Wednesday, 15 February 2017

آئندہ کا بھارت صرف اتر پردیش ھوگا۔

بین الاقوامی طاقت وہ ھی ھوتی ھے جسکا بحر ھند پر کنٹرول ھو۔ سی پیک کھیل بحر ھند پر کنٹرول کا کھیل ھے۔ اس لیے جنوبی ایشیا ' مڈل ایسٹ ' سینٹرل اشیا بشمول روس ' ایران اور دوسرے ملک ' سب پھنسے ھوئے ھیں۔ امریکہ یا چین میں سے کسی ایک کھلاڑی کے ساتھ ھونا پڑنا ھے۔ آپ نے وہ سنا ھے ؛ اکو پاسا ریہنا ھیرے ۔ یا کھیڑے یا رانجھا۔

سی پیک کھیل بہت لمبا ھے۔ کھیل بین الاقوامی ھے۔ مسئلہ بحر ھند کا ھے۔ اصل کھیل 2020 سے 2030 تک کھیلا جائے گا اور بحرِ ھند میں کھیلا جائے گا۔ چین نے 2020 سے بحرھند سمبھالنا شروع کرنا ھے اور 2030 تک بحرھند پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کرنی ھے۔ امریکہ کی نفسیات جلد بازی والی ھے۔ جبکہ چین کی نفسیات لمبے وقت تک انتظار کرنے کی ھے۔ ٹائم کے مسئلے میں امریکہ مار کھا رھا ھے۔ چین نے ابتدائی کھیل میں سی پیک کے کھیل کے نام پر پاکستان کو آگے کیا ھوا ھے اور امریکہ نے سی پیک کے کھیل کو ناکام بنانے کے لیے بھارت کو آگے کیا ھوا ھے۔ چین تو 2020 سے کھل کر میدان میں آئے گا۔ اس وقت تک امریکہ کیا کرے؟ بھارت نے امریکہ کی بیگار میں جنگ کی تو پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ والا کام کر بیٹھے گا اور اسکا حال بھی یو۔ ایس ۔ ایس ۔ آر والا ھونا ھے۔

برٹش انڈیا بہت سی چھوٹی چھوٹی کمیونٹیز اور قبائل کے ساتھ ساتھ تیرہ بڑی قوموں پر مشتمل تھا۔ یعنی؛ 
بنگالی قوم ' ھندوستانی قوم (یوپی ' سی پی کے ھندی-اردو اسپیکنگ) ' پنجابی قوم ' مراٹھا قوم ' تیلگو قوم ' تامل قوم ' راجستھانی قوم ' گجراتی قوم ' بھوجپوری قوم ' کناڈا قوم ' اوریا قوم ' مالایالم قوم ' آسامی قوم۔

تاہم "دو قومی نظریہ" کی بنیاد پر برٹش انڈیا کی ھندو ریاست بھارت اور مسلم ریاست پاکستان میں تقسیم کے بعد بھارت ھندوستانی قوم (یوپی ' سی پی کے ھندی-اردو اسپیکنگ) ' مراٹھا قوم ' تیلگو قوم ' تامل قوم ' راجستھانی قوم ' گجراتی قوم ' بھوجپوری قوم ' کناڈا قوم ' اوریا قوم ' مالایالم قوم ' آسامی قوم کے علاوہ ھندو بنگالی ' ھندو پنجابی ' سکھ پنجابی اور بہت سی چھوٹی چھوٹی کمیونٹیز اور قبائل کا ملک بن گیا۔ جبکہ بہت سی چھوٹی چھوٹی کمیونٹیز اور قبائل کے ساتھ مشرقی پاکستان بنگالی مسلمانوں اور مغربی پاکستان پنجابی مسلمانوں کے لیے ایک ھی ملک بن گیا۔

حقیقت تو یہ ھے کہ برٹش انڈیا کی سب قوموں کی سماجی ' معاشی اور سیاسی خوشحالی کے لئے برٹش انڈیا کو تیرہ بڑی قوموں یعنی؛ بنگالی قوم ' ھندوستانی قوم (یوپی ' سی پی کے ھندی-اردو اسپیکنگ) ' پنجابی قوم ' مراٹھا قوم ' تیلگو قوم ' تامل قوم ' راجستھانی قوم ' گجراتی قوم ' بھوجپوری قوم ' کناڈا قوم ' اوریا قوم ' مالایالم قوم ' آسامی قوم کے ملکوں کے طور پر تقسیم کیا جانا چاھیئے تھا۔ کیونکہ مذھب ھر فرد کے لیے اپنے اخلاقی کردار کی تعمیر اور روحانی نشو نما کی تشکیل کے لئے ' ایک ذاتی معاملہ ھے۔ نہ کہ سیاسی معاملات ' سماجی غلبے اور دنیاوی امور کی اقتصادی ھیرا پھیری کے لئے حربہ۔ اس لیے مذھبی جذبات پیدا کرکے اور مذھبی نفرت کو فروغ دے کر ' مذھبی تقسیم کی بنیاد پر "دو قومی نظریہ" تشکیل دے کر برٹش انڈیا کو تقسیم کرنا غلط تھا۔

جبکہ مسلمان بنگالیوں کے مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرکے ' مشرقی پاکستان کا نام تبدیل کرکے بنگلا دیش رکھنے کے بعد ' مغربی پاکستان کا نام پاکستان رکھنا بھی ایک جذباتی ' غیر منطقی اور موقع پرست فیصلہ تھا۔ حقیقت تو یہ ھے کہ مغربی پاکستان کی اکثریت کے پنجابی ھونے کی وجہ سے ' مغربی پاکستان کے نام کو پنجابستان کے نام کے طور پر تبدیل کیا جانا چاھیئے تھا۔

بحرحال "دو قومی نظریہ" کو رد کرکے ' مسلم ریاست پاکستان سے مسلمان بنگالیوں کی علیحدگی اور مشرقی پاکستان کا نام تبدیل کر کے ایک سیکولر بنگالی قومی ریاست کے طور پر بنگلا دیش کو وجود میں لانے سے مغربی پاکستان ایک پنجابی اکثریتی ریاست بن چکا ھے۔ اس لیے اب مراٹھا قوم ' تیلگو قوم ' تامل قوم ' راجستھانی قوم ' گجراتی قوم ' بھوجپوری قوم ' کناڈا قوم ' اوریا قوم ' مالایالم قوم ' آسامی قوم کی آزادی کے بعد ھندو بنگالیوں کی بنگلا دیش میں شمولیت ' سکھ پنجابیوں اور ھندو پنجابیوں کی پاکستان میں شمولیت کے ساتھ ساتھ پنجابستان کے طور پر پاکستان کے نام کو تبدیل کرنا برصغیر ھند کے امن و امان جبکہ بنگالی قوم ' پنجابی قوم ' مراٹھا قوم ' تیلگو قوم ' تامل قوم ' راجستھانی قوم ' گجراتی قوم ' بھوجپوری قوم ' کناڈا قوم ' اوریا قوم ' مالایالم قوم ' آسامی قوم اور چھوٹی چھوٹی کمیونٹیز و قبائل کی سماجی ' اقتصادی اور سیاسی خوشحالی کے لیے انتہائی ضروری ھے۔

یو۔ ایس ۔ ایس ۔ آر اور امریکہ کا کھیل بھی بحرھند پر قبضے کے لیے تھا۔ چین اور امریکہ کا کھیل بھی بحرھند پر قبضے کے لیے ھے۔ یو۔ ایس ۔ ایس ۔ آر اور امریکہ کے کھیل میں یو۔ ایس ۔ ایس ۔ آر بکھر گیا تھا۔ چین اور امریکہ کے کھیل میں بھارت نے بکھر جانا ھے۔ بھارت پاکستان کے ساتھ سرحدی جنگ نہیں کرسکتا۔ اس لئے اب پہلے سے جاری پراکسی جنگ کو بڑھائے گا۔ جبکہ پاکستان نے بھی اب بھارت کے ساتھ وہ ھی فارمولا استعمال کرنا ھے جو یو۔ ایس ۔ ایس ۔ آر میں استعمال کیا اور بھارت کا حال بھی یو۔ ایس ۔ ایس ۔ آر جیسا ھونا ھے۔ آئندہ کا بھارت صرف اتر پردیش ھوگا۔