، سماٹ سندھیوں ، پٹھانوں ، گجراتیوں اور راجستھانیوں پر سے یوپی ، سی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ظلم اور زیادتیوں کو ختم کروانے کے لیے کراچی کے پنجابیوں ، سماٹ سندھیوں ، پٹھانوں ، گجراتیوں اور راجستھانیوں کو سماجی ، سیاسی ، معاشی ، انتظامی طور پرمظبوط کرے۔

09۔ بلوچستان میں رہنے والے پنجابیوں اور بروھیوں پر سے کردستانی نزاد بلوچوں کے ظلم اور زیادتیوں کو ختم کروانے کے لیے بلوچستان کے پنجابیوں اور بروھیوں کو سماجی ، سیاسی ، معاشی ، انتظامی طور پرمظبوط کرے۔

10۔ جنوبی پنجاب میں رہنے والے ملتانی پنجابیوں ، ریاستی پنجابیوں اور ڈیرہ والی پنجابیوں پر سے کردستانی نزاد بلوچوں ، افغانی نزاد پٹھانوں ، عربی نزاد مخدوموں ' گیلانیوں ' قریشیوں ( جو اب خود کو سرائیکی کہتے ھیں ) کے ظلم اور زیادتیوں کو ختم کروانے کے لیے جنوبی پنجاب کے ملتانی پنجابیوں ، ریاستی پنجابیوں اور ڈیرہ والی پنجابیوں کو سماجی ، سیاسی ، معاشی ، انتظامی طور پرمظبوط کرے۔