Thursday, 9 February 2017

سرائیکی کے نام پر پنجابیوں کو کون لوٹنا چاھتا ھے؟

پنجاب میں آباد ھونے والے بلوچوں ‘ پٹھانوں اور عربی نزاد مخدوموں ‘ گیلانیوں ‘ قریشیوں ‘ عباسیوں کو پنجابیوں  نے مسلمان سمجھ کر عزت بھی دی اور پنجاب میں رھنے کی جگہ بھی دی۔ زمین اور جائیداد بھی دی۔ کیا پتہ تھا کہ جنوبی پنجاب میں آباد ھونے والے بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی ' مسلمان کے روپ میں ڈاکو نکلیں گے۔

بلوچ بھی اپنے اپنے علاقوں سے مار کھا کھا کر پنجاب آ آ کر پنجابیوں سے انسانی ھمدردی کے نام پر پناہ لیتے رھے اور مغلوں کے پنجاب پر قبضے کے وقت مغلوں کے خلاف پنجابیوں کی مزھمت کی وجہ سے مغلوں سے جاگیریں لے کر مغلوں کے وفادار بن کر جنوبی پنجاب پر قابض ھونے لگے۔

پٹھان بھی مسلمان کے نام پر ھندوستان کو لوٹنے کے لیے حملہ کرنے والے ترک مسلمانوں کی فوج میں شامل ھو کر  پنجاب میں آ آ کر آباد ھوتے گئے اور جب ان کو ایرانی حملہ آور نادر شاہ افشار اور افغانستان کی ریاست کو قائم کرکے درانی سلطنت قائم کرنے والے احمد شاہ ابدالی کی سرپرستی حاصل ھوئی تو پنجاب پر قابص بھی ھو گئے۔ پنجاب میں لوٹ مار بھی کرنے لگے۔ جسکے بعد مھاراجہ رنجیت سنگھ نے نہ صرف ان پٹھانوں کا لاھور ' ملتان اور پشاور پر سے قبضہ ختم کروایا بلکہ افغانستان کے علاقے میں بھی ان پٹھانوں کو دبا کر رکھا تاکہ یہ پٹھان دوبارہ پنجاب میں داخل ھوکر لوٹ مار اور قبضہ گیری نہ کر سکیں۔

1839 میں مھاراجہ رنجیت سنگھ کے انتقال کر جانے اور 1849 میں انگریزوں کے پنجاب پر قبضے کے دور میں ان بلوچوں ‘ پٹھانوں اور عربی نزاد مخدوموں ‘ گیلانیوں ‘ قریشیوں ‘ عباسیوں کو پِھر سے پنجاب میں لوٹ مار کرنے ' قبضہ گیری کرنے ' پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف بھرپور سازشیں کرکے  "سیکولر پنجاب کو ریلیجیس پنجاب" میں تبدیل کرنے کے لیے پنجابی مسلمانوں کو سکھ پنجابیوں اور ھندو پنجابیوں سے بدظن اور متنفر کرنے کی سازشیں کرنے کا موقع مل گیا۔ جس پر انگریز سرکار نے انعام کے طور پر جنوبی پنجاب میں ان کو جاگیریں اور دریا کے کچے کی زمینیں دیں۔

جنوبی پنجاب کے علاقے بہاول پور میں آباد عربی نزاد قبیلے عباسی کے نواب ' نواب آف بہاول پور نے انگریز کے ساتھ "وفادار" نبھائی- لہذا انگریز سرکار نے پاکستان کے قیام تک بہاول پور کی ریاست کا والی عربی نزاد قبیلے عباسی کو بنائے رکھا۔

جنوبی پنجاب کے علاقے ملتان میں آباد عربی نزاد قبیلے قریشی کے سربراہ اور گدی نشین مخدوم شاہ محمود نے رائے احمد کھرل کی انگریزوں کے خلاف پنجاب کی آزادی کی تحریک میں انگریز کمشنر کومقامی آبادی کی بے چینی کے متعلق معلومات اور اطلاعات پہنچائیں اور سرکاری فوج کی مدد کے لیے پچیس سو سواروں کی ایک ملتانی پلٹن تیار کر کے دی- لہذا انگریزوں نے اس “ خدمت “ کے عوض اسے قیمتی جاگیر' نقد انعام اور آٹھ کنویں زمین عطاء کی-

جنوبی پنجاب کے علاقے ملتان میں آباد عربی نزاد قبیلے گیلانی کے سربراہ اور گدی نشین مخدوم سید نور شاہ نے انگریز سرکار کا ساتھ دیا۔ لہذا انگریز سرکار نے اس “ خدمت “ کے عوض خلعت اور سند سے نوازا اور بعد میں کاسہ لیسی کے صلے گیلانی خاندان کو جاگیریں بھی ملیں-

جنوبی پنجاب کے علاقے ملتان میں آباد پٹھان قبیلے کے گردیزی خاندان نے انگریز سرکار کا بھرپور ساتھ دیا۔ لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی " مدد " کر نے کے صلے میں جاگیریں عطاء کیں-

جنوبی پنجاب کے علاقے خان گڑھ میں آباد پٹھان قبیلے کے نوابزادگان کے جد امجد اللہ داد خان نے انگریزوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کو کچلنے میں انگریزوں کا بھرپور ساتھ دیا- لہذا نگریز سرکار نے اس “ خدمت “ کے عوض اسے دو بار خصوصی خلعت دی اور انعام میں جاگیریں عطاء کیں-

جنوبی پنجاب میں آباد بلوچ قبیلے مزاری کے سردار امام بخش مزاری نے کھل کر انگریزوں کا ساتھ دیا- لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی " مدد " کر نے کے صلے میں اسے سر کا خطاب دیا اور جاگیریں عطا کیں-

جنوبی پنجاب میں آباد بلوچ قبیلے دریشک کے سردار بجاران خان دریشک نے انگریزوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کے خلاف لڑنے کے لیے دریشکوں کا ایک خصوصی دستہ انگریزوں کے پاس بھیجا- لہذا انگریز سرکار نے انگریز کی " مدد " کر نے کے صلے میں دریشکوں کو جاگیریں عطا کیں-

یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی پاکستان بننے کے بعد ایوب خان اور یحییٰ خان کے دور میں سندھ اور بلوچستان کے بلوچوں ' سرحد (موجودہ خیبر پختونخواہ) کے پٹھانوں ' سندھ کے عربی نزاد مخدوموں ‘ گیلانیوں ‘ جیلانیوں ' قریشیوں ‘ عباسیوں اور کراچی کے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو اپنے ساتھ مال کر اور مغربی پاکستان میں ون یونٹ قائم کروا کر حکومت کرتے رھے اور بنگالیوں کی گالیاں پنجابیوں کو پڑتی رھیں۔ اب یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی ' سندھیوں کی پارٹی پی پی پی کی سازش کا حصہ بن کر اور سرائیکی کا روپ دھار کر ایک بار پِھر پنجاب اور پنجابیوں کو لوٹنے کے چکر میں ھیں۔

یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیردار پاکستان کے قیام سے پہلے پنجابیوں کو مسلمان پنجابیوں اور غیر مسلم پنجابیوں میں تقسیم کرنے کے لیے مذھبی جذبات کو اشتعال دے کر آپس میں لڑواتے رھتے تھے۔ اب یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیردار جنوبی پنجاب میں سرائیکی سازش کر رھے ھیں تاکہ پنجاب میں ملتانی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں اور عام بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی آبادگاروں کو آپس میں پنجابی اور سرائیکی کی بنیاد پر لڑوا کر جنوبی پنجاب پر اپنا قبضہ برقرار اور اپنی جاگیروں کو محفوظ رکھ سکیں۔ سرائیکی کا لفظ 1962 میں وجود میں لاکر "سرائیکی" کے نام پر پنجاب میں آباد ھونے والے بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیرداروں نے سازش کرکے ملتانی پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں اور ریاستی پنجابیوں کی شناخت ختم کرکے ان کو اپنا سماجی ' سیاسی اور معاشی غلام بنایا ھوا ھے۔

دراصل جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں پر جنوبی پنجاب میں مقیم بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیردار اپنی بالادستی قائم کر تے چلے آرھے تھے۔ جس کا پنجابی قوم نے بروقت تدارک نہ کیا۔ جس کا نتیجا یہ نکلا کہ بالادستی کو قائم کرنے کے بعد اب یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیردار اپنی بالادستی کو مستقل شکل دینا چاھتے ھیں۔ اسکے لئے پنجاب کو "سرائیکی" یا "جنوبی پنجاب" کے نام پر تقسیم کرنے اور پنجابی قوم کو سیاسی ' سماجی' معاشی اور انتظامی مشکلات میں مبتلا کرنے میں مصروف ھیں۔

بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیردار پنجاب کے اندر "سرائیکی سازش"میں اسلیے مصروف ھیں تاکہ برٹش گورنمنٹ سے ملنے والی جاگیروں کو مستقل طور پر محفوظ  کرنے ' پنجاب کے دریاؤں کے کچے کے علاقوں پر کیے گئے قبضوں کو مستقل کرنے اور ملتانی پنجابیوں ' ریاستی پنجابیوں ' ڈیرہ والی پنجابیوں پر اپنا سماجی ' سیاسی ' معاشی تسلط برقرار رکھنے کے لیے "سرائیکی" یا " جنوبی پنجاب" کے نام سے صوبہ بنوا کر اس کی حکومت یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیردار خود سنبھال لیں تاکہ مقامی اور صوبائی معاملات میں ان بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیرداروں کے ظلم اور زیادتیوں کو صوبائی حکومت کے انہی بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیرداروں کے پاس ھونے کی وجہ سے انکو تحفظ بھی مل سکے اور یہ بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیردار پنجاب ' پنجابیوں اور وفاقی حکومت کو مزید بلیک میل بھی کرسکیں۔

جنوبی پنجاب میں رھنے والے سارے ھی بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی "سرائیکی سازش" کا حصہ نہیں ھیں۔ کیونکہ پنجاب میں آباد عام بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی پنجابی بولتا ھے ' پنجابی رسم و رواج اختیار کیے ھوئے ھے اور خود کو پنجابی کہلواتا ھے۔ بلکہ پنجابی ھونے پر فخر کرتا ھے۔ لیکن بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیردار پنجاب میں "سرائیکی سازش" میں مصروف ھیں۔


دوسری طرف ھندوستان عرصہ دراز سے افغانستان اور سینٹرل ایشن ممالک تک پنہچنے کے درینہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان کے جنوبی علاقے سے راستہ بنانے میں مصروف رھا ھے اور پنجاب مخالف ھر عمل میں بڑہ چڑہ کر حصہ لیتا رھا ھے- جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے بلوچ ‘ پٹھان ‘ مخدوم ‘ گیلانی ‘ عباسی ‘ قریشی جاگیرداروں کے جنوبی پنجاب پر قبضہ کرنے کی خواھش کی وجہ سے ھندوستان کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے میں آسانی میسرآئی۔ اس لیے "سرائیکی سازش" کرنے والوں کو پسِ پردہ ھندوستان کا بھرپور تعاون حاصل رھتا ھے۔ جبکہ سنندھیوں کی سیاسی پارٹی ' پیپلز پارٹی نے بھی پنجاب میں اپنے لیے نظریاتی کے بجائے نسلی اور لسانی سیاست کو فروغ دینے کے آسان طریقے کو اختیار کرکے اور "سرائیکی سازش" کی سرپرستی  کرکے مخدوم ‘ جیلانی ‘ عباسی ‘ بلوچ ‘ پٹھان ' قریشی جاگیرداروں اور ھندوستان کے عزائم کو بھرپور سھارا دیا۔