Saturday, 11 February 2017

پنجاب ' نصاب اور ہیرو - تحریر - محمّد بابر - دسمبر 2014

اُٹھ شاہ حُسینا ویکھ لَے، اسیں بدلی بیٹھے بھیس
ساڈی جِند نمانی کُوک دی،اسیں رُل گئے وچ پردیس

۱۴ اگست١٩٤٧ء کو جب ہم نے ’’آزادی کی دُلہن‘‘ کا استقبال کیا تو وہ اپنے ساتھ سسرال سے بہت سارا جہیز بھی لائی۔ ملکہ برطانیہ کی بیٹی اور ساری دنیا کے مامے کی بھانجی جو تھی آخر۔ اس میں ’’نظامِ تعلیم‘‘ نامی ایک ایسی واشنگ مشین بھی تھی کہ جس میں دھل کر سوچنے، سمجھنے یا سوال کرنے کی آزادی تو کیا، سوال کرنے پر ایسے تھپیڑے پڑتے ہیں کہ دوبارہ کبھی کوئی جرات نہیں کرتا۔ اور شادی، مطلب کہ ’’آزادی‘‘ کے بعد ریاست کے داماد یعنی ملٹری والوں نے اس مشین میں ایک نیا فنکشن لگایا کہ اب مشین دُھلے لوگوں پراول تو داغ لگتا ہی نہیں بلکہ اس میں دھل کرتو یہ لگتا ہے کہ ہر داغدار پینٹ پتلون یہودوہنود کی سازش ہے اور ہر دھبوں والا کرتاشلواردشمنانِ پاکستان کے کرتوتوں کا نتیجہ۔

ہمارے سماج میں نصاب کی کتب کے علاوہ تاریخ پڑھنے کا رجحان بھی نہیں پایا جاتا ہے اور تاریخ گوئی کے تمام مقامی ثقافتی طریقہ کار کو بھی ناپید کر دیا گیا ہے۔ یہاں جنم لینے والے افراد کی ذہنی حالت ایسی ہی ہوتی ہے(جیسی ہماری ہے) کہ جیسے کسی شخص کا۳۰ برس کی عمر میں حافظہ مکمل طور پر کھو جائے۔ تو پھر اگر آپ اُس کو یہ بتائیں کہ اُس کا نام اللہ رکھا ہے اور اُس کا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے کہ جہاں کے لوگ اجڈّوں اور جاہلوں کی زبان بولتے ہیں، بے حیائی والا لباس پہنتے ہیں، کافروں والی رسومات رکھتے ہیں اور گھٹیا ثقافت اُن کا ورثہ ہے، تو وہ آپ کی بات پر مِن و عَن یقین کر لے گا۔ چاہے پھر وہ وقت کا سَرمد یا سُقراط ہی کیوں نہ ہو۔ چاہے اُس کا لباس کیسا بھی ہو، اُس کے آباء و اجداد کے رسم و رواج کتنے ہی اعلیٰ کیوں نہ ہوں وہ کسی انمول تہذیبی و ثقافتی ورثے کا وارث ہی کیوں نہ ہو۔ چاہے اُس کا تعلق پنجاب یعنی ایک ایسے خطے سے ہی کیوں نہ ہوجس کے بارے میں میرے ایک بزرگ کہتے ہیں کہ:

’’مُلّا جو ایک لوٹے پانی کے ساتھ منہ ہاتھ دھو کر کہتا ہے کہ وہ پاک ہو گیا ہے تو پھر اُس دھرتی کی عظمت اور پوِتر ہونے کے بارے میں کیا کہا جائے کہ جہاں دریا ہاتھ کی انگلیوں کی طرح بہتے ہوں۔‘‘

اج آکھاں وارث شاہ نوں کِتوں قبراں وچوں بول
تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلہ ورقہ پھول

ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب ’’تاریخ کے نئے زاویے‘‘ میں لکھتے ہیں کہ تاریخ نویسی میں واقعات، شہادت اور تاویل وتفسیر تمام اہم عناصر ہیں۔ ان کے مطابق واقعات میں جب تجزیہ اور تاویل کی روح پھونکی جائے تب ہی یہ ’’جیتے، جاگتے اور متحرک ہو جاتے ہیں۔‘‘ مزید لکھتے ہیں کہ:

’’جب مؤرخ واقعات کا تذکرہ کرتا ہے تو ان کو کسی عنوان ، نظریہ اور فکر کی بنیاد پر بیان کرتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں تاریخ کو کسی ایک نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ کئی نقطہ ہا کی نظر سے لکھا جاتا ہے۔ اس وجہ سے تاریخ میں ٹھہراؤ پیدا نہیں ہوتاہے اور یہ نئی تاویل کے ساتھ تازگی کے ساتھ ابھرتی ہے اور نئے معنی و مفہوم کو روشناس کراتی ہے۔‘‘

ہمارے نصاب کے بارے میں بھی یہ کہا جا سکتا ہے۔ ایک نظر اردو، اسلامیات اور معاشرتی علوم پر ڈالیں، جنہیں مطالعہ پاکستان کہ نام سے مشترکہ بھی پڑھایا جاتا ہے۔ اوّل تو اِن مضامین میں کوئی خاص فرق ہی نہیں نظر آتا۔ اور دوم یہ کہ بالخصوص جس انداز میں معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان میں کچھ لوگوں کو ہیرو بنا کو پیش کیا جاتا ہے وہ ایک طرف تو سراسر جھوٹ پر مبنی ہے اور دوسری طرف یہ کسی بھی طرح اِس خطے کی عوام اور دھرتی ماتا سے جُڑی ہوئی تاریخ ہے ہی نہیں۔

مثال کے طور پر مُغل حکمرانوں کے مسلمان ہونے کی بنیاد پر ان کی وہ حمد و ثناء بیان کی جاتی ہے کہ اکثر ’’پڑھے لکھے‘‘ حضرات کے سامنے شہنشاہ اورنگزیب کے بارے میں کوئی منفی بات کر دی جائے تو اُن کا ردِ عمل ایسا ہوتا ہے کہ جیسے کسی صحابیِ رسول کی شان میں گُستاخی کر دی گئی ہو۔ حالانکہ نصاب سے ہٹ کر تاریخ کی کُتب کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اورنگزیب نے اپنے بھائیوں کو قتل کیا، باپ کو قید میں رکھا اور بعض حوالوں کے مطابق تو اُس کی آنکھیں تک نوچ لیں۔ لیکن ہمارے نصاب کہ مطابق تو وہ ولی اللہ تھا جو ہاتھ سے قرآن پاک کے نسخے لکھتا، نمازیوں کے لیے ٹوپیاں بناتا اور اس کے معاوضے سے اپنا گھر بار چلاتا۔ تو بھلا وہ کاروبارِ سلطنت کس وقت چلاتا تھا۔ اسی طرح مُغل شہنشاہ اکبر کونصاب میں ’’اکبرِاعظم‘‘ لکھا جاتا ہے کہ جس نے سارے ہندوستان کواپنے سامنے سرنِگُوں کر لیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ بہت روادار تھا۔

لیکن نصاب کی کسی کتاب میں ایک لائن تک نہیں لکھی گئی کہ ’’دُلّا بھٹی‘‘ کون تھا؟ کہاں کا رہنے والا تھا؟ وہ مغلوں کی فوج کا سپاہی تھا یا جرنیل؟ ’اکبرِ اعظم ‘کے ساتھ اُس کا جھگڑاریوڑیاں بانٹنے پر ہوا تھا کیا؟ دُلّے کے باپ کو کس جُرم میں قتل کیا گیا ؟ لاہور کے شاہی قلعے پر کس کی لاش کے چار ٹکڑے کر کے ستونوں پر لٹکائے گئے تھے؟ ایسے بہت سارے اور کردار جو نصاب میں کہیں بھی جگہ نہیں بنا سکے وہ در حقیقت عام لوگوں کے ہیرو تھے۔

اندر کھوٹ باہر سچیار
علموں بس کریں او یار

اگرچہ نصاب میں تو پچھلے 65 برس سے کوئی ’’خلافِ شرع‘‘ یا ’’خلافِ پاکستان‘‘ چیز شامل نہیں کی گئی لیکن ان ہیروز کی کہانیا ں دوسرے طریقوں سے لوگوں تک پہنچتی رہیں۔ شاید آپ نے پنجاب کے حوالے سے عنائیت حسین بھٹی، عاشق جٹ اور عالم لوہار کے تھیڑگروپ کے بارے میں سنا بھی ہو۔ اس قسم کے تھیٹر گروپ آج سے کوئی بیس تیس برس پہلے تک بہت زورو شور کے ساتھ موجود رہے۔ یہ سٹیج پر پُورن بھگت ، دُلّا بھٹی ، جھانسی کی رانی، ملنگی، چن وریام، نظام لوہار، رائے احمد خاں کھرل ، داد فتیانہ، بھگت سنگھ، سوہنی مہینوال، ہیر رانجھا، سسّی پُنّوں، مرزا صاحباں اور ایسے بہت سارے کرداروں کو نہ صرف باقاعدہ پرفارم کرتے بلکہ قصہ گوئی میں بیان بھی کیا کرتے اور گیت کی شکل میں گاتے بھی۔ ایسے بہت سے کردار جونصابی تاریخ اور ہمارے حافظے کا حصہ نہ بن سکے، تھیٹر، بچہ جمُورا اوردیگرکھیلوں کی طرز پر میلوں ٹھیلوں میں پیش کیے جاتے رہے اور لوگوں کو اُن کی تاریخ اور اُن کے اصل ہیروز سے جوڑے رکھنے کا سبب رہے۔

ان کہانیوں میں محبت، رواداری، اور انسانیت کے درس کے ساتھ ساتھ حاکمانہ جبر اور ظلم کے خلاف بغاوت کا سبق بھی ہے۔ سّسی پُنّوں، ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں اور اس طرح کے دوسرے قصے ایک طرف عشق و محبت کا درس دے رہے تھے اور دوسری طرف جاگیردارانہ سماج کی اقدار کے خلاف بغاوت کا جذبہ پیدا کر رہے تھے۔ بھگت کبیر ، بابا بُلھے شاہؒ ، خواجہ غلام فریدؒ ، میاں محمد بخشؒ ، بابا گرونانک، بابا فریدؒ ، بابا وارث شاہؒ ،سلطان العارفین حق باہوسرکارؒ اور ایسے بہت سے دوسرے صوفی دانشور اور شعراء جہاں لوگوں میں باکمال مذہبی رواداری کا عملی نمونہ تھے وہیں مقتدر طبقات کے خلاف کلمہِ حق بیان کرنے کا راستہ دکھاتے ہوئے سرِدست سب سے آگے کھڑے تھے۔ دُلّا بھٹی، رائے احمد خاں کھرل، داد فتیانہ، جھانسی کی رانی، ملنگی، نظام لوہار، بھگت سنگھ اورتو یہ حاکموں کے ظلم و جبر میں پِسے ہوئے عوام کو درسِ بغاوت دینے کے علاوہ آج کے ’پڑھے لکھے‘ نصابی علم کے طابع حلقوں کے جبر کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ وہ جبر جس کے ذریعے مغلوں اور دوسرے حملہ آوروں کی حمد و ثناء پڑھ کر ، اسلام کا عظیم رکھوالا گردان کر، اور ان کے راج کو مسلمانوں کا ہزار سالہ شاندار دورِ حکومت قرار دے کر وہ اُن کے خلاف لڑنے والے عام لوگوں ، کسانوں ، مزدوروں ، عورتوں، بچوں، بوڑھوں، ہندوؤں ، سکھوں، مسلمانوں ، عیسائیوں کی داستانوں اور جہد پر پردہ ڈالے ہوئے ہیں۔

اَساں بیجے رُکھ انار دے سانوں لبّھے تُمّے کَوڑ
اَساں مرن دیہاڑ اُڈیک دے ساڈی ود دی جاوےَ سوڑ

ہمارے ہاں نصاب میں مسلم اور غیر مسلم کی ایک بہت واضح تقسیم کی گئی ہے لیکن میں حیران ہوں کہ رائے احمد خاں کھرل یا دُلّابھٹی کو اس تقسیم میں ناجانے کیوں مسلمانوں کے ساتھ نہیں لکھا گیا؟ نصاب میں اس بات کا معمولی سا تذکرہ تک موجود نہیں کہ رائے احمد خاں کھرل اور داد فتیانہ کون تھے؟ بلکہ میرے خیال میں ۲۰۱۲ء میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے والے سٹوڈنٹس کو اگر انٹرویو کیا جائے تو یقیناً ۹۹۔۹۹ فیصد سٹوڈنٹس اِن کا نام تک نہیں جانتے ہوں گے۔

در حقیقت بھگت سنگھ ، دُلّا بھٹی ، نظام لوہار، ملنگی، سوبھاش چندر بوس اور ماسٹر تاراسنگھ آزادی کے وہ متوالے تھے جنہوں نے مذہبی تفریق کے بغیراپنی اپنی سطح پرتمام حملہ آوروں ، بشمول انگریزسرکار اور اس کے اتحادی جاگیرداروں کے خلاف جدوجہد کی۔ برطانوی سرکار نے ان آزادی کے متوالوں کو چور، ڈاکو اور باغی کے خطاب دے کر پھانسیاں دیں اور انہیں سرکاری تاریخ کے اورراق میں ایسے روند ڈالا کہ آج ہماری تاریخ بھی ان کو ڈاکو ہی قرار دیتی ہے ۔ ہمارےآج کے حکمران اپنے آقاؤں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اِن دیوانوں کے خیالات اور جدوجہد سے خوفزدہ ہیں کہ اگر عوام کو پتا چل جائے کہ یہ لوگ ہماری دھرتی کے ہیرو ہیں تو ظلم و جبر ، مہنگائی ، ناانصافی، غربت، بے روزگاری اور سامراج کی مسلط کردہ جنگوں سے تنگ عوام ان حکمرانوں کو نشانِ عبرت بنا دیں گے ۔ مقامی مزاحمت کی مقبولیت کے لیے ملنگی کے بارے میں مشہور محاورہ بہت خوب ہے کہ:

دِنے راج فرنگی دا تے راتِیں راج ملنگی دا۔

ان ہیروز کی تاریخ مٹانے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکمران عام لوگوں کا اس مٹی سے رشتہ توڑنا چاہتے ہیں تاکہ ہمیں یہ معلوم ہی نہ ہو سکے کہ اس دھرتی پر بھی کوئی عظیم لوگ پیدا ہوئے۔ کوئی دانشور، کوئی سُورمے، کوئی قلندر، کوئی دیوانے، جنہوں نے اس دھرتی کا ہونے کا ثبوت دیا۔ جنہوں نے اپنا رشتہ شاہ کے دربار سے نہیں بلکہ جھونپڑی والوں سے جوڑا۔ جنہوں نے شاہ کی زبان پر عبور ہوتے ہوئے لوگوں کی زبان اپنائی ۔ جنہوں نے مراعات کی خاطر شاہ کے قصیدے نہیں لکھے بلکہ لوگوں کی بات کی۔ اِس طرح لوگوں میں یہ احساس زور پکڑتا ہے کہ تہذیب حملہ آوروں کی ثناء خوانی میں نہیں اپنوں کے بیان میں ہے۔

اسیں پُتر ہیں پنجاب دے ساڈی رہتل گئی گواچ
اسیں اپنا آپ پچھانیئے سانوں نئیں پئی اُوندی جاچ
ساڈی ڈور کِسے دے ہتھ اے اسیں نچیئے پُتلی ناچ
اسیں ڈِھڈُوں ہاراں منِّیاں ساڈے جُسّے نئیں کمزورے

بابا بلھے شاہؒ کی وفات پر درباری قاضیوں نے یہ فتویٰ صادر فرمایا کہ ’’عبداللہ شاہ غازی المعروف بلھے شاہ دائرہ اسلام سے خارج ہو چکا تھا لہٰذا اِس کی نمازِ جنازہ پڑھانا شرعاَ جائز نہیں۔‘‘ کہتے ہیں کہ بابا جی کی لاش تین روز تک پڑی رہی اور اُن کے آبائی قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے شہر کے پچھواڑے دفن کیا گیا۔ ہو سکتا ہے کہ لاش کی تدفین بروقت کر دی گئی ہو، لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس وقت کے مُلّا کا کردار کیا تھا اور آج کے مُلّاؤں کا کیا، جنہیں اب قاضی، مولانا ، شیخ الاسلام اور ڈاکٹر کے القابات سے بھی پکارا جاتا تھا۔

اس کا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ کل کامُلّا قبضہ گیروں کادرباری ملازم تھا اور مذہب میں سے تاویلات نکال کر اپنے مالکوں کے قبضہ کو منشاءِ خداوندی اور اپنے مالکوں کو خدا کے نائب ثابت کرنے کی کوشش میں لگا رہا ۔ اور آج وہ اپنے آبائی آقاؤں کے ملازموں کی دولت کو خدا کی کرم نوازی ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے ۔ لوگوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی تگ و دو کر رہا ہے کہ کہیں لوگ مظلومیت کی سانجھ کی بنیاد پر اکٹھے ہو کر اُس کے موجودہ آقاؤں کی ہڈیاں نہ چبا جائیں۔

ہمارے آج کے مُلّاؤں کو تو یہ ڈر ہے کہ اگر ہم نصاب کے ذریعے دھرتی اور زبان سے رشتہ جوڑ دیں تو ان قابلِ قدر مُلّاؤں کی مذہبی جنونیت کی تقلید نہیں ہو پائے گی اور لوگ جوق در جوق دائرہِ اسلام سے خارج ہو جائیں گے۔ اور یہ مُلّاتو وہ لوگ ہیں جن کے نزدیک دوسرے مذہب تو ایک طرف اپنے ہی مذہب کے لوگوں کو تھوک کے حساب سے قتل کرناکارِ ثواب سمجھا جاتا ہے۔ ان کو ڈر ہے کہ کہیں لوگ بابا بلھے شاہ جیسے لوگوں کی تقلید شروع نا کر دیں۔ ایسے لوگ جن کے ہاں آج بھی مختلف مذاہب کے پیروکار اکٹھا دھمال ڈالتا ہیں اور جو اپنے عمل سے چڑیا کو باز سے ٹکرا جانے کا حوصلہ دیتے ہیں۔

نہ مِیں مومن وچ مسیتاں
نہ مَیں وچ کفر دیاں ریتاں
نہ مَیں موسیٰ نہ فرعون

جس طرح بابابلھے شاہؒ کے جنازے پر قاضیِ وقت نے فتویٰ دیا ، بالکل اُسی طرح باباجی وارث شاہؒ کو ملکہ ہانس سے قاضی کے فتویٰ پر دھکے دے کر نکالا گیا۔ جس مسجد کے حجرے میں بیٹھ کر بابا جی نے ہیر رانجھے کی داستان لکھی، گلی کی ایک طرف یہ مسجد ہے اوردوسری طرف ہندوؤں کا تاریخی مندر ۔ اس مندر کے آثار آج بھی شاید اس لیے موجود ہے کہ ابھی تک کسی اسلام کے ٹھیکیدار کو اس تاریخ کو مسخ کرنے کا خیال نہیں آیا۔ بابا جی کے کلام اور تاریخ کے صفحات میں کہیں بھی ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ ملکہ ہانس میں کبھی کوئی ہندو مسلم فساد ہوا ہو ۔ اب ان لوگوں کو نصاب میں جو جگہ دی گئی ہے اُس کا یہ عالم ہے کہ بابا وارث شاہؒ کا تذکرہ شائد چھٹی یا ساتویں جماعت کی اردو کی کتاب میں اِس انداز میں موجود ہے کہ جس کو پڑھ کر یا تو یہ لگتا ہے کہ بابا جی اپنے اعمال پر بہت شرمندہ ہیں یا پھر یہ لگتا ہے کہ بابا جی خود کوئی مولانا تھے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ پنجابی کا مضمون جو کہ اختیاری حیثیت میں ایف اے اور بی اے کے نصاب میں موجود ہے ۔اوّل اِس کو لوگ صرف بہتر نمبر حاصل کرنے کے لیے پڑھتے ہیں اور دوّم یہ کہ پنجاب یونیورسٹی کے اصولوں کے مطابق آپ پنجابی کا پرچہ اردو میں بھی حل کر سکتے ہیں۔

پچھلے ۶۷ سالوں سے ریاست کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ اِن صوفی دانشوروں کے ساتھ ساتھ اس خطے کی تمام زبانوں کے ایسے تمام لوگوں کو تاریخ سے یا تو مکمل طور پر غائب کر دیا جائے یا ان کے چہروں کو مسخ کر دیا جائے۔ اس کی سادہ سی مثال یہ ہے کہ ان کے کلام کسی بڑی بُک شاپ میں مشکل سے اور ہر جگہ فٹ پاتھ پر بیٹھے جنسی ناول اور نسخوں کے کتابچے بیچنے والوں کے ہاں عام مل جائیں گے۔ جب کہ ان عظیم لوگوں کے حوالے سے پورے ملک میں ایک سکول تک موجود نہیں۔

اساں مَورہ پیتا سچ دا ساڈے نِیلے ہو گئے بُل
اساں رہ گئے کَل مُکلّڑے ساڈاوَیری ہویا کُل

خواجہ غلام فریدؒ کوٹ مٹھن والوں کو اگر دیکھا جائے تو آپ کو پنجابی کے علاوہ چار اور مختلف زبانوں پر عبور حاصل تھا جن میں درباری زبانوں فارسی اور اردو کے علاوہ عربی اور سنسکرت شامل تھیں لیکن انہوں نے نہ تو دربار کا رخ کیا اور نہ درباری زبانوں کو ذریعہِ اظہار بنایا بلکہ لوگوں میں رہتے ہوئے یعنی دہلی اورلاہور کے تخت سے سینکڑوں میل دورڈیرہ لگایا اور لوگوں کی زبان میں، لوگوں میں رہتے ہوئے، لوگوں کی بات کی۔

نال جوگ کر۔۔۔ کالا ویس
رانجھا ٹُریا ۔۔۔رنگ پور دیس
ہِیرنَمانی۔۔۔ پئی اُڈیکے
آوے رانجھا۔۔۔ بن درویش

نصابی کتب میں مغلوں کے بعد انگریزوں اور پھر جدوجہدِ آزادی کے بارے میں بیان تو اور بھی زیادہ بھیانک ہے۔ ایسا تصور دیا جاتا ہے کہ ایک رات رات علامہ اقبال نے خواب دیکھا اور اگلے دن قائداعظم نے لندن سے آ کر خواب کو حقیقت میں بدل دیا ۔ جیسے پاکستان نہ ہوا ریت کا گھروندا ہو گیا جسے کراچی کے ساحل پر جھٹ سے بنا دیا۔ ویسے 65 سال سے ریاست اور ’’پاک‘‘ فوج جیسے ملک کو ’’نازک موڑ‘‘ سے مستقل مڑوا رہی ہیں اِس سے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ شاید پاکستان ریت کا بنا ہوا ہے۔ پھر نصابی کتب میں انگریزدور کا تذکرہ یہ ہے کہ سائمن کمیشن، کیبنٹ مشن ، نہرو رپورٹ وغیرہ، یعنی تاریخ نا ہوئی آقاؤں اور شرفاء کا میٹنگ شیڈول ہو گیا۔ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جیسے انگریز وں کے دلوں میں مسلمانوں کے لیے خاصہ نرم گوشہ تھا اورحقیقی دشمن تو ہندو تھے۔ تو انہیں انگریزمسلم میٹنگوں کے بعد بابائے قوم نے ’’آزادی‘‘ کا کیس لڑا ا ور جیت بھی گئے۔

اگر کسی شہر میں قبضہ مافیاچار مرلے کے پلاٹ پر قبضہ کر لے تو وہ بھی تب تک نہیں چھوڑتے جب تک کہ قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ طاقت کا استعمال نہ کیا جائے ۔ اسی طرح گاؤں میں اگرکوئی آپ کی زمین پر قبضہ کر لے تو زمین کا ٹکڑا واپس حاصل کرنے کے لیے اکثر بندوق کا استعمال اور کافی خون خرابہ ہوجاتا ہے۔ تو کیسے ممکن ہے کہ برطانوی سامراج جس کے قبضے میں اتنی زمین تھی کہ کہا جاتا تھا کہ ملکہ برطانیہ کی سلطنت پر کبھی سورج غروب ہی نہیں ہوتا، اس قبضہ چھڑانے کے لیے ایک فلسفی شاعر کا خواب اور ایک وکیل کا جرح کافی تھا؟

صرف پنجاب کی بات کریں تو یہاں بنگال کی نسبت قریبا سو سال بعد برطانوی قبضہ ہوا۔ تو وہ خطہ جس کی تاریخ میں ایک بار ایسا نا ہوا کہ بیرونی حملہ آوروں کے قبضہ کے جواب میں اُس دھرتی کے لوگوں نے ہتھیار نہ اٹھائے ہوں اور جانوں کے نذرانے پیش نہ کیے ہوں۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ برِصغیر میں کسی نے برطانوی سامراج کے خلاف بندوق نہ اٹھائی ہو؟ دُلّا بھٹی، رائے احمد خاں کھرل، داد فتیانہ، بھگت سنگھ، سوبھاش چندر بوس اور ایسے بہت سارے دوسرے لوگ دراصل وہی ہیں جنہوں نے مغلوں اور انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے دھرتی ماں کی آزادی کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

میں قربان تِنہاں توں باہوؒ
جنہاں عشق سلامت کیتا ہُو

نصاب ریاست قابض لوگ ترتیب دتیے ہیں۔ یعنی مقتدر طبقات یہ طے کرتے ہیں کہ نصاب میں کیا پڑھایا جائے گا اور کن کو ہیرو بنا کر پیش کیا جائے گا۔ یقیناًآپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ انگریزوں کے یہاں قبضہ کرنے سے قبل برِصغیر میں زمین کے کاغذات نہیں ہوا کرتے تھے مطلب کہ زمین کا کوئی بھی شخص مستقل مالک نہیں ہوتا تھا بلکہ جو شخص جتنی زمین آباد کرتا وہ اس کے حساب سے شہنشاہِ وقت کو اُس کے نمائندہ وعارضی جاگیرداروں کے ذریعے ٹیکس ادا کرتاتھا۔ انگریز نے قبضہ کرنے کے بعد مستقل ملکیت کے ساتھ ساتھ زمین کی خریدو فروخت کا تصور دیا۔ لہٰذ ا برِصغیر پر قبضہ کرنے میں جن مقامی لوگوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا اور دھرتی ماں کے ساتھ غداری کی، انگریزوں نے انہیں اور ان کے حامیوں کو ہزاروں مربع ایکڑ زمینیں انعام و اکرام میں دیں۔

اسی لیے جو لوگ انگریز سرکار کے خلاف تھے وہ اسکے دلالوں کے خلاف بھی لڑتے رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۹۴۷ء کے بعد جب انگریز کے وفادار یعنی جاگیرداروں نے ملک پر قبضہ کر لیا تو انہوں نے تاریخ کے صفحات سے ان تمام لوگوں کو نکال باہر کیا جو اِن کے آقاکے ساتھ ساتھ ان کے بھی خلاف تھے۔

آ ویکھ سُخن دیا وارثا تیرے جنڈیالے دی خیر
اج پُتر بولی ماں دے پئے ماں نل رکھن وَیر
اج ہِیر تیری پئی سہکدی اج کیدو چڑیا رنگ
اج تخت ہزارے ٹئے گئے اج اُجڑیا تیرا جھنگ

اپنے ماضی کے آقاؤوں سے وفاداری کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہے کہ ’’آزادی‘‘ کے ۶۷ برس بعد بھی ہمارا تعلیمی نظام اس خطے کی تمام زبانوں کی نفی کرتا ہے۔ تاریخی آقاؤں کی زبانوں کو ملک میں نہ صرف رائج کر دیا گیا ہے بلکہ نصاب اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے پوری ریاستی طاقت عوام کو اس بات کا یقین دلانے میں لگا دی کہ اس خطے کی ماں بولیاں اس قابل نہیں کہ ان میں تعلیم دی جاسکے ۔ بتلایا یہ جاتا ہے کہ مقامی زبانیں سائنس کی زبان بننے کی اہلیت نہیں رکھتی اور ان میں ارتقاء کا عمل رک گیاہے ۔ اس ساری بات سے بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ حکمران لوگوں کو یہ باور کرانے کے درپے ہو گئے کہ اُن کی مادری زبانیں دراصل اجڈوں اور جاہلوں کی زبانیں ہیں، پسماندہ ہیں اور اگر آپ لوگ مہذب اور جدید بننا چاہتے ہیں تو ہمارے آقاؤں کی زبانیں سیکھو۔

دوسری طرف مُلّا یہ ثابت کرنے کی آج تک بھر پور کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کی زبان تو عربی ہے اور باقی ساری زبانیں کافروں کی ہیں اور یہ کہ مرنے کے بعد فرشتے حساب کتاب بھی عربی میں ہی لیں گے۔ میں تو اکثر سوچتا ہوں کہ اگر یہ بات سچ ہے تو ہم تو چلو ہیں ہی کالے اعمال والے لیکن یہ بابا بلھے شاہؒ اور اُن جیسے دوسرے لوگوں کا کیا بنے گا؟

میری سمجھ میں تو یہ آتا ہے کہ ان سب لوگوں کی وفاداریاں اور عقیدت چونکہ سرحد پار بیٹھے اپنے آقاؤں کے ساتھ تھیں اور شاید اب بھی ہیں، اس لیے یہ نہیں چاہتے ہیں کہ لوگ اپنی اس مٹی کی زبانوں کو اپنائیں ۔ کیونکہ اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلے گا کہ لوگ اپنا رشتہ اپنی تہذیب، اپنی تاریخ اور اپنی دھرتی سے جوڑ لیں گے اور یہی چیز ان حکمرانوں کے اقتدار کے لیے زہرِ قاتل ہے اور آج بھی وہ اسی سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں کوئی سچل سرمستؒ ، رحمان باباؒ ، بلھے شاہؒ ، اور وارث شاہؒ کا وارث نہ پیدا ہو جائے۔

بلھے شاہؒ ۔۔۔ اساں مرنا ناہیں
گو ر پیا کوئی ہور

محمّد بابر نیشنل سٹوڈنٹش فیڈریشن پنجاب کے علاوہ بائیں بازو کی جماعت عوامی ورکرز پارٹی سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا یہ مضمون این ایس ایف کے جریدہ طالب علم میں شایع ہو چکا ہے۔