Wednesday, 15 February 2017

پنجابی ارائیں ' سیاست کا انتہائی ذھین کھلاڑی – ادینہ بیگ خان 1710 – 1758

تاریخ کا مطالعہ کرتے ھوئے ھم عام طور پر  "خطاب" کی وجہ سے گمراہ ھوجاتے ھیں۔ آپ اس نام ادینہ بیگ خان کو دیکھیں جو کہ ترک یا افغان لگتا ھے۔ جبکہ یہ ایک ارائیں تھا۔ جس نے جالندھر دوآبہ کے حاکم کی حیثت سے جالندھر ' سر ھند پر حکومت کی اور اسکے پاس جموں ' کپورتلا اور کانگڑا جیسی ریاستیں بھی تھیں۔ 1756 میں دھلی کی مغل حکومت کی طرف سے لاھور اور ملتان کا گورنر رھا۔ 1758 میں مراٹھوں کی طرف سے پنجاب کا صوبہ دار تھا ' جب 10 ستمبر 1758 کو انتقال ھوا۔ ادینہ بیگ خان نے سکھوں ' مراٹھا ' دلی کے تخت اور افغانوں کو کامیابی کے ساتھ اپنی سیاسی حکمت عملی کے مطابق چلایا۔

ادینہ بیگ خان 1710ء میں لاھور کے قریب شرقپور شریف میں پیدا ھوا تھا۔ اپنی سیاسی حکمت عملی کے ساتھ اس نے دھلی اور کابل کی بالادستی کو مسترد کیا اور اپنے لئے ترک  "خطاب"  بیگ اور خان استعمال کیے جو کہ اس زمانے میں بڑا اعزاز تھا۔

بیگ ' خان ' سنگھ ' آغا یہ "خطاب" ایسے ھی ھیں جیسے "سر" یا "خان بھادر"۔ جبکہ ھم انہیں خاندانی اور موروثی نام سمجھتے ھیں۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ عام طور پر ھم ابھی تک انہیں کسی نسل ' قومیت یا علاقہ کے ساتھ منسوب کردیتے ھیں۔ جس سے تاریخ مسخ ھوجاتی ھے۔

ادینہ کا اصل نام "دینا" تھا۔ جو اس وقت پنجاب میں پیدا ھوا تھا جب ریاستیں یا صوبے طاقت حاصل کر رھے تھے اور خود مختاری کی طرف بڑھ رھے تھے اور مخصوص علاقوں میں نیم آزاد بھی تھے۔

بنگال سے پنجاب تک ایک درجن سے زائد نیم آزاد علاقے تھے جو  مختلف علاقوں میں دریائی راستے کے ذریعے تجارت کے ساتھ وابستہ تھے. کچھ سمندر کی تجارت کے ساتھ منسلک تھے۔ جیسے سورت (بھارتی گجرات) یا لاھوری بندر (ٹھٹھہ) ملتان کے ذریعے لاھور سے منسلک تھے۔ جبکہ کئی علاقے زمینی تجارتی راستوں کے ساتھ منسلک تھے اور آمدنی کا ذریعہ تھے.

یہ علاقے مغل دور میں بھی نیم آزاد تھے لیکن برطانیہ کی حکمرانی کے دور میں ان علاقوں کی نیم آزاد حیثیت ختم کرکے مرکز کی حکمرانی قائم کردی گئی۔ قانون ' تعلیم اور مرکزی انتظامیہ کو استعمال کرتے ھوئے برٹش انڈین انتظامیہ کی چالاکی اور جدید سیاسی تدبیر کے ذریعے خاص طور پر ان علاقوں کی تاریخ کو برباد کر دیا گیا۔

بحرحال جب ادینہ بیگ خان پیدا ھوا ' اس وقت نیم خود مختار ریاستوں کی خود مختاری میں اضافہ ھو رھا تھا. ان ریاستوں میں جھگڑا بھی تھا اور ایک دوسرے کے ساتھ گفت و شنید بھی ھو رھی تھی۔ بنگال سے کابل تک کئی مثالیں ھیں لیکن ھمارے نوآبادیاتی آقاؤں نے ھمیں بتایا کہ وہ صرف جھگڑ رھے تھے۔

اس وقت ھمارے علاقوں میں برطانوی اور فرانسیسی طاقتوں نے بھی اختیارات کی جنگ میں حصہ لینا شروع کردیا تھا. مغلوں نے عملی طور پر 1739 تک اپنی حکمرانی کو کھونا شروع کردیا تھا۔ نادر شاہ اس وقت ابھرتی ھوئی طاقت بن کر قوت کے ساتھ سامنے آیا۔

ادینہ بیگ خان نے اس وقت اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا ' جب وہ جالندھر دوآبہ کا فوجدار بن گیا ' جو کہ آمدنی میں بہت امیر تھا۔ ذرعی طور پر زرخیز ھونے کی وجہ سے جالندھر دوآبہ کے بارے میں تو ساتویں صدی میں چین کے ایک مسافر ھین سن نے بھی لکھا تھا کہ یہ علاقہ بہت امیر تھا۔

ادینہ بیگ خان نے انتہائی ذھانت کے ساتھ طاقت کے کھلاڑیوں کے ساتھ سیاست کا کھیل کھیلا اور پھر زبردست سیاسی تدبر کے ساتھ پنجاب پر حکومت کی۔ وہ دینہ سے ادینہ بنا اور پھر بیگ اور خان جیسے خطاب اپنے لیے منتخب کیے۔ اس دور میں یہ خطاب معمول کی روایت تھے۔

ادینہ بیگ خان کی کہانی ھمیں بتاتی ھے کہ ھمارے علاقوں میں بہت سے ادینہ تھے لیکن ھم عام طور پر  ایسے خطابات کی وجہ سے ان کو پہچاننے میں ناکام ھیں۔ ادینہ بیگ خان کی کہانی پڑھیں اور تاریخ سے لطف اندوز ھوں۔ ایک دن ھم پنجاب کے لوگ اس قابل ھوسکیں گے کہ نوآبادیاتی تاریخ کو تبدیل کرنے کے لئے اپنی نصابی کتابوں میں ایسی چیزیں شامل کر سکیں گے۔

ادینہ بیگ خان جالندھر دوآبہ کا حاکم تھا۔ 1756 میں دھلی کی مغل حکومت کی طرف سے لاھور اور ملتان کا گورنر رھا۔ جب 10 ستمبر 1758 کو انتقال ھوا مراٹھوں کی طرف سے پنجاب کا صوبہ دار تھا۔ احوالِ دینا بیگ خان ' ایک غیر مطبوع فارسی تحریر کے مطابق ' چنوں کا بیٹا ایک ارائیں کاشتکار گھرانے میں پیدا ھوا۔ ارائیں کاشتکاروں کی کثیر تعداد دوآبہ کے علاقے میں آباد تھی۔

ادینہ بیگ خان لاھور کے قریب شیخوپورہ ضلعے میں شرقپور  کے گاؤں میں پیدا ھوئے۔ ادینہ بیگ خان نے مغلوں کے زیرِ اثر عمر کا سب سے زیادہ حصہ جالندھر دوآبہ میں جلال آباد ' خانپور اور بجوارا میں گذارا۔ ایک سپاھی کے طور پر اپنے پیشہ کا آغاز کرتے ھوئے انہوں نے سلطانپور لودھی کے قریب لودھیاں کے علاقے میں کانگ کے گاؤں کے آمدنی کے جمعکار کا منصب حاصل کیا۔

انہوں نے کانگ کے علاقے میں نصف درجن دیہات مقادے پر حاصل کیے اور ایک سال کے اندر پورے کانگ کے علاقے کو مقادے پر حاصل کرلیا۔ کچھ وقت کے بعد لاھور کے گورنر نواب زکریا خان نے انہیں سلطانپور لودھی کا حاکم مقرر کردیا۔

نادر شاہ کے حملے (1739) کے بعد جب سکھوں نے طاقت حاصل کرنا شروع کی تو نواب زکریا خان نے سکھوں کو دبانے کے لئے ادینہ بیگ خان کو جالندھر دوآبہ کا حاکم بنایا۔ ادینہ بیگ خان  نے سکھوں کو  دبانے کے بجائے سیاسی حکمتِ عملی کے تحت سکھوں کی حوصلہ افزائی کی۔

نواب زکریا خان کی طرف سے دباؤ کی وجہ سے انہیں سکھوں کو اپنے علاقے سے بے دخل کرنا پڑنا تھا۔ اس لیے ادینہ بیگ خان نے حکومت کو ادائیگی کرنا بند کردی۔ حکومت کی عدم ادائیگی کی وجہ سے انہیں لاھور کے گورنر کے احکامات کے تحت حراست میں لے لیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک سال کے بعد ادینہ بیگ خان کو آزاد کیا گیا اور ادینہ بیگ خان کی جالندھر دوآبہ میں سیاسی اھمیت کی وجہ سے شاہ نواز خان کے ماتحت نائب حاکم مقرر کیا گیا۔

نواب زکریا خان کی موت کے بعد جولائی 1745 کو اس کے بیٹے یحیٰ خان اور شاہ نواز خان جانشینی کے لیے لڑ پڑے۔ ادینہ بیگ خان نے دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے۔ شاہ نواز خان نے لاھور فتح کرلیا اور ادینہ بیگ خان کو جالندھر دوآبہ کا حاکم مقرر کردیا۔

دریں اثنا نادر شاہ کا 19 جون 1747 کو انتقال ھو گیا اور احمد شاہ درانی کابل اور قندھار کا حکمران بن گیا۔ شاہ نواز  خان نے ادینہ بیگ خان کے مشورہ پر  احمد شاہ درانی کو پنجاب پر حملے کی دعوت دی۔ ادھر ادینہ بیگ خان نے دلی کی حکومت کو انتباہ کیا کہ احمد شاہ درانی پنجاب پر قبضے کی تیاری کر رھا ھے.

احمد شاہ درانی نے پنجاب کی طرف پیش قدمی کی تو شاہ نواز خان دھلی کی جانب فرار ھو گیا۔ دھلی کے بادشاہ کے وزیرِ اعظم معین الملک (میر مانو) نے منی پور میں سرھند کے قریب حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔

ادینہ بیگ خان نے معین الملک سے ھاتھ ملایا اور جنگ میں زخمی ھو گیا۔ معین الملک لاھور کا گورنر بن گیا اور کورا مل اسکا دیون مقرر ھوا جبکہ ادینہ بیگ خان پہلے کی طرح پھر سے جالندھر دوآبہ کا حاکم بن گیا۔

ادینہ بیگ خان نے ایک طرف سکھوں کو ' مغلوں کے خلاف ' اپنے ساتھ شامل ھونے پر آمادہ کیا۔ دوسری طرف افغانیوں کے ساتھ اسکے خفیہ روابط تھے۔ جبکہ وہ مغلوں سے تنخواہ بھی لیتا تھا۔

سکھوں نے پھر سے پنجاب میں لوٹ مار شروع کر دی۔ احمد شاہ درانی نے تیسری بار (دسمبر 1751) میں پنجاب پر حملہ کردیا۔ اس بار معین الملک کو مجبور ھوکر ھتھیار ڈالنے پڑے۔ جسکے بعد درانی سلطنت کے گورنر کے طور پر لاھور کا گورنر بنا۔

معین الملک اور ادینہ بیگ خان نے سکھوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرنا شروع کردیں۔ مارچ 1753 میں ھولا موھالا کے تہوار پر ادینہ بیگ خان نے آنندپور میں سکھ یاتریوں کی ایک بڑی تعداد کو قتل کردیا۔ سکھوں نے جوابی کارروائی کے طور پر جالندھر اور باری دوآبہ کے دیہات میں قتل و غارتگیری شروع کردی۔

ادینہ بیگ خان نے جس طرح جلدی سے سکھوں پر حملے کروائے ' اسی طرح جلدی سے سکھوں کی  شرائط تسلیم کرنے کے لئے تیار تھا۔اس نے اپنے علاقے کی آمدنی میں سے کچھ حصہ سکھوں کے لئے تفویض کرنے اور جاسہ سنگھ رام گڑھیا سمیت سکھوں کو اپنی فوج میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔

معین الملک 3 نومبر 1753 کو انتقال کر گیا اور ان کی بیوہ مراد بیگم (مغلانی بیگم) کے زمانہ میں ادینہ بیگ خان نے خودمختاری کے ساتھ جالندھر دوآبہ میں حکمرانی کی اور اپنا اثر سرھند تک بڑھا لیا۔مارچ 1755 کو دلی کے شہنشاہ نے ادینہ بیگ خان کو ظفر جارگ خان کا خطاب عطا کیا اور کانگڑا کے حکمران نے عطاعت قبول کر لی۔

مئی 1756 میں ادینہ بیگ خان کو دھلی کی مغل حکومت کی طرف سے تیس لاکھ روپے سالانہ خراج تحسین کی ادائیگی کے عوض لاھور اور ملتان کا گورنر مقرر کیا گیا۔

احمد شاہ درانی مراد بیگم (مغلانی بیگم) کی مدد کے لئے آیا اور ادینہ بیگ خان نے سیوالک کی پہاڑیوں میں پناہ لے لی۔ افغان سلطنت نے ادینہ بیگ خان کے ساتھ مصالحت کرکے انہیں پھر سے جالندھر دوآبہ کا حاکم تعینات کردیا۔

تیمور شاہ کی گورنری (1758-1757) کے دوران ادینہ بیگ خان نے افغانوں کو جالندھر دوآبہ سے نکالنے کے نقطہ نظر کے ساتھ اتحادی بنانا شروع کیے۔ سکھوں اور ادینہ بیگ خان کے فوجیوں نے ھاتھ ملایا اور افغانوں کو ھوشیارپور ضلع میں محالپور  کے مقام پر شکست دی۔

فتح کے بعد ادینہ بیگ خان نے سکھوں کا شکریہ ادا کیا اور گرنتھ صاحب کے لئے خراجِ تحسین کے طور پر ایک ھزار روپے اور جالندھر دوآبہ کے تحفظ کے طور پر ایک لاکھ پچیس ھزار روپے کی رقم پیش کی۔

سکھ سرداروں کو ساتھ ملانے کے بعد افغانوں کی طاقت کو کمزور کرنے کی خاطر ادینہ بیگ خان نے مراٹھا کو پنجاب پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ مراٹھا نے دھلی پر قبضہ کرلیا تھا۔ ادینہ بیگ خان نے مراٹھا کو پنجاب پر حملہ کرنے کے لیے ایک دن کے ایک لاکھ روپے کی پیشکش کی۔

ادینہ بیگ خان نے افغانوں کے خلاف مراٹھوں کی مدد کے لئے سکھوں کو بھی قائل کیا۔ مراٹھا فوج رگھوناتھ راؤ کی قیادت میں سکھوں اور ادینہ بیگ خان کی افواج کے ھمراہ اپریل 1758 میں لاھور میں داخل ہوئی۔

ادینہ بیگ خان نے مراٹھوں کو ایک سال کے 75 لاکھ روپے ادا کرنے کے عوض  پنجاب کی صوبہ داری حاصل کرلی۔ پنجاب اب تین آقاؤں میں گھر گیا تھا: مغلوں ' افغانوں اور مراٹھا۔ لیکن حقیقت میں حکمرانی صرف دو ' ادینہ بیگ خان اور سکھوں کی ھی تھی۔

10 ستمبر 1758 کو بٹالہ میں ادینہ بیگ خان کو سینہ میں درد کا حملہ ھوا اور 48 سال کی عمر میں اس کا انتقال ھوگیا۔ ادینہ بیگ خان کی وصیعت کے مطابق اسکی لاش کو ھوشیارپور سے 2 کلومیٹر شمال مغرب کی طرف خانپور میں دفن کیا گیا۔


ادینہ بیگ خان نے مسلمان پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں کو متحد کرنے کے لیے ایک مرکزی شخصیت اور پل کا کردار ادا کرتے ھوئے پنجاب کو مغلوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے ' افغانیوں کو کنٹرول میں رکھنے  کے لیے ' مراٹھوں کو پنجاب کے دشمنوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ' بڑی خوبصورتی کے ساتھ افغانیوں کے ھاتھوں مغل قبضہ گیروں کو پنجاب میں کمزور کروایا اور افغانیوں کو پنجاب سے نکالنے کے لیے مراٹھوں کو اپنے پروگرام کے مطابق چلایا۔ لیکن ادینہ بیگ خان کی وفات کے بعد پنجاب کے محافظ صرف سکھ پنجابی رھنما رھے۔

اگر ادینہ بیگ خان کا 48 برس کی عمر میں انتقال نہ ھوا ھوتا اور اسے مزید ایک یا دو دھائیوں کے لیے زندگی مل گئی ھوتی تو پھر پنجاب کی سیکولر سلطنت ادینہ بیگ خان کی بادشاھت کے تحت 1760 کی دھائی میں ھی متوقع تھی اور مغلوں کے قبضے سے آزاد کروائے گئے پنجاب میں افغانیوں کو لوٹ مار کرنے کا موقع بھی نہیں ملنا تھا۔جبکہ پنجاب نے ادینہ بیگ خان کی قیادت میں مسلمان پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں کے اتحاد و پنجابی ھم آھنگی کی وجہ سے اور ادینہ بیگ خان کی سیاسی مہارت  و سیاسی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ سکھ پنجابیوں کی مسلح جسمانی طاقت کی وجہ سے جنوبی ایشیا کی ایک طاقتور سیکولر  پنجابی ریاست ھونا تھا۔

بحرحال ادینہ بیگ خان کے مشن کو 1799 میں مھاراجہ رنجیت سنگھ نے مکمل کیا۔ تقریبا 777 سال تک غیر ملکی حکومتوں کے سلسلے کے بعد جوکہ ھندو شاھی حکمراں راجہ ترلوچن پال کو شکست دے کر 1022 میں محمود غزنوی سے شروع ھوا تھا اور 7 جولائی 1799 کو مھاراجہ رنجیت سنگھ کے لاھور کے دروازوں میں داخل ھونے تک جاری رھا ' پنجابیوں نے اپنے ملک پر آزاد حیثیت میں حکومت نہیں کی تھی۔ مھاراجہ رنجیت سنگھ نے لاھور کو دارالحکومت بنا کر 12 اپریل 1801 کو پنجابی سلطنت قائم کرنے کے بعد سیکولر پنجابی حکمرانی کے ساتھ خیبر پختونخواہ ' وادی کشمیر' لداخ ' گلگت بلتستان کو فتح کرکے دوبارہ پنجاب کی سلطنت میں شامل کر لیا اور 40 سال تک پنجاب پر حکمرانی کرتے ھوئے پنجاب کو برطانوی حملہ آوروں سے بھی بچا کر رکھا۔