Thursday, 8 September 2016

کراچی کے حالات کیوں خراب ھوئے اور مھاجروں کا مستقبل کیا ھے؟

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اس وقت بڑی تیزی کے ساتھ سماجی تنہائی میں مبتلا ھوتے جا رھے ھیں۔ کیونکہ مھاجر عصبیت میں مبتلا ھوکر الطاف حسین کی حمایت اور ایم کیو ایم کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے پنجابی ' پٹھان ' سندھی ' بلوچ اب یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں سے میل ملاقات کرنے سے اجتناب کرنے لگے ھیں۔

کراچی پورٹ سٹی ھے۔ سندھ میں 1983 میں شروع کی جانے والی MRD کی تحرک کی آڑ میں سندھ کی آزادی کی تحریک کے 1985 کے انتخابات کے بعد پاکستان میں سندھی محمد خان جونیجو اور سندھ میں سندھی غوثث علی شاہ کی قیادت میں PML-Junejo کی حکومت بن جانے اور جی- ایم سید کے سندھودیش کی تحریک سے دستبردار ھوجانے کے باعث سندھ کی آزادی کی تحریک کے ناکام ھوجانے کی وجہ سے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" نےے 1986 میں MQM کو کراچی پر مسلط کرکے مھاجروں کے ذریعے جلسے ' جلوس ' مظاھرے ' جلاؤ ' گھیراؤ '' ھنگامے ' ھڑتالیں ' بھتہ خوری ' اغوا ' ٹارگٹ کلنگ کروا کر  پاکستان کی معیشت برباد کروانی شروع کی تھی۔

کراچی میں انڈسٹری پنجابیوں کی تھی لیکن 1986 میں MQM کے قیام کے بعد پنجابیوں نے کراچی میں انڈسٹری لگنا نہ صرف بند کردی تھی بلکہ انڈسٹری کو پنجاب شفٹ کرنا اور مزید انڈسٹری پنجاب میں ھی لگانا شروع کردیا تھا۔ 2020 تک گوادر کے آپریٹ ھونے تک مھاجر نے کراچی میں مسئلہ بنے رھنا ھے۔ 2020 تک گوادر کے آپریٹ ھونے کے بعد پنجابیوں نے کراچی سے بچی کھچی انڈسٹری اور اپنا بزنس گوادر شفٹ کرنا شروع کردینا ھے۔ قومی اداروں ' بینکوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ھیڈ کوارٹر اسلام آباد اور لاھور شفٹ ھوجانے ھیں۔ اس کے بعد کراچی کے مھاجر نے معاشی بحران کی وجہ سے بھوک کا شکار ھوکر خود ھی ٹھیک ھوجانا ھے اور کراچی میں بھی امن و سکون ھوجانا ھے۔ نہ رھے گا بانس ۔ نہ بجے گی بانسری۔

پاکستان میں قومی اسمبلی کی 272 نشستیں ھیں۔ جن میں سے 150 صرف پنجاب سے ھیں۔ دیہی سندھ کی 41 ' کے پی کے کی 35 ' بلوچستان کی 14 اور فاٹا کی 12 نشستں ھیں۔ جبکہ کراچی کی قومی اسمبلی میں صرف 20 نشستیں ھیں. اس لیے پاکستان کی وفاقی حکومت کی طرف سے 20 نشستوں پر حاوی طبقے کو زیادہ سیاسی اھمیت دینے کی ضرورت نہیں ھے۔ کیونکہ سندھ کی صوبائی حکومت ھی اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ساتھ کراچی کے مقامی سطح پر سیاسی اور انتظامی طور پر نپٹ سکتی ھے۔

اس وقت یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار بنتا جا رھا ھے۔ روزگار کے شعبے ذراعت ' صنعت اور سروسز ھوتے ھیں۔ سیاست اور صحافت کا شمار بھی سروسز کے شعبے میں ھوتا ھے۔ پاکستان کے قیام کے بعد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر نے ذراعت اور صنعت کے شعبوں میں بھی روزگار کے ذرائعے اختیار کرنے کے بجائے خود کو سروسز کے شعبے تک محدود کرلیا اور وہ بھی زیادہ تر حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں میں اور خاص طور پر ان حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں میں جو کراچی یا بڑے شہری علاقوں میں ھیں۔ لیکن اب پنجابی ' پٹھان ' سندھی ' بلوچ بھی کراچی اور بڑے شہری علاقوں کے حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں میں اپنی آبادی کے مطابق حصہ چاھتا ھے۔

مھاجر سے مراد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ' گجراتی ' راجستھانی ' بہاری لیا جاتا ھے۔ مھاجر کی آبادی 4٪ گجراتی ' راجستھانی ' بہاری کی ھے اور 4٪ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کی ھے۔ گجراتی ' راجستھانی ' بہاری نے تو حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں کے علاوہ بھی روزگار کے ذرائے اختیار کیے ھوئے ھیں لیکن یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کا انحصار ابھی تک حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں پر ھے۔ اس لیے آبادی کے مطابق حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں میں 4٪ حصہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کو ملنے کے بعد باقی 96٪ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کیا کریں؟

یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کے روزگار کے مسئلے کا حل یہ ھے کہ یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر صرف حکومتی اداروں اور سرکاری سروسز کے شعبوں اور وہ بھی کراچی یا بڑے شہری علاقوں میں ھی روزگار کرنے کی ضد کرنے کے بجائے ذراعت اور صنعت کے شعبوں میں بھی روزگار کے ذرائعے اختیاریں اور دیہی علاقوں میں جاکر بھی آباد ھونا شروع کریں۔

کراچی والے اور کراچی کے مھاجر میں زمین آسمان کا فرق ھے۔ کراچی والے صرف مھاجر نہیں بلکہ کراچی کے پنجابی ' پٹھان ' سندھی ' بلوچ بھی ھیں۔ جبکہ کراچی کے مھاجر صرف کراچی کے مھاجر ھی ھیں۔ اس لیے مہاجروں کو اپنی احساسِ محرومی کا رونا بند کرکے اب کراچی کے پنجابی ' پٹھان ' سندھی ' بلوچ کی کراچی میں احساسِ محرومی ختم کرنا ھوگی۔ کراچی کے پنجابی ' پٹھان ' سندھی ' بلوچ کو کراچی میں عزت اور سکون کے ساتھ زندگی گذارنے کا حق دینا ھوگا۔

سندھ میں اردو اور سندھی کی بنیاد پر 1972 میں لسانی فسادات کے بعد ذالفقار علی بھٹو کو یہ معاھدہ کرنا پڑا تھا کہ سندھ کا وزیرِ اعلیٰ سندھی اور گورنر غیر سندھی ھوا کرے گا اور سندھ سے سرکاری نوکریوں میں 60٪ کوٹہ دیہی سندھ کا ھوگا اور 40٪ کوٹہ شہری سندھ کا ھوگا۔ اس لیے اس وقت کے سندھ کے سندھی گورنر رسول بخش تالپور کو ھٹا کر مہاجر بیگم رعنا لیاقت علی خاں کو سندھ کا گورنر بنا دیا گیا۔

ایم کیو ایم کے قیام تک سندھ کے مہاجر ' پنجابی ' پٹھان ' غیر سندھی کی بنیاد پر ایک تھے لیکن یہ اور بات ھے کہ سندھ کا گورنر غیر سندھی کے معاھدے کے تحت صرف مہاجر ھی بنتا رھا اور شہری سندھ کے 40٪ سرکاری نوکریوں کے کوٹہ میں سے زیادہ تر نوکریاں مھاجروں کو ھی ملتی رھیں۔


ایم کیو ایم کے قیام کے بعد سندھ کے پنجابی اور پٹھان چونکہ اب مہاجر سے الگ ھوچکے ھیں۔ اس لیے سندھ میں غیر سندھی کے نام پر مہاجر گورنر کی تعیناتی کا رواج بھی اب ختم ھونا چاھیئے اور شہری سندھ کی 40٪ سرکاری نوکریوں کے کوٹہ میں پنجابیوں اور پٹھانوں کا بھی حصہ ھونا چاھیئے۔ خاص طور پر شہری علاقوں کی مقامی حکومتوں کی نوکریوں میں۔ جہاں مھاجروں کے سیاسی غلبہ کی وجہ سے صرف مھاجروں کو سرکاری نوکریاں دی جاتی ھیں اور شہری علاقوں میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو نظرانداز کیا جاتا ھے۔