Monday, 26 September 2016

اکثریتی قوم ھونے کی وجہ سے پاکستان کا نام پنجابستان ھونا چاھئے تھا۔

1947 میں 20 لاکھ پنجابی مروا کر ' 2 کروڑ پنجابی بے گھر کروا کر ' پنجاب کو تقسیم کروا کر ' مسلمانو کے لیے جو پاکستان بنایا گیا تھا۔ وہ 1971 میں ایسٹ پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ختم ھو گیا۔

یہ ویسٹ پاکستان ھے۔ جسکا نام پاکستان رکھ دیا گیا۔ حالانکہ 60 % پنجابی اکثریت کی وجہ سے ویسٹ پاکستان کا نام پاکستان نہیں بلکہ پنجابستان رکھنا چاھئے تھا۔ 1973 کے آئین میں ویسٹ پاکستان کا نام خاہ مخواہ پاکستان رکھ کر کنفیوژن پیدا کیا گیا۔

بحرحال ' اب کسی پریشانی کی ضرورت نہیں۔ یہ پاکستان یا پنجابستان کہیں نہیں جاتا۔ اس نے ایسے ھی رھنا ھے۔ پنجابی اپنی زمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑا کرتا۔ اس لیے اس پنجابستان یا پاکستان سے زمین کا ایک انچ بھی اب الگ نہیں ھو سکتا۔

یہ سب افغانی بیک گراؤنڈ پشتونوں ' کردستانی بیک گراؤنڈ بلوچوں اور خاص طور پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا پروپیگنڈا ھے۔ جو ھر وقت پاکستان خطرے میں ھے ' پاکستان ٹوٹ جانا ھے۔ بنگال کی طرح پاکستان کا فلاں علاقہ پاکستان سے الگ ھو جانا ھے ' کا رونا روتے رھتے ھیں۔ تا کہ پاکستان کے عوام میں انتشار پیدا ھو۔

پاکستان کے افغانی بیک گراؤنڈ پشتون ' کردستانی بیک گراؤنڈ بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اس بات کا خیال رکھیں کہ پاکستان کو توڑنے ' پاکستان سے الگ ھونے کے نعرے مار کر اب پنجاب اور پنجابیوں کو بلیک میل کرنے میں فائدہ ایک ٹکہ کا نہیں ھونا بلکہ نقصان بہت زیادہ ھو جانا ھے۔ کیونکہ پاکستان اب بہت زیادہ طاقتور بھی ھو جانا ھے اور مضبوط بھی۔

بھارتی "را" اور دیگر پاکستان دشمن ممالک کے 1947 سے پختونستان کے مشن کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے پٹھان نہ ابتک پختونستان بنوا پائے اور نہ اب فاٹا اور کے پی کے ' کے پختون علاقوں میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔ 1948 سے آزاد بلوچستان کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے بلوچ بھی نہ ابتک آزاد بلوچستان بنوا پائے اور نہ اب بلوچستان کے بلوچ علاقوں میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔ 1972 سے سندھودیش کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے بلوچ نزاد سندھی اور عرب نزاد سندھی بھی نہ ابتک سندھودیش بنوا پائے اور نہ اب دیہی سندھ کے علاقوں میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔لیکن اب صرف چند ماہ بچے ھیں۔ پاکستان میں بھارت کے اس پالتو مال کی صفائی ھونے والی ھے۔ 2017 سے پاکستان میں راوی نے چین ھی چین لکھنا شروع کردینا ھے۔ 2020 میں پاکستان ایک پرامن اور ترقی کی طرف گامزن خوشحال پاکستان نظر آئے گا۔ انشا اللہ۔

پاکستان کے افغانی بیک گراؤنڈ پشتون ' کردستانی بیک گراؤنڈ بلوچ اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر اچھی طرح سمجھ لیں کہ؛

پاکستان تو پنجابی ' سندھی ' ھندکو اور براھوی بولنے والوں کا ملک ھے اور پاکستان کی 60٪ آبادی پنجابی ھے۔ لیکن بھارت تو ھندی ' تیلگو ' تامل ' ملایالم ' مراٹھی ' گجراتی ' راجستھانی ' کنڑا ' اڑیہ ' آسامی ' بھوجپوری ' بنگالی اور پنجابی قوموں کا علاقہ ھے ' جہاں 25٪ آبادی ھندی ھے لیکن 75٪ آبادی ھندی نہیں ھے۔

پاکستان کی 60٪ آبادی ھونے کی وجہ سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں تو پنجابیوں کی ھی اکثریت ھونی تھی لیکن بھارت میں ھندوستانیوں (اترپردیش کے ھندی بولنے والے گنگا جمنا تہذیب و ثقافت والے) نے بھارت کی 75٪ آبادی کو ھندی اسٹیبلشمنٹ اور ھندی زبان کے ذریعے مغلوب کیا ھوا ھے۔

بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان میں پراکسی کرکے ' پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو پنجابی اسٹیبلشمنٹ قرار دلوا کر ' پنجاب کو غاصب قرار دلوا کر ' پاکستان کو پنجابستان قرار دلوا کر ' پاکستان ' پنجاب اور پنجابی قوم کے خلاف نفرت کا ماحول قائم کرواکر ' پاکستان کے اندر ' افغانی بیک گراؤنڈ پشتو بولنے والوں کو پشتونستان بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔ کردستانی بیک گراؤنڈ بلوچی بولنے والوں کو آزاد بلوچستان بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔ عربی نزاد اور بلوچ نزاد سندھیوں کو سندھودیش بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔ یوپی ' سی پی کے ھندوستانی بیک گراؤنڈ اردو بولنے والے مھاجروں کو جناح پور بنانے کی راہ پر ڈالنے کی سازش شروع کی ھوئی ھے۔

بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ ' اس طرح کی سازش کے ذریعے ' ماضی میں لسانی پراکسی کرکے ' مشرقی پاکستان میں ' 1971 میں بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے میں کامیاب ھوچکی ھے لیکن 1971 میں نہ پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ پنجابی کے پاس تھی اور نہ ملٹری لیڈرشپ۔

1971 میں پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ بنگالی مجیب الرحمٰن اور سندھی بھٹو کے پاس تھی جبکہ پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ میں کلیدی قردار اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جرنیلوں اور پٹھان جرنیلوں کا تھا۔ جبکہ پاکستان کا سربراہ بھی پٹھان یحیٰ خان تھا۔
پنجابی کے پاس تو پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ 1975 میں جنرل ضیاءالحق کے پاکستان کی فوج کے پہلے پنجابی چیف آف آرمی اسٹاف بننے کے بعد آئی۔ جبکہ پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ 1988 میں نوازشریف کے پاکستان مسلم لیگ کا صدر بننے کے بعد 1990 میں پاکستان کا وزیرِاعظم بننے کے بعد آئی۔

جب 1971 میں بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ نے بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے کی لسانی پراکسی شروع کی تو اس کے جواب میں پاکستان کو بھی مشرقی پنجاب اور کشمیر میں لسانی پراکسی کرنی چاھیئے تھی۔ لیکن اس وقت پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ اور ملٹری لیڈرشپ پنجابی کے پاس نہیں تھی۔ جبکہ پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ میں موجود اترپردیش کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جرنیلوں ' پٹھان جرنیلوں اور مغربی پاکستان کے سیاسی لیڈر ' سندھی بھٹو نے بھارت میں لسانی پراکسی کرنے سے گریز کیا۔ کیونکہ بھارت میں لسانی پراکسی کرکے بھارتی پنجاب اور کشمیر کو بھارت سے الگ کرکے پاکستان میں شامل کرنے سے پاکستان میں پنجابیوں کی آبادی کے 60٪ سے بڑہ کر 85٪ ھوجانے کی وجہ سے ' وہ غیر پنجابی ھونے کی بنا پر خوفزدہ تھے۔

بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کی پراکسی کے ذریعے پاکستان میں پشتونستان ' آزاد بلوچستان ' سندھودیش اور جناح پور بنانے کی سازش اب تک ناکام رھی ھے۔ لیکن اب اس سازش کو جڑ سے ھی ختم کرنا ضروری ھے۔ جبکہ بھارت کی ھندی اسٹیبلشمنٹ کو سبق سکھانے کے لیے بھارت کے اندر پشتونستان کی پراکسی کے بدلے میں ناگالینڈ ' آزاد بلوچستان کی پراکسی کے بدلے میں کشمیر ' سندھودیش کی پراکسی کے بدلے میں ھریانستان ' جناح پور کی پراکسی کے بدلے میں خالصتان اور مشرقی پاکستان میں پراکسی کرکے 1971 میں بنگالی قوم کو پاکستان سے الگ کرنے کے بدلے میں تامل ناڈو کو آزاد ملک بنانے کے لیے اب پاکستان بھرپور پراکسی جنگ کرے گا۔

جبکہ پاکستان کے اندر جاری پراکسی جنگ کے کھلاڑیوں کو ختم کرنے کے لیے؛

1۔ پاکستان کے اندر بھارت کے ایجنٹ بن کر ' بھارت کی پراکسی جنگ کی حکمت عمل کے مطابق بھارت کی پراکسی جنگ کے کھلاڑیوں کو پالیسی بنا کر دینے والے پاکستان کی فارن افیئرس ' ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی سے ریٹائرڈ افسروں کا ' ملک دشمنی کا جرم کرنے کی وجہ سے جنگی بنیادوں پر خاتمہ کردیا جائے گا۔

2۔ پاکستان کے اندر بھارت کے ایجنٹ بن کر ' بھارت کی پراکسی جنگ کی حکمت عمل کے مطابق بھارت کی پراکسی جنگ کے کھلاڑیوں کی سرپرستی کرنے والے پاکستان کی فارن افیئرس ' ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی میں موجود افسروں کا ' ملک دشمنی کا جرم کرنے کی وجہ سے جنگی بنیادوں پر خاتمہ کردیا جائے گا۔

3۔ پاکستان کے اندر بھارت کے ایجنٹ بن کر ' بھارت کی پراکسی جنگ کی حکمت عمل کے مطابق سیاسی انتشار پھیلانے والے سیاسی رھنماؤں کا ' ملک دشمنی کا جرم کرنے کی وجہ سے جنگی بنیادوں پر خاتمہ کردیا جائے گا۔

4۔ پاکستان کے اندر بھارت کے ایجنٹ بن کر ' بھارت کی پراکسی جنگ کی حکمت عمل کے مطابق سماجی انتشار پھیلانے والے سماجی رھنماؤں کا ' ملک دشمنی کا جرم کرنے کی وجہ سے جنگی بنیادوں پر خاتمہ کردیا جائے گا۔

5۔ پاکستان کے اندر بھارت کے ایجنٹ بن کر ' بھارت کی پراکسی جنگ کی حکمت عمل کے مطابق انتشار پھیلانے والوں کو مظلوم بناکر ایڈورٹائز کرنے کی سہولتیں فراھم کرنے والے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے کھلاڑیوں کا ' ملک دشمنی کا جرم کرنے کی وجہ سے جنگی بنیادوں پر خاتمہ کردیا جائے گا۔

6۔ پاکستان کے اندر بھارت کے ایجنٹ بن کر ' بھارت کی پراکسی جنگ کی حکمت عمل کے مطابق پروپگنڈہ کرکے انتشار پھیلانے والے ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنس اور اسکلڈ پروفیشنس کے کھلاڑیوں کا ' ملک دشمنی کا جرم کرنے کی وجہ سے جنگی بنیادوں پر خاتمہ کردیا جائے گا۔

7۔ پاکستان کے اندر بھارت کے ایجنٹ بن کر ' بھارت کی پراکسی جنگ کی حکمت عمل کے مطابق جرائم کرکے انتشار پھیلانے والے جرائم پیشہ اور غیر قانونی کاروبار کرنے والے کھلاڑیوں کا ' ملک دشمنی کا جرم کرنے کی وجہ سے جنگی بنیادوں پر خاتمہ کردیا جائے گا۔