Friday, 16 September 2016

مھاجر “پاور پلیئرس” پر پنجابی “پاور پلیئرس” واضح برتری حاصل کرچکے ھیں۔

فارن افیئرس ' ملٹری بیوروکریسی ' نیشنل اسٹیبلشمنٹ ' انڈسٹری ' ٹریڈ بزنس ' اسکلڈ پروفیشنس ' نیشنل میڈیا اور بڑے بڑے شھروں پر جس قوم کی بالادستی ھو ' وہ قوم "پاور فل" ھوتی ھے اور سیاست اس پاور کو حاصل کرنے کا راستہ ھے۔

پاور فل ھونے کے لیے ھی افراد ' کمیونیٹی اور قوم ' سیاست کرتے ھیں ' جن کو "پاور پلیرس" کہا جاتا ھے۔ "پاور پلیرس" ھر دور میں کھیل کھیلتے آئے ھیں۔ اس لیے ھر جگاہ سیاست ھوتی ھے اور ھر دور میں ھوتی آئی ھے۔ یہ البتہ الگ بات ھے کہ سیاست کہیں جمھوری طریقوں اور سیاسی اصولوں کے تحت ھوتی ھے اور کہیں آمرانہ طریقوں اور سیاسی سازشوں کے ذریعے۔

پاکستان کے بننے سے پہلے بھی “پاور” کا کھیل ھوا تھا ' جس میں ھار پنجابی کی ھوئی اور ھندی- اردو اسپیکنگ ھندوستانی (یوپی ' سی پی والے ) جیت گے۔

برٹش انڈیا کی سب سے بڑی قوم ھندی- اردو اسپیکنگ ھندوستانی (یوپی ' سی پی والے ) تھے ' بنگالی دوسری بڑی قوم تھے۔ جبکہ پنجابی تیسری ' تیلگو چوتھی ' مراٹھی پانچویں ' تامل چھٹی ' گجراتی ساتویں ' کنڑا آٹھویں ' ملایالم نویں ' اڑیہ دسویں بڑی قوم تھے۔

برٹش انڈیا میں "ٹو نیشن تھیوری" کو بنیاد بنا کر ' دوسری بڑی قوم بنگالی اور تیسری بڑی قوم پنجابی کو مذھب کی بنیاد پر تقسیم کر کے مسلمان بنگالیوں اور مسلمان پنجابیوں کو پاکستان میں شامل کر کے ایک تو انڈیا کی دوسری اور تیسری بڑی قوم کو تقسیم کر دیا گیا۔ دوسرا برٹش انڈیا کی چوتھی ' پانچویں ' چھٹی ' ساتویں ' آٹھویں ' نویں ' دسویں بڑی قوم کو ھندی اسپیکنگ ھندوستانیوں کی بالادستی میں دے دیا گیا۔ تیسرا اردو اسپیکنگ ھندوستانی مسلمانوں کو پاکستان لا کر ' پاکستان کا پرائم منسٹر اردو اسپیکنگ ھندوستانی بنا دیا گیا۔ پاکستان کی قومی زبان بھی ان گنگا جمنا کلچر والے ھندوستانیوں کی زبان اردو کو بنا دیا گیا۔ پاکستان کا قومی لباس بھی ان گنگا جمنا کلچر والوں کی شیروانی اور پاجامہ بنا دیا گیا۔ پاکستان کی گورنمنٹ ' کونسٹیٹوشنل اسمبلی ' بیوروکریسی ' اسٹیبلشمنٹ ' پولیٹکس ' میڈیا ' اربن سینٹریس ' ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنس پر ان اردو اسپیکنگ ھندوستانیوں کی بالادستی قائم کروا دی گئی۔

جیسا کے ھر دور میں “پاور پلیئرس” کھیل کھیلتے ھیں۔ اسلیے اب بھی پاکستان میں “پاور” کا کھیل ھو رھا ھے۔ اس وقت پاکستان میں اس کھیل کے بڑے بڑے “پاور پلیئرس” مھاجر ' پنجابی اور پٹھان ھیں۔ جبکہ سندھی اور بلوچ “پاور پلیئرس” کا گیم لوکل یا پھر زیادہ سے زیادہ پروینشل لیول تک کا ھوتا ھے۔ کیوںکہ فارن افیئرس ' ملٹری بیوروکریسی اور نیشنل اسٹیبلشمنٹ میں سندھی اور بلوچ موجود ھی نہیں ھیں۔ سوائے ایگریکلچر اور پولیٹکس کے ' انڈسٹری ' ٹریڈ بزنس ' اسکلڈ پروفیشنس اور نیشنل میڈیا میں بھی ان کی پوزیشن کمزور ھے۔ جبکہ بڑے بڑے شھروں پر ' جہاں ماس موبیلائزیش زیادہ کامیاب ھوتی ھے ' وھاں بھی انکا کنٹرول نہیں ھے۔ اس لیے اصل گیم مھاجر ' پنجابی اور پٹھان “پاور پلیئرس” میں ھوتا رھا ھے اور ھو رھا ھے۔ کیوںکہ انکا گیم نیشنل ھی نہیں ' انٹرنیشنل لیول کا ھے۔ البتہ سندھیوں کو کبھی کبھار "نیشنل پولیٹیکل پاور" کا کھیل کھیلنے کا موقع مل جاتا ھے ' وہ بھی جب پنجابی “پاور پلیئرس” انکو سپورٹ کردیں یا مھاجر اور پٹھان “پاور پلیئرس” انکو پنجابی “پاور پلیئرس” کے مقابلے کے لیے سپورٹ کر دیں۔

فارن افیئرس ' ملٹری بیوروکریسی اور نیشنل اسٹیبلشمنٹ میں مھاجر ' پنجابی اور پٹھان “پاور پلیئرس” نے مورچے سمبھالے ھوئے ھیں۔ مھاجر ' پنجابی اور پٹھان “پاور پلیئرس” میں سے بھی اصل مقابلہ مھاجر اور پنجابی “پاور پلیئرس” میں ھی ھے۔ کیوںکہ پٹھان “پاور پلیئرس” کی مھاجر “پاور پلیئرس” کے مقابلے میں فارن افیئرس ' ملٹری بیوروکریسی اور نیشنل اسٹیبلشمنٹ میں پوزیشن کمزور ھے۔ جبکہ پولیٹکس کے علاوہ ' انڈسٹری ' ٹریڈ بزنس ' اسکلڈ پروفیشنس اور نیشنل میڈیا میں بھی پٹھان “پاور پلیئرس” کی مھاجر “پاور پلیئرس” کے مقابلے میں پوزیشن کمزور ھے۔ جبکہ بڑے بڑے شھروں پر ' جہاں ماس موبیلائزیش زیادہ کامیاب ھوتی ھے ' وھاں بھی پٹھان “پاور پلیئرس” کی پوزیشن اتنی مضبوط نہیں ھے ' جتنی مھاجر “پاور پلیئرس” کی ھے۔ بھرحال پٹھان “پاور پلیئرس” کی اھمیت اپنی جگاہ برقرا ھے۔ خاص طور پر پنجابی “پاور پلیئرس” کے مقابلے میں مھاجر “پاور پلیئرس” کے ساتھ اتحاد کی صورت میں یا مھاجر “پاور پلیئرس” کے ساتھ مقابلے میں پنجابی “پاور پلیئرس” کے ساتھ اتحاد کی صورت میں۔

فارن افیئرس ' ملٹری بیوروکریسی ' نیشنل اسٹیبلشمنٹ ' انڈسٹری ' ٹریڈ بزنس ' اسکلڈ پروفیشنس اور نیشنل میڈیا میں پنجابی “پاور پلیئرس” کے بعد سب سے زیادہ مضبوط پوزیشن مھاجر “پاور پلیئرس” کی ھے۔ جبکہ بڑے بڑے شھروں پر ' جہاں ماس موبیلائزیش زیادہ کامیاب ھوتی ھے ' وھاں بھی پنجابی “پاور پلیئرس” کے بعد سب سے زیادہ مضبوط پوزیشن مھاجر “پاور پلیئرس” کی ھی ھے۔ اسلیے مھاجر اور پنجابی “پاور پلیئرس” میں اتفاق اور اتحاد کے بجائے مقابلہ اور محاذ آرائی ھو رھی ھے اور ھوتی رھنی ھے۔

جب تک فارن افیئرس ' ملٹری بیوروکریسی اور نیشنل اسٹیبلشمنٹ میں پنجابی اور مھاجر “پاور پلیئرس” کا گیم کسی ایک “پاور پلیئر” کے دوسرے “پاور پلیئر” پر واضح بالادستی حاصل ھوجانے کی صورت میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتا ' اس وقت تک پاکستان میں امن اور سکون نہیں ھونا۔ ایگریکلچر ' انڈسٹری ' ٹریڈ بزنس ' اسکلڈ پروفیشنس ' میڈیا اور پولیٹکس سے واسطہ رکھنے والے لوگوں نے اپنے اپنے “پاور پلیئر” کی کامیابی اور مخالف “پاور پلیئر” کی شکست کے لیے ' حیلے ' بہانے ' قصے ' کہانیاں بناکر اپنے اپنے “پاور پلیئر” کی حمایت اور مخالف “پاور پلیئر” کی مخالفت کرتے رھنا ھے۔ زبان ' علاقے ' برادری اور قوم کو بنیاد بنا کر اپنے لوگوں کو یونائٹ اور مخالفوں کو ڈیوائیڈ کرنے کا سلسلہ روز بہ روز بڑھتا رھنا ھے۔ پٹھان ' سندھی اور بلوچ “پاور پلیئرس” کو بھی اس صورتحال میں اپنا کردار ایک “پاور پلیئر” کی حمایت اور دوسرے “پاور پلیئر” کی مخالفت کی صورت میں ادا کرنا پڑنا ھے۔ لیکن صورتحال بتا رھی ھے کہ اس وقت تک پنجابی “پاور پلیئرس” مھاجر “پاور پلیئرس” پر واضح برتری حاصل کرچکے ھیں۔ اسلیے پنجابی “پاور پلیئرس” کی کامیابی یقینی ھوتی جارھی ھے۔ بلکہ پنجابی "پاور پلیئرس" اب بیک وقت مھاجر ' پٹھان ' سندھی اور بلوچ "پاور پلیئرس" کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کرسکتے ھیں۔