Wednesday, 22 February 2017

پاکستان میں سے "ملک دشمن نظریاتی دھشتگردی" کا خاتمہ انتہائی ضروری ھے۔

پاکستان وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین پر قائم ھے۔ وادئ سندھ کی تہذیب والی زمین کی درجہ بندی وادئ سندھ کی تہذیب کے پنجابی خطے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے سماٹ خطے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے براھوی خطے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے ھندکو خطے کے طور پر کی جاسکتی ھے۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے اصل باشندے پنجابی ' سماٹ ' براھوی ' ھندکو ھیں۔ جو پاکستان کی آبادی کا 80 فیصد ھیں۔ جنہیں پاکستان کی 20 فیصد آبادی کی وجہ سے الجھن ' پریشانی اور بحران کا سامنا ھے۔ یہ 20 فیصد آبادی والے لوگ ھیں؛ 1. افغانستان سے آنے والے جو اب پٹھان کہلواتے ھیں۔ 2. کردستان سے آنے والے جو اب بلوچ کہلواتے ھیں۔ 3. ھندوستان سے آنے والے جو اب مھاجر کہلواتے ھیں۔

دراصل بھارت نے پاکستان کے قائم ھوتے ھی 1947 سے افغان نزاد خان غفار خان کے ذریعے پشتونستان کی تحریک شروع کروادی تھی۔ جو بعد میں خان غفار خان کے بیٹے خان عبدل ولی خان نے چلائی اور اب اسکے بیٹے اسفندیار ولی کی ذمہ داری ھے۔ جو کہ اکثر و بیشتر پختون کارڈ کا کھیل کھیلتا رھتا ھے۔ جبکہ بلوچستان میں واقع چار ریاستوں میں سے مکران ' خاران اور لسبیلہ کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد چوتھی ریاست قلات کے الحاق کے موقع پر بھارت نے کچھ کردش نزاد بلوچ سرداروں کو ویسے ھی اپنا ایجنٹ بناکر آزاد قلات ریاست کی تحریک چلوادی جیسے 1947 میں خان غفار خان کے پاکستان میں شامل نہ ھونے کی کوشش اور جدوجہد کرنے کے باوجود پٹھانوں کے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شامل ھونے کا فیصلہ کرنے کے بعد سے ھی خان غفار خان کے ذریعے کے پی کے میں پشتونستان کی تحریک چلوا رھا تھا۔

جولائی 1971 میں برٹش بلوچستان ' قلات ' مکران ' خاران اور لسبیلہ کو یکجا کر کے جب بلوچستان کا صوبہ بنادیا گیا اور اسی سال دسمبر میں مشرقی پاکستان الگ ھوکر بنگلہ دیش بن گیا تو بھارت کی آشیرباد سے آزاد قلات ریاست کی تحریک کو آزاد بلوچستان کی تحریک میں تبدیل کردیا گیا۔ بلکہ کے پی کے ' کے پٹھانوں ' بلوچستان کے بلوچوں کے ساتھ ساتھ ' پاکستان اور بھارت کے درمیان ھونے والی 1965 کی جنگ کے بعد بھارت نے 1966 سے سندھ میں بھی سندھودیش کی تحریک کی تیاری کرنا شروع کروادی اور 1971 میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوا کر کامیابی حاصل کرلینے کی وجہ سے بنگلہ دیش کو مثال بنا کر سندھیوں کو سندھودیش بنانے کے لیے ورغلانے کا کام انجام دینے کے لیے 1972 میں عرب نزاد جی۔ ایم سید کے ذریعے باقائدھ سندھودیش تحریک کا آغاز کروا دیا۔ جسے عرب نزاد جی۔ ایم سید کے انتقال کے بعد اب بلوچ نزاد آصف ذرداری "سندھ کارڈ" کے سیاسی کھیل کے ذریعے سندھیوں کے جذبات بھڑکا کر اور پنجاب کو بلیک میل کرکے اقتدار میں آنے ' فوج کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکیاں دے کر وفاق کے ریاستی اداروں کو اپنے جرائم پر گرفت کرنے سے باز رکھنے اور اقتدار میں حصہ حاصل کرنے کے لیے حربے کے طور پر استعمال کرنے میں مصروف رھتا ھے۔

پاکستان کے قیام کے بعد یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے مسلمان ھونے اور پاکستان کو بنانے کا نعرہ مار کر یوپی ' سی پی سے پاکستان آنا شروع کردیا۔ پاکستان اور اسلام کا لبادہ اوڑہ کر پاکستان کی سیاست ' صحافت ' حکومت ' فارن افیئرس ' سول بیوروکریسی ' ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور بڑے بڑے شہروں پر قابض ھونا شروع کردیا۔ پاکستان کے دشمنوں کے ایجنڈے پر عمل کرکے پاکستان کو برباد  کرکے ' پاکستان کی اصل قوموں پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ کو تباہ کرکے اور پاکستان میں لوٹ مار کرنے کے بعد امریکہ ' برطانیہ ' متحدہ عرب امارت کو اپنا مستقل ٹھکانہ بناتے رھے۔ دراصل 1950 میں لیاقت - نہرو پیکٹ کے ھوتے ھی انڈیا نے دورمار پلاننگ کی اور یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو ایک سازش کے تحت پاکستان بھیجنا شروع کیا لیکن پاکستان کی پنجابی ' سندھی ' پٹھان ' بلوچ عوام نے آنکھیں بند کئے رکھیں اور ملک کی ریڑھ کی ھڈی کراچی پر انڈین ایجنٹوں کا قبضہ ھوتا رھا۔ انہوں نے 1986 سے ایم کیو ایم کے نام سے مھاجروں کی سیاسی جماعت بناکر ھڑتالیں ' جلاؤ ' گھیراؤ ' بھتہ خورری ' قتل و غارتگری کرکے پاکستان کی بندرگاہ اور سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی کا امن و امان تباہ کرکے  معیشت کو برباد کرنا شروع کیا اور اب کراچی کو پاکستان سے الگ کرکے جناح پور بنانے میں لگے ھوئے ھیں۔

بھارتی "را" اور دیگر پاکستان دشمن ممالک کے 1947 سے پختونستان کے مشن کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے پٹھان نہ ابتک پختونستان بنوا پائے اور نہ اب فاٹا اور کے پی کے ' کے پختون علاقوں میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔ 1948 سے آزاد بلوچستان کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے بلوچ بھی نہ ابتک آزاد بلوچستان بنوا پائے اور نہ اب بلوچستان کے بلوچ علاقوں میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔ 1972 سے سندھودیش کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے بلوچ نزاد سندھی اور عرب نزاد سندھی بھی نہ ابتک سندھودیش بنوا پائے اور نہ اب دیہی سندھ کے علاقوں میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔ 1986 سے جناح پور کے لیے پالے ھوئے مال کھانے اور مال بنانے والے یوپی ' سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی بھی نہ ابتک جناح پور بنوا پائے اور نہ اب کراچی کے علاقوں میں کامیابی حاصل کر پارھے ھیں۔ لیکن ھر وقت پنجاب ' پنجابیوں ' فوج اور پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے الٹے سلٹے قصے کہانیاں بناکر پروپگنڈہ ضرور کرتے رھتے ھیں جو کہ  “ملک دشمن نظریاتی دھشتگردی” ھے اور اس  “ملک دشمن نظریاتی دھشتگردی” کا سب سے زیادہ نشانہ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان ' سندھ اور کراچی میں مستقل آباد پنجابی بنے ھیں۔ جن کا نہ صرف ماضی میں بے انتہا جانی و مالی نقصان ھوچکا ھے بلکہ اب بھی  “ملک دشمن نظریاتی دھشتگردی” کی وجہ سے خوف و حراص میں مبتلا ھوکر زندگی گذار رھے ھیں۔

پٹھان ' بلوچ اور مھاجر کی عادت بن چکی ھے کہ ایک تو خیبر پختونخواہ ' بلوچستان ' سندھ اور کراچی میں مستقل آباد پنجابیوں کو “ملک دشمن نظریاتی دھشتگردی” کا نشانہ بنا کر خوف و حراص میں مبتلا کرکے رکھا جائے۔ دوسرا ھندکو ' بروھی اور سماٹ پر اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی تسلط برقرار رکھا جائے۔ تیسرا پنجاب اور پنجابی قوم پر الزامات لگا کر ' تنقید کرکے ' توھین کرکے ' گالیاں دے کر ' گندے حربوں کے ذریعے پنجاب اور پنجابی قوم کو بلیک میل کیا جائے۔ چوتھا یہ کہ پاکستان کے سماجی اور معاشی استحکام کے خلاف سازشیں کرکے ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں۔ لیکن اس صورتحال کے باوجود پاکستان کے ریاستی اور حکومتی اداروں کا رویہ مفاھمانہ ' معذرت خواھانہ اور لاپرواھی کا رھا ھے۔ جسکی وجہ سے پٹھان ' بلوچ اور مھاجر نظریاتی دھشتگرد اس  “ملک دشمن نظریاتی دھشتگردی” کا استعمال کرکے پاکستان کا سماجی ' سیاسی ' معاشی اور انتظامی ماحول خراب کرتے رھتے ھیں۔

در اصل بلوچستان کے بلوچ ایریا ' سندھ کے سندھی ایریا میں بلوچ ' بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے پٹھان ایریا میں پٹھان ' سندھ کے مھاجر ایریا میں مھاجر ' مقامی سطح پر اپنی سیاسی ' سماجی اور معاشی بالادستی قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ سماٹ ' ھندکو اور بروھی قوموں پر اپنا راج قائم رکھنا چاھتے ھیں۔ ان کو اپنے ذاتی مفادات سے اتنی زیادہ غرض ھے کہ پاکستان کے اجتماعی مفادات کو بھی یہ نہ صرف نظر انداز کر رھے ھیں بلکہ پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی اور تعاون لینے اور ان کے لیے پَراکْسی پولیٹکس کرنے کو بھی غلط نہیں سمجھتے۔

پختونستان کی سازش نے خیبر پختونخواہ کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' ھندکو کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ پٹھان نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔ آزاد بلوچستان کی سازش نے بلوچستان کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' بروھیوں کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ بلوچ نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔ سندھودیش اور جناح پور کی سازش نے سندھ اور کراچی کے انتظامی اور اقتصادی ماحول کو نقصان پہنچایا ' سماٹ کو سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھا دیا جبکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر نوجوانوں کے مستقبل کو خراب کیا۔ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان ' سندھ اور کراچی میں مستقل آباد پنجابی تو “ملک دشمن نظریاتی دھشتگردی” کا نشانہ بن کر بہت زیادہ خوف و حراص میں مبتلا ھیں۔

اگرچہ پختونستان ' آزاد بلوچستان ' سندھودیش اور جناح پور کی سازشوں کی “ملک دشمن نظریاتی دھشتگردی” کے ذریعے پاکستان کے کسی بھی حصے کی جغرافیائی علیحدگی بھارتی ایجنسی "را" کی طرف سے سپانسرڈ پٹھان ' بلوچ اور مھاجر پاکستان دشمنوں کے لیے ناممکن ھے۔ لیکن پختونستان ' آزاد بلوچستان ' سندھودیش اور جناح پور کی سازشوں کی “ملک دشمن نظریاتی دھشتگردی” کی وجہ سے خیبر خیبر پختونخواہ ' بلوچستان ' سندھ اور کراچی کے سماجی ' معاشی ' انتظامی اور اقتصادی حالات خراب ھیں۔ پٹھان ' بلوچ اور مھاجر نوجوانوں کا مستقبل تباہ ھو رھا ھے۔ ھندکو ' بروھی اور سماٹ سماجی اور معاشی پیچیدگیوں میں الجھ کر رہ گئے ھیں۔ خیبر پختونخواہ ' بلوچستان ' سندھ اور کراچی میں مستقل آباد پنجابی خوف و حراص میں مبتلا ھوکر زندگی گذار رھے ھیں۔ جبکہ پاکستان کے سماجی ماحول ' معاشی معاملات ' انتظامی کارکردگی اور اقتصادی استحکام کو بھی نقصان پہنچ رھا ھے۔

پاکستان میں بھارت کے پالتو مال کے پنجاب ' پنجابیوں ' فوج اور پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے الٹے سلٹے قصے کہانیاں بناکر پروپگنڈہ کرنے والے پٹھان ' بلوچ اور مھاجر "ملک دشمن نظریاتی دھشتگردوں" کی صفائی انتہائی ضروری ھے۔ جبکہ پریس میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر  پٹھان ' بلوچ ' مھاجر سیاستدانوں اور صحافیوں کی طرف سے  "ملک دشمن نظریاتی دھشتگردوں" کے معاون ' مددگار اور سہولت کار بن کر  “ملک دشمن نظریاتی دھشتگردی” کا پرچار کرنے اور “ملک دشمن نظریاتی دھشتگردی” کا دفاع کرنے پر تو فوری پابندی عائد کرنے کی ضرورت ھے اور ایسے پٹھان ' بلوچ ' مھاجر سیاستدانوں اور صحافیوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی ھونی چاھیئے۔ اسکے علاوہ پٹھان ' بلوچ اور مھاجر "ملک دشمن نظریاتی دھشتگردوں" کی طرف سے پنجاب ' پنجابیوں ' فوج اور پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے الٹے سلٹے قصے کہانیاں بناکر کیے جانے والے پروپگنڈہ کا مقابلہ کرنے کے لیے تاریخ ' حقائق اور اعداو و شمار کے ساتھ مدلل جواب دینے کے لیے ریاستی اور حکومتی سطح پر انتظام ھونا چاھیئے۔